پوری قوم قانون کی حکمرانی کے لیے مارچ کرے گی ،پی سی او کےتحت حلف اٹھانے والوں نے مجھے نااہل قرار دیا:نواز شریف

پوری قوم قانون کی حکمرانی کے لیے مارچ کرے گی ،پی سی او کےتحت حلف اٹھانے والوں ...
 پوری قوم قانون کی حکمرانی کے لیے مارچ کرے گی ،پی سی او کےتحت حلف اٹھانے والوں نے مجھے نااہل قرار دیا:نواز شریف

  

کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب ،سندھ ،کوئٹہ اور خیبر پختونخواہ سے پوری قوم قانون کی حکمرانی کے لیے مارچ کرے گی ، پاکستان میں 70سالوں سے پلس مائنس کا کھیل ہو رہا ہے ،2018میں فائنل فیصلہ ہو گا جس کو پھر کوئی تبدیل نہ کر سکے گا ،نہ پانچ بندے اور نہ ہی مارشل لا , کوئٹہ کی عوام کو بھی ووٹ کے تقدس کے لیے ساتھ دینا ہو گا تاکہ ستر سالہ تاریخ کو دوبارہ دہرایا نہ جائے ,جن لوگوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھائے وہ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف اہل نہیں ہیں.

ڈیلی پاکستان کا یو ٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

کوئٹہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سربراہ محمد  نواز شریف نے کہا کہ چار سال پہلے تک ملک میں لوڈ شیڈنگ تھی ،لوگ احتجاج کرتے تھے ،جنہوں نے اندھیرے پیدا کیے کیا کبھی کسی نے ان سے حساب مانگا ؟ نواز شریف سے احتساب کے نام پر انتقام لیا جا رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے چار سالوں کے دوران کرپشن کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا لیکن نواز شریف کو اس لیے نکال دیا کیو نکہ اس نے کرپشن تو نہیں کی لیکن اپنے بیٹے کی کمپنی سے پیسے نہیں لیے ۔اس بات پر جلسے میں موجود لوگوں نے شیم شیم اور فیصلہ نا منظور کے نعرے لگائے تو نواز شریف نے بھی ان نعروں کی طرف لوگوں کی توجہ دلائی ۔نواز شریف نے کہا کہ فیصلہ ان لوگوں نے دیا جنہوں نے ڈکٹیٹروں کو حلف دیے اور پی سی او کے تحت حلف اٹھائے ۔انہوں نے طنزیہ اندازمیں کہا کہ کیا فیصلہ کیا آپ نے ؟ اور کس طرح سے 6 بہترین ہیرے چن کر تلاش کیے جن کی جے آئی ٹی بنائی ؟،اگر کوئی فیصلہ دینا تھا تو اس بات پر دیتے کہ نواز شریف نے 5ہزار روپے سرکاری خزانے سے کھائے ہوں ،میں بھی مان کر گھر چلا جاتا لیکن اگر کوئی پیسہ نہیں کھا یا تو کیسے ایک وزیراعظم کو بے دخل کر سکتے ہیں ؟،ملک ایسے ہی فیصلوں سے برباد ہوتے ہیں اور ایسے ہی فیصلوں سے افراتفری اور انتشار پھیلتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ مائنس ون کا سلسلہ چلانے والے سن لیں جنہیں عوام پلس کردیں،انہیں کوئی کیا مائنس کرے گا ،مائنس ون کوئی نہیں مانے گا ۔

عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کرکٹر خان نے ریپڈ بس کو جنگلہ بس کہتے تھے ،اب وہ یہ ہی میٹروبس منصوبہ پشاور میں بنا رہے ہیں لیکن اس سے میٹرو نہیں بن سکی ،ادھر شہباز شریف نے لاہور ،ملتان اور راولپنڈی میں میٹرو بس بنا دی ۔انہوں نے اعلان کیا کہ کوئٹہ میں بھی میٹرو بس بنائیں گے ،اب کوئٹہ میں مثالی ترقی ہو گی.

نواز شریف نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ،ثنا اللہ زہری اور میں ،ہم سب ایک ہیں اور ہمارا ایک نظریاتی تعلق ہے ،محمود خان اچکزئی سے وعدہ کرتا ہوں کہ قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کی بہادری ،محبت اور خلوص کا قائل ہوں ،آئین کی پاسداری ان کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھر ی ہوئی ہے ،بلوچستان کی عوام نے کبھی پاکستان کا پرچم جھکنے نہیں دیا ،اس لیے انہیں سلام پیش کرنے آیا ہوں ۔ان کا کہنا تھا کہ چار سال پہلے بلوچستان میں کچھ بھی نہیں تھا لیکن آج یہاں سڑکیں بن رہی ہیں ،اب کوئٹہ اسلام آباد سے ملنے جا رہا ہے۔بلوچستان کو سندھ ،پنجاب ، خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان سے ملا رہے ہیں،پاکستان میں قانون کی حکمران ی صحیح طرح قائم ہو جائے پھر ترقی ہفتوں اور گھنٹوں میں ہو گی ۔نواز شریف نے کہاکہ بلوچستان میں سوئی گیس گلستان تک پہنچی تو مجھے نکا ل دیا گیا لیکن اس کو چمن تک پہنچائیں گے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں