فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 288

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 288
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 288

  

اس فلم کے موسیقار ناشاد اور نغمہ نگار شیون رضوی تھے۔ سچ پوچھئے تو پاکستان کے عام لوگوں نے اس سے پہلے شیون رضوی کا نام ہی نہیں سنا تھا۔ سب ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ یہ شیون رضوی کون صاحب ہیں؟ کہاں کے رہنے والے ہیں۔ ان کا حدود اربعہ کیا ہے؟ مگر یہ سب تسلیم کرتے تھے کہ شیون رضوی نے فلم ’’سالگرہ‘‘ کے گانے بہت اچھّے اور برمحل لکھے ہیں۔ ہر نغمہ سچویشن کے مطابق بلکہ سچویشن کی صحیح ترجمانی اور وضاحت کرتا ہے۔ یہ پاکستان میں شیون رضوی کی پہلی فلم تھی جس میں انہوں نے سب کو جھنجوڑ کر اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔ ہر طرف اسی فلم کے گانوں کا چرچا تھا۔

ناشاد صاحب لاہور آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کہ حضرت یہ شیون رضوی کون صاحب ہیں؟

وہ حیران ہو کر بولے ’’ارے میاں کیا بات کر رہے ہو۔ تم کیسے صحافی ہو کہ شیون رضوی کو نہیں جانتے!‘‘

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 287  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہم نے اپنی لا علمی کا اعتراف کر لیا تو انہوں نے ہماری معلومات میں اضافہ کیا وہ واقعی ہماری لاعلمی کا ثبوت تھا۔ یہ 1968ء کا ذکر ہے کہ شیون رضوی صاحب پاکستان آئے تھے۔ مگر اس سے پہلے وہ بمبئی کی فلمی دنیا میں بہت غلغلہ برپا کر چکے تھے۔ بمبئی میں سیّد شوکت حسین رضوی کی فلم ’’زینت‘‘ جس نے سارے ہندوستان کو دیوانہ کر دیا تھا اس کے کچھ گیت بھی شیون رضوی نے لکھے تھے۔

آندھیاں غم کی یوں چلیں

باغ اُجڑ کے رہ گیا

اور بلبلو مت رو یہاں آنسو بہانا ہے منع

شیون صاحب ہی کے لکھے ہوئے تھے اور ہر ایک زبان پر تھے۔

فلم ’’سالگرہ‘‘ میں شیون صاحب کے یہ نغمے تو جیسے امر ہو کر رہ گئے ہیں۔

1۔ زلف کو تیری بہاروں کا سلام آیا ہے۔

یہ نغمہ مہدی حسن کی آواز میں ناشاد صاحب نے اپنی موسیقی میں بے حد خوبصورتی سے موزوں کیا تھا۔

2۔ میری زندگی ہے نغمہ‘ میری زندگی ترانہ

3۔ لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے

یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے

ان کے آخر الّذکر دونوں نغموں کو ملکہ ترنم نے اپنی آواز کا سحر پھونک کر لازوال بنا دیا تھا۔

شیون رضوی صاحب کے بارے میں مزید کھوج لگائی اور جب وہ لاہور آئے تو ان سے بھی معلومات حاصل کیں تو اپنی کم علمی پر ماتم کرنے کو جی چاہا۔

شیون رضوی فلمی نغمہ نگاری میں ایک بہت اہم اور ممتاز نام ہے۔ وہ ابتدائی بولنے والی فلموں کے زمانے سے ہی فلمی گانے لکھ رہے تھے۔ اس حساب سے تو بہت بڑی عمر کے تھے لیکن دیکھنے میں ادھیڑ عمر ہی لگتے تھے۔ درمیانہ قد‘ دبلا پتلا ڈیل ڈول‘ سانولا رنگ‘ گھنے بال جن میں کہیں کہیں سفیدی چمک رہی تھی۔ ناک نقشہ موزوں‘ گفتگو نہایت شائستہ اور ادبی رنگ لئے ہوئے۔ بات کرتے یا ہنستے تھے تو اپنا ہاتھ مٹھّی بنا کر اپنے منہ کے آگے رکھ لیتے تھے۔ ایک دوست کہتے تھے۔ شیون صاحب ہر وقت مائیکرو فون ہاتھ میں تھامے رہتے ہیں۔ یہ اس لحاظ سے صحیح تھا کہ ان کا منہ پر ہاتھ رکھنے کا انداز ایسا ہی تھا جیسے کوئی مائیکرو فون تھامے خطاب کر رہا ہے۔ یہ شیون صاحب کی دیرینہ عادت تھی۔ پان کھانے کے شوقین تھے اور غالباً یہی ان کا واحد شوق تھا۔ شاعری تو خیر ان کا اوڑھنا بچھونا ہی تھی۔ شعرو شاعری اور ادبی گفتگو ان کے مشاغل تھے فلموں سے پرانا رشتہ تھا اور وہ فلمی دنیا کے ماحول سے بہت پرانے زمانے سے واقف اور مانوس تھے۔

بولتی فلموں کا دور شروع ہوتے ہی انہوں نے فلمی نغمے لکھنے شروع کر دئیے تھے۔ اس لحاظ سے وہ فلمی دنیا میں آنے والے سب سے پہلے نغمہ نگار تھے۔ زخمی کانپوری صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ باقی تمام چھوٹے بڑے نغمہ نگار فلمی دنیا میں شیون رضوی کے بعد وارد ہوئے تھے۔

جب فلموں میں بولنے کا رواج نہ تھا اس وقت گراموفون کمپنیوں کا دور تھا۔ غزلیں اور قوّالیاں اس زمانے میں بہت مقبول ہوا کرتی تھیں۔ فیاض ہاشمی صاحب بھی اسی زمانے کی یادگار ہیں ۔ وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اُس زمانے میں گراموفون کمپنیوں کے لئے بہت سی قوّالیاں لکھی تھیں جو بے حد پسند کی گئیں۔

بولتی فلموں کا دور آیا تو مکالموں کے ساتھ گانوں کی بھی ضرورت پیش آئی۔ شیون صاحب نے بھی فلمی گیت لکھنے شروع کر دئیے۔ شاعر تھے۔ ان کیلئے فلمی گیت لکھنا کون سا مشکل کام تھا۔ وہ بہت ذہین و زود نویس تھے۔ ان کی سب سے پہلی فلم کا نام ’’زندہ لاش‘‘ تھا۔ اس دور میں لکھنے والوں میں بیشتر تُک بند شاعر اور بے تُکے منشی نما رائٹر ہوتے تھے۔ شیون صاحب اپنے ساتھ شاعری کا تحفہ لے کر آئے تو انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ وہ زمانہ ایسا تھا کہ شعرا گیتوں میں ہندی الفاظ بہت فراوانی سے استعمال کیا کرتے تھے۔ مگر شیون صاحب نے ایک نئے انداز کو رواج دیا۔ انہوں نے غزل نما قوّالیاں لکھیں جن میں عربی فارسی کے خوبصورت اور مُترنّم الفاظ استعمال کئے۔ اس طرح انہوں نے اپنے لئے لئے ایک نیا اسلوب اور انداز وضع کر لیا جسے بہت پسند کیا گیا۔

ماسٹر غلام حیدر نے بمبئی میں فضلی برادران کی فلم ’’شمع‘‘ میں موسیقی بنائی تھی تو شیون صاحب کا لکھا ہوا یہ گیت سپرہٹ ہوگیا تھا۔

گوری چلی پیا کے دیس

شوکت حسین رضوی کی یادگار فلم ’’زینت‘‘ میں ان کے دو نغمات کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ ان نغموں نے سارے ملک کو پاگل کر دیا تھا۔ ’’زینت‘‘ اس زمانے کی انتہائی سپرہٹ فلم تھی۔ انہوں نے بمبئی کی اور بھی کئی فلموں میں نغمات تحریر کئے جو مقبول بھی ہوئے۔ وہ دراصل درویش صفت آدمی تھے۔ شراب و کباب کی محفلوں کے عادی نہ تھے۔ نہ خوشامد کر سکتے تھے اور نہ ہی فلمی رواج کے مطابق میل جول بڑھانے کے انداز جانتے تھے۔ ان کی واحد خصوصیت ان کی شاعری تھی۔ اس لئے سب سے الگ تھلگ رہنے کے باوجود انہیں اچھّے فلم سازوں کی فلموں میں گانے لکھنے کا موقع ملتا رہتا تھا اور وہ گیت دُھن اور آواز کی آمیزش سے خوبصورت نغمے تخلیق کرتے رہتے تھے۔

ایس مکرجی کی فلم ’’ایک مسافر ایک حسینہ‘‘ میں مجروح سلطان پوری کے نغمات بھی تھے مگر شیون رضوی کا لکھا ہوا یہ گیت بھی سُپرہٹ ہوا تھا۔

ہم کو تمہارے عشق نے کیا کیا بنا دیا

یہ گیت محمد رفیع نے اپنی میٹھی اور سُریلی آواز کی بدولت حسین تر بنا دیا تھا۔ محبوب صاحب کی پرانی کلاسیکی فلم ’’الہلال‘‘ میں بھی انہوں نے ایک قوّالی لکھی تھی جو اسماعیل آزاد قوّال نے گائی تھی اور بہت داد سمیٹی تھی۔

ہمیں تو لوٹ لیا مل کے حُسن والوں نے

گورے گورے گالوں نے‘ کالے کالے بالوں نے

مختصر یہ کہ وہ کبھی کسی ایک موسیقار سے وابستہ نہیں ہوئے۔ سبھی کے ساتھ کام کیا اور شاعری کا لوہا منوایا۔ بھارت میں ان کی اور بھی کئی سُپرہٹ فلمیں اور مقبول گانے ہیں جن کی فہرست طویل ہے۔

شیون صاحب 1968ء میں پاکستان آئے تھے۔ یہاں انہوں نے جس پہلی فلم کے لئے گانا لکھا وہ ’’سالگرہ‘‘ تھی۔ دوسری فلم ایم صادق کی لاہور میں بننے والی ’’بہارو پھول برساؤ‘‘ تھی۔ اس کے موسیقار بھی ناشاد تھے۔ یہ فلم صادق بابو خود مکّمل نہ کرا سکے تھے اور ہارٹ فیل ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔ بعد میں حسن طارق نے اس کو مکمل کیا تھا۔ اس فلم میں شیون رضوی کے لکھے ہوئے یہ نغمات کون بھول سکتا ہے۔

1۔ میرے دل کی ہے آواز کہ بچھڑا یار ملے گا (مسعود رانا)

2۔ اوچندا رے چندا‘ میں کیسے کہوں (ملکہ ترنم نورجہاں)

3۔ یہ گھر میرا گلشن ہے‘ گلشن کا خدا حافظ (ملکہ ترنم نورجہاں)

پاکستان میں انہوں نے پالکی‘ رم جھم اور’’ سہرے کے پھول‘‘ کے گیت بھی لکھے۔

کراچی سے وہ لاہور آئے تو پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ بہت وضع دار اور نستعلیق قسم کے آدمی تھے۔ سر کے بالوں میں مہندی لگاتے تھے۔ آنکھوں میں سُرمہ‘ ڈاڑھی مونچھ صفا چٹ تھی۔ سمارٹ اور کم عمر نظر آتے تھے۔ ہمارے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی تو خاصی بے تکلّفی ہوگئی حالانکہ عمر میں فرق تھا لیکن نہ تو ان کی شخصیت سے ظاہر ہوتا تھا اورنہ ان کی باتوں سے اس کا اظہار ہوتا تھا۔ گپ شپ شروع ہوتی تو دیر تک شعر و شاعری‘ فلم‘ موسیقی‘ ادب اور سیاست کا سلسلہ چلتا رہتا۔ وہ بہت سوچ سمجھ کر کسی کے بارے میں رائے ظاہر کرتے تھے۔ دوسرے نغمہ نگاروں اور ہم عصروں کا نام ادب اور احترام سے لیا کرتے تھے۔ ان کی عادت تھی کہ اپنی بات ۔۔۔ ’’حضور‘‘ سے شروع کرتے تھے۔ یہ عادت مصنّف و ہدایت کار عرش لکھنوی کی بھی تھی۔ ان کا فقرہ بھی ’’حضور‘‘ کے بغیر مکّمل نہیں ہوتا تھا۔ لیکن عجیب بات ہے ،شیون رضوی شہرت کی چکا چوند سے گریز کرتے جس سے وہ بھرے میلے میں تنہا ہوگئے تھے۔

(جاری ہے , اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید : فلمی الف لیلیٰ