الیکشن کمیشن مکمل کرنے کی سعی!

الیکشن کمیشن مکمل کرنے کی سعی!

  



وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یقین ظاہر کیا ہے کہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان تعاون سے چیف الیکشن کمشنر سمیت کمیشن کے ارکان کی تقرری کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور کوئی ابہام پیدا نہیں ہو گا۔ چیف الیکشن کمشنر6دسمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔اِس سے قبل سندھ اور بلوچستان کے اراکین الیکشن کمیشن کی نشستیں خالی ہیں کہ قائد حزبِ اقتدار اور قائد حزبِ اختلاف کے درمیان مشاورت ممکن نہیں ہوئی۔حکومت کی طرف سے بعدازاں ازخود دونوں ارکان نامزد کر دیئے گئے تھے اور معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ تک جا پہنچا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس حوالے سے ریمارکس دیئے اور معاملہ سینیٹ کے چیئرمین اور سپیکر قومی اسمبلی کے سپرد کر دیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ وہ اس عمل کو مکمل کرائیں۔چیف الیکشن کمشنر نے سرکاری طور پر نامزد کئے گئے اراکین سے حلف نہیں لیا تھا۔ اب چیئرمین سینیٹ اور سپیکر نے افہام و تفہیم کا عمل شروع کیا ہے۔ قائد ایوان وزیراعظم عمران خان سے نام مانگے اور دوسری چٹھی قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف کو لکھ کر ان سے بھی نام طلب کئے۔خبر ہے کہ دونوں طرف سے سندھ اور بلوچستان کے اراکین کی نامزدگی کے لئے تین تین نام تجویز کر دیئے گئے ہیں،جو ثالثی جوڑی کو موصول ہو گئے ہیں۔تاہم مزید بہتری کی بات یہ ہے کہ چیئرمین کے لئے بھی تین تین نام تجویز کر کے چیئرمین اور سپیکر کو بھجوا دیئے گئے۔ قائد حزبِ اختلاف نے چیئرمین کے لئے ناصر محمود کھوسہ،جلیل عباس جیلانی اور اخلاق احمد تارڑ کے نام بھجوائے،جبکہ وزیراعظم(قائد ایوان) عمران خان نے ابھی صرف سندھ اور بلوچستان کے رکن حضرات کے لئے نام بھیجے ہیں۔ آئینی طور پر الیکشن کمیشن کے اراکین اور چیئرمین کی نامزدگی کے لئے قائد ایوان اور قائد حزبِ اختلاف کی بامعنی مشاورت لازم ہے،لیکن محاذ آرائی کے اس دور میں یہ ممکن نہ ہوا تھا،اب پھر سے عمل شروع کیا گیا ہے۔ توقع کرنی چاہئے کہ شاہ محمود قریشی کی زبان مبارک ہو گی اور اب کوئی تنازعہ نہیں کھڑا ہو گا۔چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کوئی راستہ نکال لیں گے کہ اگر اراکین کا تقرر نہ ہوا اور چیف الیکشن کمشنر بھی اپنی آئینی مدت پوری کر کے6دسمبر کو ریٹائر ہو گئے تو الیکشن کمیشن ہی نامکمل رہ جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ