ٰ"فکری مرکز " نے القرآن الکریم سے انتہا پسندوں کے استدلال کے خلاف جنگ چھیڑ دی

ٰ"فکری مرکز " نے القرآن الکریم سے انتہا پسندوں کے استدلال کے خلاف جنگ چھیڑ دی
ٰ

  

جدہ (محمد اکرم اسد) سعودی دارالحکومت ریاض میں قائم عالمی معیار کے "فکری مرکز" نے القرآن الکریم سے انتہا پسندوں کے استدلال کے خلاف موثر جنگ چھیڑ دی۔ مرکز کے ذمہ داران نے ایسی 7آیات کریمہ جنہیں انتہا پسند عناصر دہشت گردی اور انتہا پسندی کی سرگرمیوں کے جواز کے طور پر پیش کر رہے ہیں ان کے صحیح معنی متعین کرنے والے 3کلپ سوشل میڈیا پر جاری کر دیئے۔ اب تک 567سے زیادہ دیکھنے والوں نے تائید و حمایت میں جملے تحریر کئے ہیں جبکہ 3ہزار سے زیادہ نے ری ٹویٹ کیا ہے۔

مرکز کی قیادت کا کہنا ہے کہ انتہا پسند عناصر قرآن پاک کی اس آیت کے غلط معنی لیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ "یہودی اور نصرانی اس وقت تک تم سے راضی نہیں ہوں گے تا وقتیکہ تم ان کی ملت کے پیروکار نہ بن جاﺅ" مرکز نے اس کی تشریح یہ کہہ کر کی ہے کہ آیت کریمہ میں راضی ہونے سے مراد پرامن بقائے باہم والی زندگی نہیں بلکہ دینی و نظریاتی ہم آہنگی مقصود ہے۔ مرکز کے ذمہ داران نے اس امر کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی کہ قرآن پاک کی ایک آیت میں جو حکم دیا گیا ہے کہ اہل ایمان یہودیوں اور نصرانیوں کو اپنا دوست نہ بنائیں۔ اسی طرح سے دوسری آیت میں جو یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایسے لوگوں کے ساتھ بھلائی اور انصاف سے منہ نہیں کرتا، جنہوں نے تمہارے ساتھ دینی معاملے میں تم سے جنگ نہ کی ہو او رتمہیں تمہارے وطن سے نہ نکالا ہو۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

انتہا پسند عناصر ان آیتوں کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ مسلمان یہودیوں اور نصرانیوں کے ساتھ تعاون او رپرامن بقائے باہم کے مجاز نہیں۔ یہ غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عقائد کے اندر ہم آہنگی سے منع فرمایا ہے۔ ا س کا ثبوت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ دنیوی معاملات اپنی حیات طیبہ کے آخری لمحوں تک کرتے رہے۔ جس وقت آپ کا انتقال ہوا اس وقت آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشرک المطعم بن عدی سے پناہ طلب کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلف الفضول میں شمولیت کا عندیہ دیا تھا نیز مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے وقت رہنمائی کیلئے مشرک گائیڈ کی خدمات حاصل کی تھیں.

مزید : عرب دنیا