امت مسلمہ کا باہمی اتحاد وقت کا تقاضاہے: عبد القدیر اعوان 

امت مسلمہ کا باہمی اتحاد وقت کا تقاضاہے: عبد القدیر اعوان 

  



پشاور (سٹی رپورٹر) تنظیم الاخوان پاکستان نے کہا ہے کہ حضرت محمد ﷺسے ایمانی اور نسبی رشتہ بھی ایمان کے تحت ہو تو پھر یہ نور اً علی نور ہے لیکن اگر نسبی رشتہ ایمانی رشتہ کے مطابق نہ ہو تو پھر ایمانی رشتہ سبقت لے جاتا ہے بحیثیت امتی کے تعلق کی ابتداء پہلی وہی کے ساتھی ہوتی ہے اور پھر ہم جیسے مشتِ غبار کو وہ حیثیت دی جس کی خواہش پہلے انبیاء نے کی کہ آپ محمد رسول اللہ ﷺ کی اُمت میں پیدا ہوں۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان نے گزشتہ روز نشتر ہال میں بہت بڑے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے اس موقع پروزیر اعلیٰ کے مشیر برا ئے انفارمیشن اینڈ ٹیکنا لو جی کامران بنگش بھی مو جو د تھے انہوں نے کہا کہ اس وقت باہم اتحاد کی ضرورت ہے ولادت باسعادت کے مبارک موضوع پر بھی ہم باہم انتشار کا شکار ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس موضوع کو آپ ﷺ کی ذات مبارک کے سامنے رکھ دیں تو پھر ہم نقطہ اتحاد پر جمع ہو جائیں گے کیونکہ جہاں بھی اپنی ذات آتی ہے وہاں پھر ترجیہات ذاتی مفادات کو دیتے ہیں اس سے پھر جھگڑے بھی ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر ہم خشو ع و خضوع کے ساتھ نماز قائم کریں گے تو پھر یہ نماز بندہ مومن کو برائی اور بے حیائی سے روک دیتی ہے اگر ایسانہ ہو تو پھر نماز کی ادائیگی میں کہیں کمی رہ گئی ہے اُسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وطن عزیز بے پناہ قربانیوں اور ہماری ماؤں بہنوں کی عزت گنوا کر حاصل ہو ا ہے جس کا احساس خود بھی کرنا اور اپنی آنے والی نسل کو بھی بتانا ہے کہ ہم اس وطن عزیز کی قدر کریں یہ وہ ملک ہے جو کہ دین اسلام کے نام پر بنا ہے آج اگر ہم دیکھیں تو ہمارا کوئی بھی شعبہ ایسانہیں جو کہ اسلامی نظام کے تحت ہو ہمیں اپنی باقی ضروریات کی تکمیل کے لیے سعی کرنی ہے وہاں اس ملک میں جاری نظاموں اسلامائز بھی کرنا ہو گااور جہاں ہم عبادات کرتے ہیں وہاں ان کی قبولیت کے لیے خلوص شرط ہے اور یہ خلوص ذکر قلبی سے حاصل ہو گا۔کشمیری مسلمانوں پر ظلم اور بربریت کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کشمیری مسلمانوں کو صبر عطا فرمائے اور اللہ انہیں اس پریشانی سے نجات دلائیں آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر