ٹرک کی بتی

ٹرک کی بتی
ٹرک کی بتی

  



مسلم لیگ (ن) کے راہنما احسن اقبال کہتے ہیں کہ ٹرک کے کنڈکٹر بدلنے کا کوئی فائدہ نہیں، یہ اس وقت تک نہیں چل سکے گا، جب تک ڈرائیور تبدیل نہیں ہو جاتا۔ عوام الناس اس وقت مہنگائی، بے روزگاری اور بد امنی کے جس عذاب سے گزر رہے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے احسن اقبال کی یہ بات بالکل درست معلوم ہوتی ہے…… لگتا ہے ڈرائیور سلیکٹ کرتے وقت سلیکٹرز نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ جسے ڈرائیور کی سیٹ پر بٹھایا جا رہا ہے، اسے ڈرائیونگ آتی بھی ہے یا نہیں؟ عمران خان کی حکومت ایک ایسا ٹرک ثابت ہو رہی ہے، جس نے عوام کو اپنی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ عوام اب مایوس ہوتے جار ہے ہیں کہ ایسے برے حالات کا تو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا، لیکن پھر نئے سرے سے تھوڑی بہت امید پیدا ہوتی ہے کہ اتنے بڑے بڑے دعوے کرنے والے شائد کچھ کر لیں، اس لئے پھر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ مایوس ہونے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے رہنے کا یہ کھیل سوا سال سے جاری ہے۔ ٹرک ہے کہ چلنے کی بجائے ایک ہی جگہ کھڑا صرف اپنی بتی جلا بجھا رہا ہے اور لگتا یہی ہے کہ ڈرائیور کو ٹرک چلانا ہی نہیں آتا۔ اب ٹرک کے نہ چلنے کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا جائے، ڈرائیور کو یا اس سیٹ پر بٹھانے والوں کو؟

مَیں پی ٹی آئی حکومت کے اب تک کے سولہ مہینوں کو تین ادوار میں تقسیم کرتا ہوں۔ سب سے پہلے چار مہینوں کا ”100 روزہ“ دور، دوسرا دس مہینوں کا ”پچھلی حکومت“ کادور اور تیسرا جو ابھی پچھلے دو مہینوں سے ”سب اچھا ہے“ کا دور چل رہا ہے۔ عمران خان حکومت کا پہلا دور چار مہینے رہا، جسے”100 روزہ“ دور کہا جا سکتا ہے۔ ان چار مہینوں میں قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا کہ عمران خان نے حکومت میں آنے کے بعد ملک کو ”اٹھانے“ کی زبردست تیاری کی ہوئی ہے اور 200 ماہرین پر مشتمل کئی ٹیمیں معیشت،گڈ گورننس، صحت اور تعلیم سمیت انسانی ترقی، زراعت، صنعت و پیداوار، تجارت، انفرا سٹرکچر وغیرہ پر شبانہ روز محنت کر رہی ہیں، اس لئے 90 دن میں حکومت اپنے پانچ سال کا پلان دے گی، جس پر نہ صرف فوری عمل درآمد شروع ہو جائے گا، بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔ ایک کروڑ نہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ نوکریاں دی جائیں گی، پچاس لاکھ گھرتعمیر کرنے کا منصوبہ بھی فوراً ٰشروع ہو گا۔ کنسٹرکشن کے منصوبے شروع ہونے سے کم از کم 42مزید شعبے اور صنعتیں متحرک ہو جائیں گی کہ ان کا دارومدار اسی پر ہوتا ہے۔ ان 42 صنعتوں کے متحرک ہونے سے درجنوں دوسری صنعتیں بھی شروع ہو جائیں گی۔

ملک میں ترقی کا ایک ایسا دور شروع ہو گا کہ لوگ امریکہ، یورپ اور چین یا جاپان کی ترقی بھول جائیں گے۔ بیرون ملک سے مبینہ طور پر لوٹ کر بھیجے گئے 200 ارب ڈالر فورا واپس آجائیں گے، بیرون ملک مقیم ایک کروڑ کے لگ بھگ پاکستانی اتنے زیادہ پُر جوش ہیں کہ وہ وہاں سے جہاز بھر بھر کر ڈالر بھیجنا شروع کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں پریکٹس کرتے ہوئے پاکستانی ڈاکٹر اور دوسرے پیشوں سے منسلک لوگ صرف عمران خان کا انتظار کر رہے تھے کہ کب وہ وزیر اعظم بنیں اور سب لوگ اپنی لاکھوں کی نوکریوں اور کروڑوں اربوں کے کاروبار کو لات مار کر قوم کی خدمت کرنے پاکستان واپس آ جائیں۔ ایف بی آر جو سالانہ چار ہزار ارب روپے ٹیکس بھی اکٹھا نہیں کر پاتا، اب عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد آٹھ ہزار ارب سے بھی زیادہ ٹیکس اکٹھا کر لے گا، کیونکہ پچھلی حکومتوں کو لوگ ٹیکس اس لئے نہیں دیتے تھے کہ وہ کرپٹ اور چور تھے۔ اب ایماندار وزیر اعظم کی ایماندار حکومت کو لوگ خود ایف بی آر میں آ کر ایمانداری سے اپنی جانب واجب الادا ٹیکس جمع کروائیں گے۔

آئی ایم ایف میں جانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ نئے پاکستان میں آئی ایم ایف کو اپنا استعماری ایجنڈا لانے کی اجازت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ آئی ایم ایف تو اتنا بُرا ادارہ ہے کہ وہ ناجائز شرطوں کے انبار لگا دیتا ہے اور یہ پچھلی حکومتوں کی نالائقی تھی کہ انہوں نے آئی ایم ایف کا سہارا لیا۔ اس سے زیادہ سہارا تو کپتان کے ذاتی دوستوں، سعودی عرب اور ابو ظہبی کے ولی عہدوں، چین، ملائشیا اور ترکی کے سربراہوں نے صرف دوستی دوستی میں دے دینا تھا۔ اس پہلے دور کا طرہئ امتیاز وہ 90 دن والا ایک عظیم کنونشن تھا جو بہت طمطراق سے اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں منعقد کیا گیا، جس میں عمران خان نے وہ تمام باتیں دہرائیں، جو وہ سینکڑوں بار پہلے بھی کر چکے تھے۔

اس کنونشن والے دن تمام قومی اخبارات میں پورے صفحہ کے ”ہم مصروف تھے“ کے اشتہارات شائع ہوئے۔ ٹیلیویژن چینلوں پر بھی خوب اشتہارات چلے۔ ان اشتہارات کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ تین مہینے گزر جانے کی وجہ سے لوگ مایوس ہونا شروع ہو گئے تھے کہ جس طرح کے دعوے اور وعدے کئے گئے تھے، ان کے پورے ہونے کے آثار تو دور دور تک نظر نہیں آتے اور لوگوں کو لگتا تھا کہ تین ماہ بعد بھی ٹرک اسی جگہ کھڑا ہے، جہاں حکومت آنے کے پہلے دن تھا۔ اس تمام دور میں کسی کو بھی کوئی سوال اٹھانے یا تنقید کرنے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ مثبت رپورٹنگ کا انتہائی سخت حکم موجود تھا، جس کی خلاف ورزی کرنا بہت سی مشکلات لانے کا سبب بنتا تھا۔ عمران خان حکومت کے جب چار مہینے گزر گئے اور عوام کو تمام باتیں ہوائی لگنا شروع ہو گئیں تو پہلا پینترا بدلا گیا، تمام دعووں اور وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر نیابیانیہ ”پچھلی حکومت“ تیار کیا گیا۔ وہ 100دن والا روڈ میپ، 200 ماہرین والی ٹیمیں، درجنوں بلکہ سینکڑوں عظیم دماغوں پر مشتمل ٹاسک فورسیں اورایڈوائزری کمیٹیاں، ملک کے اندر اکٹھا ہونے والا ریونیو اور اربوں ڈالر، جو باہر سے آنے تھے، اچانک راتوں رات اڑن چھو ہو گئے۔

اس کے بعد ”پچھلی حکومت“ کے نام سے ہنگامی بنیادوں پر نیا بیانیہ پیش کر دیا گیا جس میں بتایا گیا کہ ہر خرابی کی وجہ پچھلی حکومت تھی، جس نے اربوں ڈالر کے قرضے لے کر ملک کو اس حال میں پہنچایا ہے کہ”گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا“ جیسی کیفیت ہے۔ جو بھی پیسے ہوتے ہیں، وہ پچھلی حکومت کا لیا گیا قرضہ واپس کرنے میں چلے جاتے ہیں۔ اگر پچھلی حکومت چور، بے ایمان، کرپٹ اور نا اہل نہ ہوتی تو ملک کبھی اس حال کو نہ پہنچتا۔ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ہمنواؤں کی دن رات بس ایک ہی قوالی ہوتی تھی اور لوگ پریشان تھے کہ اگر پچھلی حکومت اتنے برے حالات چھوڑ کر گئی تھی تو اس بات کا اسے ادارک پہلے مہینے، بلکہ پہلے ہفتے میں ہی کیوں نہ ہوا؟ اگر ٹیکنیکل طور پر دیکھا جائے تو حکومت میں آنے سے پہلے ہی اس پر ساری صورت حال واضح ہوتی، کیونکہ پچھلے دور میں پارلیمنٹ کی تمام قائمہ کمیٹیوں میں پی ٹی آئی کے ممبران موجود تھے، جنہیں ہر طرح کے اعداد و شمار تک قانونی اور آئینی رسائی حاصل تھی۔ انہوں نے اس وقت کیوں نہیں بتایا کہ خزانے کی کیا پوزیشن ہے؟ اگر پی ٹی آئی حکومت آ بھی گئی تو وہ ان حالات کی وجہ سے کچھ نہیں کر پائے گی۔ در اصل یہ دوسرا مرحلے، یعنی ”پچھلی حکومت“ پہلے مرحلے، یعنی ”100 دن“ کی ناکامی کے بعد ہنگامی طور پر شروع کیا گیا۔ معیشت اور گورننس کے معاملات میں بری طرح ناکامی کے بعد ایمر جنسی میں یہی سمجھ میں آیا کہ سارا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈال دینے سے وقتی طور پر جان چھوٹ جائے گی۔

چار مہینوں کے پہلے اور دس مہینوں کے دوسرے مرحلوں کے بعد، یعنی 14 مہینے گزر جانے کے بعد، اب ملبہ پچھلی حکومت پر ڈالتے رہنے کی مزیدگنجائش بھی ختم ہو چکی تھی، اس لئے تیسرا ”سب اچھا ہے“ کا مرحلہ شروع کیا گیا، کیونکہ عوام کو بے وقوف بنانے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھنے کا یہی بس آخری حربہ باقی رہ گیا تھا۔ ویسے بھی رزمیہ باتیں کرنے والے اسد عمر کی جگہ اب ڈاکٹر حفیظ شیخ وزارت خزانہ چلا رہے تھے اور سٹیٹ بینک کے گورنر آئی ایم ایف سے تعلق رکھنے والے رضا باقر لگائے جا چکے تھے۔ یہ دونوں لوگ خوش کن اعدادوشمار بنانے کے ماہر ہیں، کیونکہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف میں انہیں ٹریننگ ہی اس بات کی دی جاتی ہے۔ ان لوگوں کو عوام کی چیخیں کبھی سنائی نہیں دیتیں، ان کی بلا سے پورا ملک بے روزگار ہو جائے یا بھوک سے مر جائے، انہیں ”صرف اچھا“ اعداد وشمار پیش کرنا آتا ہے تاکہ آئی ایم ایف ان کی کارکردگی کو قبول کرتے ہوئے اگلی سہ ماہی قسط جاری کردے۔ پاکستان کا آئی ایم ایف سے جو معاہدہ ہے، اس کے مطابق ہر سہ ماہی کے 480 ملین ڈالر ملا کریں گے۔ اس دوران جب تک آئی ایم ایف پروگرام جاری ہے، یہی ”سب اچھا“ کے اعداد وشمار جاری ہوتے رہیں گے جنہیں، feel good factor بھی کہتے ہیں۔

عمران خان کو یہ تیسرا مرحلہ اتنا پسند آیا ہے کہ لاہور جا کر انہوں نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی بہترین کارکردگی کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے ہیں۔ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کو سمجھ نہیں آرہی کہ انہیں کس گناہ کی سزا عثمان بزدار کی شکل میں مل رہی ہے، لیکن وزیر اعظم نے پنجاب میں بھی feel good factor کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے کہ پنجاب اس وقت گورننس کی بہترین مثال ہے، بس صرف اچھے کئے گئے کاموں کی تشہیر زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔باقی رہ گئی قابلیت تو آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے معاملے کی ہینڈلنگ سے اس کی سمجھ آجاتی ہے کہ جو حکومت ساڑھے تین ماہ میں ایک نوٹیفیکیشن نہیں بنا سکی، وہ کوئی بڑا پراجیکٹ کیا خاک کرے گی۔ اصل صورت حال یہ ہے کہ ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے عوام مہنگائی کے پاٹوں میں پستے اور خود کشیاں کرتے رہیں گے، لوگ بھوک سے مرتے رہیں گے اور حکمران اسی طرح چین کی بانسری بجاتے رہیں گے۔ آخر جب روم جل رہا تھا، نیرو بھی تو بانسری ہی بجا رہا تھا۔

مزید : رائے /کالم