حافظ سعید نے آئندہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ،بیک چینل ڈپلومیسی سے مسئلہ کشمیر کا ہمیشہ نقصان ہوا:امیر جماعت الدعوۃ

حافظ سعید نے آئندہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اعلان کر ...
حافظ سعید نے آئندہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ،بیک چینل ڈپلومیسی سے مسئلہ کشمیر کا ہمیشہ نقصان ہوا:امیر جماعت الدعوۃ

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعیدنے آئندہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ ملی مسلم لیگ کی سیاسی جدوجہد کی تائید کرتا ہوں ، سال 2017ءکشمیر کے نام کرنے پر نظربند کیا گیا، 2018ءبھی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے نام کرتے ہیں،  پورے ملک میں کشمیرکانفرنسوں،جلسوں اور سیمینار ز کا انعقاد کیا جائے گا،بھارت چاہتا ہے ہم کشمیر کی بات کرنا چھوڑ دیں، حکومت پر دباﺅ بڑھایا جارہا ہے،حالات خواہ کیسے بھی کیوں نہ ہوں؟مظلوم کشمیریوں کی مددوحمایت جاری رکھیں گے،بیک چینل ڈپلومیسی سے مسئلہ کشمیر کا ہمیشہ نقصان ہوا ہے،میری رہائی پر بھارت کو بہت تکلیف ہوئی ، ا نڈیا میں اس وقت بھی ماتم کی کیفیت ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:پشاور حملے کے دوران سلیپنگ سوٹ میں ہی آپریشن کی کمانڈ کرنے والے مرد مجاہد ایس ایس پی سجاد خان منظرعام پر آ گئے، باکمال حوصلہ دکھانے کے بعد لاجواب بات کہہ دی، پوری قوم کو سیلیوٹ کرنے پر مجبور کر دیا

وہ مرکز القادسیہ چوبرجی میں سینئر کالم نگاروں سے نشست کے دوران گفتگو کر رہے تھے، اس موقع پر جماعۃ الدعوۃ کے ترجمان یحییٰ مجاہد اور احمد ندیم اعوان بھی موجود تھے۔حافظ محمد سعید  نے کہاکہ برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی کشمیر عروج پر تھی، میں نے اسلام آباد میں حریت کانفرنس کے مرکزی قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران سال 2017ءکو کشمیر کے نام کیا اور ملک گیر سطح پر بڑے پروگراموں کا آغاز کیا تو انڈیا کو یہ بات برداشت نہیں ہوئی اور اس نے امریکہ کے ذریعے پاکستان پر دباﺅ بڑھانا شروع کر دیا،  میں سمجھتاہوں کہ یہی وہ چیز تھی جو میری نظربندی کی بنیاد بنی، پاکستان میں میری اور کشمیر میں حریت قائدین کی نظربندیاں بین الاقوامی ایجنڈے کا حصہ تھی، اس سے جدوجہد آزادی کشمیر کا بہت نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میری رہائی پر بھارت میں صف ماتم کی کیفیت ہے ، اترپردیش سمیت دیگر علاقوں میں بھارتی مسلمانوں کی جانب سے خوشیاں منائی گئیں ۔ انڈیا میں پاکستانی پرچموں کا لہرایا جانا میں تحریک آزادی کشمیر کیلئے اچھی بات سمجھتاہوں، بھارت نے کشمیر میں ظلم بند نہ کیا تو کشمیر کی تحریک کمزور ہونے کی بجائے اور زیادہ پھیلے گی، انڈیا بین الاقوامی سطح پر زبردست لابنگ کر رہا ہے، ہماری وزارت خارجہ کو بھی دنیا بھر میں اپنے سفارتی ڈیسک کو متحرک کرتے ہوئے انڈیا کی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ اس سوال کے جواب میں کہ آپ ملی مسلم لیگ کی سیاست کو کیسے دیکھ رہے ہیں تو حافظ محمد سعیدکا کہنا تھا کہ ملی مسلم لیگ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر ملک میں سیاسی کردار ادا کر رہی ہے، میں ان کی تائید کرتا ہوں، الیکشن لڑنے کے بار ے میں سوچ بچار کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلے موجود ہیں کہ جماعۃ الدعوة کیخلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہے اور اسے ملک میں رفاہی ، فلاحی و سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی مکمل آزادی حاصل ہے، حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ریویو بورڈ نے بھی صاف طور پر کہا ہے کہ حکومت میرے کیخلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی اسی بنیاد پر میری رہائی کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پرہمیں یکسو ہو کر کام کرنا چاہیے، ہمیں آپس کے اختلافات کا شکار نہیں ہونا، حکومت، فوج اور عوام کو ایک پیج پر ہونا چاہیے، انڈیا یکطرفہ دوستی کی آڑ میں کشمیر پر اپنا فوجی قبضہ مستحکم اور ہمارا پانی مکمل طور پر روکنا چاہتا ہے،  کشمیر ہماری بقا کا مسئلہ ہے۔ اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ 

واضح رہے کہ حافظ سعید کی نظر بندی ختم کر دی گئی ہے اور انہیں رہا کر دیا گیا تھا جبکہ دوسری جانب جماعت الدعوة نے حافظ سعید کا نام دہشتگردوں کی فہرست نکالنے کیلئے اقوام متحدہ میں درخواست بھی دائر رکھی ہے تاہم اب انہوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان بھی کر دیاہے ۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں

مزید : قومی /اہم خبریں