چیف جسٹس سپریم کورٹ کا دورہ بہاولپور، تقریبات میں شرکت

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا دورہ بہاولپور، تقریبات میں شرکت

  



بہاولپور(بیورو رپورٹ‘ڈسٹرکٹ رپورٹر)چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ بہاول پور بار پاکستان کی بہترین بار ہے۔ اس کی وجہ یہاں کے وکلاء کاریاستی کلچر، علمیت، تہذیب اور ادب وآداب کا رویہ ہے۔ وہ  ہائی کورٹ باربہاول پور اور ڈسٹرکٹ بار بہاول پور کی طرف سے ان کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی عشائیہ کی تقریب سے خطاب کر (بقیہ نمبر46صفحہ12پر)

رہے تھے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں بہاول پور کے اڑھائی سو نوجوان وکلاء کو مرحلہ وار قانون اور عدالتی امور کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ و طن عزیز میں جو شخص دوسرے کو جتنا دبا کر رکھے اسے بڑا آدمی کہتے ہیں لیکن زیادہ بڑا وہ ہے جو دوسرے کو زیادہ عزت دے۔ جو جھک جائے کیونکہ غرور، تکبر اور گھمنڈ انسان کو زیب نہیں دیتا، یہ اللہ پاک کی صفات ہیں۔چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے الوداعی عشائیہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ بلوچ اور سرائیکی کلچر میں سامنے والے کو جتنی عزت دیں وہ اس سے بڑھ کر عزت دے گا اور عزت دے کر ہی زیادہ عزت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جج کو وکیل کو عزت دینی چاہئے اور وکیل کے رویہ میں کمی سے سائل کا کیس خراب نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وکیل صرف سائل کے لئے وکالت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جج صاحبان اور نوجوان وکلاء کے تجربہ کی بنیاد پر پیشہ وارانہ علمی فرق ہوتا ہے۔ اس لئے اگر نوجوان وکیل کسی سوال کا جواب نہ دے سکے تو اس پر ناراض ہونے کی بجائے اس کی تربیت کی جائے تاکہ وہ وکالت کے پیشہ میں آگے بڑھ سکے۔ اسی طرح سینئر وکلاء کو اپنے جونیئر وکلاء کی تربیت میں مثبت کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ تربیت کا عمل رک جانے کے خوفناک نتائج ہو سکتے ہیں اور وکالت کے پیشہ کے بہتر مستقبل کے لئے سینئرز کو جونیئرز کی تربیت کے عمل کا تسلسل جاری رکھنا ہو گا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہدایت کی کہ نوجوان وکلاء قانونی معلومات کے حصول کے لئے مطالعہ کی عادت کو اپنا شعار بنائیں۔انہوں نے کہا کہ جو جج انصاف کے تقاضے پورے کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کا قرب پا لے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اسی طرح ایک اور جگہ فرمان ربی ہے کہ وہ سات لوگ جن سے اللہ پاک محبت کرتا ہے ان میں سے ایک منصف ہے یعنی جج جو کام کرنے کی تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اگر وہی کام ایمانداری سے کیا جائے تو خالق کائنات کی محبت کا حقدار ہو جائے گا اور انصاف کرنے والوں کی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ مصائب سے پاک کر دیتا ہے کیونکہ جن کا ایمان پختہ ہو جائے انہیں کوئی خوف یا غم نہیں رہتا۔انہوں نے مزیدکہا کہ اس وسیب میں ہزاروں کی تعداد میں وکلاء کا اکٹھا ہونا میرے لئے باعث فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت نواب آف بہاول پور کی جانب سے کی جانے والی مالی، اخلاقی اور سیاسی مدد قابل تحسین ہے۔ اس موقع پر سینئر جج لاہور ہائی کورٹ بہاول پور بینچ مسٹر جسٹس سید شہباز علی رضوی، مسٹر جسٹس مزمل اختر شبیر، مسٹر جسٹس محمد وحید خان، مسٹر جسٹس صادق محمود خرم، صدر ہائی کورٹ بار بہاول پور ندیم اقبال چوہدری ایڈووکیٹ،،محمود اقبال خاکوانی ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری ہائی کورٹ باربہاول پور ایاز کلیار، صدر ڈسٹرکٹ باربہاول پور میاں محمد اظہر، جوڈیشل افسران، ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان، بہاول پور ڈویژن کے وکلاء، انتظامیہ کے افسران اور سول سوسائٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔

خطاب /چیف جسٹس 

مزید : ملتان صفحہ آخر