امریکی صدر ٹرمپ اگلے ہفتے اسرائیل کے لئے کیا کام کرنے جارہے ہیں؟ جان کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے ہوش اُڑجائیں گے، سب سے بڑے حق پر ڈاکہ پڑنے والا ہے

امریکی صدر ٹرمپ اگلے ہفتے اسرائیل کے لئے کیا کام کرنے جارہے ہیں؟ جان کر دنیا ...
امریکی صدر ٹرمپ اگلے ہفتے اسرائیل کے لئے کیا کام کرنے جارہے ہیں؟ جان کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے ہوش اُڑجائیں گے، سب سے بڑے حق پر ڈاکہ پڑنے والا ہے

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اسرائیلیوں سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ منتخب ہونے کے بعد یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیں گے اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔ اب اس حوالے سے انتہائی تشویشناک خبر آگئی ہے جسے سن کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے ہوش اڑ جائیں گے۔ عالمی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈٹرمپ آئندہ ہفتے اپنے انتخابی وعدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے جا رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ یہ اعلان آئندہ بدھ کے روز اپنی ایک تقریر میں کریں گے تاہم امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے میں ابھی وقت لگے گا لیکن اس حوالے سے امریکی حکومت کے دو مزید عہدیداروں کا کہنا تھا کہ تاحال اس معاملے پر حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اسرائیل کا ایرانی فوجی اڈے پر حملہ، سب سے خوفناک خبرآگئی

رپورٹ کے مطابق فلسطینی اپنی آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یروشلم اس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو۔ عالمی برادری بھی یروشلم کی ملکیت کے اسرائیلی دعوے کو تسلیم نہیں کرتی اور اس معاملے پر فلسطین کی ہم نوا ہے۔سابق امریکی صدور نے یروشلم کی ملکیت کا مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے کی پالیسی اختیار کیے رکھی لیکن ڈونلڈٹرمپ اس کا یکطرفہ طور پر فیصلہ کرنے جا رہے ہیں جس سے مسلم دنیا، بالخصوص مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اشتعال کی شدید لہر دوڑ جائے گی۔فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ”امریکہ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے مذاکراتی عمل تباہ اور خطہ عدم استحکام سے دوچار ہو جائے گا۔“

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : بین الاقوامی