میکڈونلڈز ریسٹورنٹ نے نوجوان مسلمان لڑکی کے ساتھ ایسا شرمناک کام کردیا کہ دنیا کے مسلمانوں میں دم ہو تو آج ہی اس کا مکمل بائیکاٹ کردیں

میکڈونلڈز ریسٹورنٹ نے نوجوان مسلمان لڑکی کے ساتھ ایسا شرمناک کام کردیا کہ ...
میکڈونلڈز ریسٹورنٹ نے نوجوان مسلمان لڑکی کے ساتھ ایسا شرمناک کام کردیا کہ دنیا کے مسلمانوں میں دم ہو تو آج ہی اس کا مکمل بائیکاٹ کردیں

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)مغربی دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منافرت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔اب لندن میں ایک نوجوان مسلمان لڑکی اس کا شکار ہو گئی ہے جس کے ساتھ مکڈونلڈز ریسٹورنٹ نے ایسا شرمناک کام کر دیا کہ سن کر ہی آپ مکڈونلڈز کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 19سالہ مسلمان طالبہ اپنی ایک دوست کے ساتھ لندن کے شمالی علاقے میں واقع مکڈونلڈز کی ایک برانچ میں گئی جہاں اسے سکیورٹی گارڈ نے روک لیا اور حجاب اتارنے کا حکم صادر فرما دیا۔ گارڈ نے لڑکی سے کہا کہ اس کا حجاب سکیورٹی کے لئے خطرہ ہے لہٰذا اسے اتارنا ہی پڑے گا۔

دنیا کا وہ واحد آدمی جسے ڈاکٹروں نے غلطی سے کینسر تشخیص کردیا لیکن جب حقیقت سامنے آئی کہ وہ صحت مند ہے تو اس کے دکھ کی کوئی انتہا نہ رہی، صحت مندی کی خبر پر اتنا دکھی کیوں ہوا؟ جواب کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

مسلم طالبہ نے جب حجاب اتارنے سے انکار کیا تو گارڈ مزید بدتمیزی پر اتر آیا۔ اس پر طالبہ کی سبرینا نامی سہیلی ، جو اس کے ساتھ ہوٹل آئی تھی، نے اپنا موبائل فون نکالا اور گارڈ کی بدکلامی کی ویڈیو بنا کر اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر پوسٹ کر دی۔ ویڈیو میں طالبہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ ”میں کیوں مکڈونلڈز میں نہیں آ سکتی؟ کیونکہ میں نے حجاب پہن رکھا ہے؟ تم اس طرح بات کیسے کر سکتے ہو؟“ جواب میں سکیورٹی گارڈ کہتا ہے کہ ”یہ صرف حجاب اتارنے کا معاملہ ہے۔“ اس پر طالبہ ڈٹ جاتی ہے اور کہتی ہے کہ ”یہ حجاب اتارنے کا معاملہ نہیں، میں اسے مذہبی وجوہات پر پہنتی ہوں اور مجھے اس پر کوئی شرمندگی بھی نہیں ہے۔ میں تو قطار میں کھڑی ہو کر کھانا لوں گی کیونکہ میری نظر میں یہ کوئی غلط نہیں ہے۔“

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

رپورٹ کے مطابق سٹاف کے ایک اور رکن نے سبرینا کو ویڈیو بنانے سے بھی روکا تاہم اس نے بھی یہ کہہ کر اس کا مطالبہ رد کر دیا کہ ”یہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ویڈیو بنانا میرا حق ہے۔“ مکڈونلڈز کے ترجمان نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ”ہمارے ہوٹل کی مذہب و لباس کے متعلق کوئی ایسی پالیسی نہیں، ہماری برانچوں میں کسی بھی مذہب کا شخص کسی بھی لباس میں آ سکتا ہے۔ ہم اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس