القاعدہ اور النصرہ فرنٹ کے درمیان ٹھن گئی، الظواہری نے سنگین ترین الزام لگادیا

القاعدہ اور النصرہ فرنٹ کے درمیان ٹھن گئی، الظواہری نے سنگین ترین الزام ...
القاعدہ اور النصرہ فرنٹ کے درمیان ٹھن گئی، الظواہری نے سنگین ترین الزام لگادیا

  

دبئی(این این آئی)ماضی میں القاعدہ سے وابستہ رہنے والے عسکری گر وپ ھیہ تحریر الشام (سابق النصرہ محاذ) اور القاعدہ کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا۔تازہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب تحریر الشام نے اردن سے تعلق رکھنے والے اپنے متعدد سابق رہ نماؤں کو حراست میں لیا۔ ان کی گرفتاریاں اس وقت عمل میں لائی گئیں جب یہ خبریں آئیں کہ وہ شام میں القاعدہ کی کوئی تنظیم تشکیل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سابق اردنی جنگجوؤں کی گرفتاریوں پر القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے ایک بیان میں تحریر الشام کی پالیسی پر کڑی تنقید کی اور الزم عاید کیا کہ تحریر الشام خواتین کو گرفتار اور بچوں سے تفتیش کی مرتکب ہو رہی ہے۔اپنے ایک صوتی پیغام میں الظواہری نے کہا کہ ان کے سوا کسی اور کی بیعت کا کوئی جواز نہیں۔ نہ النصرہ اور نہ کوئی اور ان کی جگہ لے سکتا ہے۔ وہ النصرہ فرنٹ کی خفیہ بیعت کو قبول نہیں کریں گے۔الظواہری نے سابق النصرہ فرنٹ کی طرف سے جنگجوؤں سے بیعت لینے کو’مہلک غلطی‘ قرار دیا اور کہا کہ جن لوگوں نے القاعدہ کے ساتھ بیعت اور وفاداری کا اعلان کیا ہے وہ کسی اور کی بیعت نہیں لے سکتے۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ بد عہدی کا مرتکب ہو گا۔تحریر الشام یا النصرہ فرنٹ کے سربراہ ابو محمد الجولانی کے نام اپنے پیغام میں ایمن الظواہری نے کہا کہ جب سے آپ القاعدہ سے الگ ہوئے ہیں میں نے تنازع پیداکرنے والی باتوں کے بجائے مفاہمت اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ موجودہ حالات ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ الجھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ میں ذرائع ابلاغ سے دور رہ کر باہمی تنازعات کو افہام وتفہیم سے حل کرنا چاہتا ہوں اور ہم سب کا مقصد امریکیوں کے خلاف اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہے۔

ڈیلی پاکستان کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

امریکی بمباری اور دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرنے سے انہیں نقصان نہیں پہنچ سکتا مگر ان کے باہمی اختلافات ان کے مشترکہ عزائم میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔الظواہری کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے ساتھ بیعت پر قائم رہنے والوں کو گرفتار کرنا۔ ان سے لڑنا اور ان پر عرصہ حیات تنگ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔القاعدہ کا کہناتھا کہ وہ دو شرطوں پر النصرہ سے تنظیمی رابطے ختم کرنے کے لیے تیار ہے کہ اگر وہ شام کے مجاھدین کو متحد کرے اور اسلامی حکومت کے قیام کے لیے جدو جہد شروع کرے۔ القاعدہ مجاھدین کی قوت کو تقسیم کرنے کی قائل نہیں۔

مزید : بین الاقوامی