غازی سیال پشتو ادب کا  اثاثہ تھے‘ بخت شیر اسیر

غازی سیال پشتو ادب کا  اثاثہ تھے‘ بخت شیر اسیر

  



ٹوپی (نامہ نگار) غازی سیال پشتوادب کے عظیم سرمایہ تھے مرحوم کے وفات سے پشتو زبان اور ادب کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا، امیر حمزہ خان شینواری، غنی خان اور اجمل خٹک کی غم کی غبار ابھی پوری طرح بیٹھی نہیں تھی کہ اوپر سے غازی سیال کے وفات کے غم نے دلوں کو دکھی کردیا، بخت شیر اسیر، تفصیل کے مطابق د قلم خاوندان پشتو ادبی ثقافتی جرگہ  ٹوپی کے صدر اور سینئر صحافی بخت شیر اسیر، سیکرٹری فنانس شہزاد ہ احساس، نائب صدر حنیف گل رحمدل، زمردسرحدی، ملنگ شاہ ملنگ اور دیگر نے ایک مشترکہ اخباری بیان میں صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر ادیب دانشور اور ناول نگار غازی سیال کے وفات پر شدیدرنج اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمس القمر اندیش، اکرام اللہ گران، اجمل خٹک، غنی خان اور امیر حمزہ خان شینواری کے بعد غازی سیال کے وفات  پشتوادب کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ ایک طرف اس کی معاشی حالات بھی زیادہ حوصلہ افزاء نہیں تھے اور دوسری طرف عصر ی تعلیم بھی برائے نام کی، پھر بھی اپنے پشتو ادب میں جو نام اور مقام حاصل کیا بہت کم لوگ یہ مقام اور نام حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ نے مرحوم کی درجات کی بلندی اور تمام پسماندہ گان  اور ان کے مداحوں  کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔ 

مزید : پشاورصفحہ آخر