شاہ جمال کی خاتون بیٹ میر ہزار میں قتل‘ ورثا کا مظاہرہ‘ روڈ بند 

شاہ جمال کی خاتون بیٹ میر ہزار میں قتل‘ ورثا کا مظاہرہ‘ روڈ بند 

  



 شاہ جمال (نمائندہ پاکستان)شاہ جمال کی لڑکی بیٹ میر ہزار میں قتل کردی گئی بھائی گیا تو فائر مار کر ساتھیوں کے ہمراہ قتل کرنے والے مبینہ قاتل دیور نے یرغمال بنا لیا اسلحہ کے زور پر مرضی کے بیان کے لیئے دباؤ ڈالا بعد ازاں قاتل دیور اور اس کے رشتہ داروں نے مقتولہ کے سگے بھائی پر خاتون کو پکڑ کر رکھنے کا الزام لگا کر ملزم بنا نے کی کوشش ورثاء نے لڑکی کی لاش شاہجمال میں پل ڈاٹ پر رکھ کر جتوئی روڈ بند کر دیا ہے۔موضع کچہ کینجھر گوپانگ چوک کے رہائشی شبیر احمد نے بتایا کہ اسکی چھوٹی بہن شمیم بی بی کی شادی وٹہ سٹہ(بقیہ نمبر14صفحہ12پر)

 پر محمد شکیل  کے ساتھ بیٹ میر ہزار ہوئی جبکہ بدلے میں اسکے بھائی رفیق کی شادی شکیل کی بہن سے ہوئی اسکا دیور عباس، خلیل،شریف اور عبدالحمید اس پر آئے روز تشدد کرتے لڑتے جھگڑتے رہتے تھے بالآخر عباس نے دیگر ساتھیوں سے ملکر  30نومبر کو اسے گولی مار دی بھائی رفیق گیا تو خلیل نے اسے اسلحہ کے زور پر یرغمال۔بنا کر اسکی کنپٹی پر پستول رکھ کر اپنی مرضی کا بیان د ینے اور انکار پر اسے باندھ کر تشدد کا نشا نہ بنایا بعد ازاں مقتولہ شمیم کے سگے بھائی رفیق پر دیگر سسرالی رشتہ داروں سے ملی بھگت کر کے اسپر مقتولہ کو پکڑ کر رکھنے کا الزام لگا کر قتل کے جرم میں ملزم بنا نے کی کوشش کر رہا ہے جس پر بھائیوں رفیق اور شبیر نے مقتولہ کی نعش جتوئی روڈ پل ڈاٹ کے مقام پر رکھ کر روڈ بند کر دیا جو کئی گھنٹے بند رہا قائم مقام ایس ایچ او سب انسپکٹر چوہدری اصغر علی نے  مذاکرات کر کے روڈ کھلوایا یاد رہے مقتولہ کی والدہ سکینہ بی بی کی مدعیت میں ایف آئی آر نمبری جملہ ملزمان کے خلاف درج کر لی گئی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر