مسلم لیگ(ن) کا شیرازہ بکھر جائے گا ، ملکی مفاد کی خاطر ہم قومی حکومت میں شامل ہو جائیں گے :شجاعت حسین

مسلم لیگ(ن) کا شیرازہ بکھر جائے گا ، ملکی مفاد کی خاطر ہم قومی حکومت میں شامل ...
مسلم لیگ(ن) کا شیرازہ بکھر جائے گا ، ملکی مفاد کی خاطر ہم قومی حکومت میں شامل ہو جائیں گے :شجاعت حسین

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ اورسابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی جماعت کا شیرازہ بکھر جائے گا ، جو لوگ ہماری پارٹی کو چھوڑکر چلے گئے وہ سب ہمارے پاس واپس آجائیں گے،آئین میں 62اور 63کی شق رہنی چاہیے, اگر مجھے اس کے پیمانے میں رکھا جائے گا تومیں اس میں کلئیرہو جاﺅں گا،حالات قومی حکومت کی طرف جا رہے ہیں ، ملکی مفاد کی خاطر  ہم بھی قومی حکومت میں شامل ہو جائیں گے۔

جب تک نچلی سطح سے میرٹ کی بنیاد پر تعلیم یافتہ افراد کو اسمبلیوں میں نہیں بھیجا جائے گا عام افراد کے مسائل حل نہیں ہوں گے: وسیم اختر

نجی چینل ”جیو نیوز“کے پروگرام ”جرگہ“میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ آئین میں ٹیکنوکریٹ حکومت کی گنجائش نہیں ،تاہم ملک کے حالات قومی حکومت کی طرف جارہے ہیں , ملکی مفاد کی خاطر ہم اس حکومت کا حصہ بن جائیں گے ,ہمارا کسی بھی سیاسی جماعت سے الحاق نہیں ہوا نہ ہی کسی سے الحاق کا ارادہ ہے , وقت آنے پر اس بات کاحتمی فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو ہم نے نہیں ، انہوں نے ہمیں چھوڑا،ہم نے کبھی بھی کوئی قرضہ معاف نہیں کروایا ، ہمارا جو بھی ہے سب ملک میں ہے ۔چوہدری شجاعت کا کہنا تھا   کہ نواز شریف اور آصف زرداری نے ایک دوسرے کے ساتھ غلط کیا تاہم زرداری زیادہ دفادار ہیں ، ہمارے حوالے سے انہوں نے اس بات کوقبول کیا کہ ہم نے جو قربانیاں دی ہیں وہ اس کے سراہتے ہیں ۔

مسلم لیگ ق کے سربراہ کا  مشرف کے ساتھ سیاسی اتحاد کے حوالے سے  کہنا تھا کہ ان کا کوئی سیاسی اتحاد ہے ہی نہیں تو ہم کیسے اس میں چلے گئے ؟پرویز مشرف کو وہیں رہنا چاہیے، ان کا کوئی بھی سیاسی کردار نہیں رہا۔متحدہ مجلس عمل کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال پر چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ایم ایم اے دوبارہ نہیں بنے گی ،وہ زمانہ گزر گیا جب یہ اتحاد بنتے تھے،اب وہ لوگ نہیں رہے جو سیاسی اتحادوں میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔چوہدری شجاعت کہتے ہیں کہ میں اپنے دور میں بااختیار وزیر اعظم تھا،عراق میں پاک آرمی کونہ بھیجنے کا فیصلہ میرا تھا جسے مشرف نے بھی سراہا تھا ، جمالی کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ بھی میرا ہی تھا۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں

مزید : قومی /اہم خبریں