دلیر مسلم کو سلام

دلیر مسلم کو سلام

  



16نومبرکا سرد دن تھا، شدت پسند تنظیم ”سٹاپ اسلامائزیشن آف ناروے“ (سیان) نے ناروے کے شہرکرسٹیان سینڈ میں مظاہرہ کیا۔اس مظاہرے کو ”قرآن مجید جلانے کے لئے، کرسٹیان سینڈمیں“ کا نام دیا۔ سیان کوانتظامیہ کی جانب سے مظاہرے کی اجازت دی گئی،لیکن سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر قرآن کو جلانے سے روک دیا گیا تھا۔ پولیس نے وضاحت سے یہ بیان دیا کہ اگر سیان نے مظاہرے کے دوران قرآن مجید کو نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی تو وہ فوری طور پر مظاہرے کو روک لیں۔ مقامی مسلمانوں کو اعتماد ہو گیا کہ اگر مظاہرین نے قرآن مجید کو آگ لگانے کی کوشش کی تو پولیس خود مداخلت کرے گی۔ مظاہرے کے دن سیان نے قرآن مجید کو ایک ڈسپوزایبل گرل پر لگا دیا۔ پولیس نے مظاہرہ شروع ہونے سے پہلے ہی اسے ہٹا دیا تھا۔ مظاہرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف انتہائی نامناسب خیالات کا اظہار کیا گیا،لیکن مسلمانوں نے خاموشی اختیار کئے رکھی۔جب مظاہرہ اختتام کے قریب پہنچا تو سیان لیڈرارنے تھومیرنے قرآن مجید ہاتھ میں لے کر اعلان کیا کہ اب اس کو جلانے کا وقت آگیا ہے، لیکن پولیس نے آگ لگانے سے منع کیا ہے،یہ کہتے ہوئے اس نے قرآن مجید کوردی کی سرخ ٹوکری میں پھینک دیا۔ یہ منظر بہت تکلیف دہ اور جذبات بھڑکانے کے لئے کافی تھا۔کچھ مسلمان چیخ اُٹھے اور کچھ مزاحمتی نعرے لگانے لگے۔

اسی دوران سیان ممبر لارس تھورسن اپنے ہاتھ میں قرآن کریم اٹھا کر چند قدم آگے بڑھا اور قرآن مجیدکو آگ لگا دی۔اس کے آس پاس پولیس افسران موجود تھے۔7 سے 9 سیکنڈ تک قرآن مجید جلتا رہا۔ پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی۔ 7 سیکنڈ تک قرآن جلنے کے بعد بلیو جیکٹ میں ملبوس عمر دابا (ضبعہ)اور قصی رشید نے لارس تھورسن پر حملہ کیا۔ عمر نے لارس کی گردن پر ہاتھ سے ضرب لگائی: پھر اسے لات رسید کی۔جیسے ہی دلیر نوجوانوں نے حملہ کیا: پولیس سکینڈ کا وقفہ دیئے بغیر ان حملہ آور نوجوانوں پر جھپٹی اور ان کو گرفت میں لے لیا اور آگ بھی بجھا دی۔ سوشل میڈیا پر واقعہ کی اَن گنت ویڈیوز موجود ہیں، جن سے واقعہ کا بغور جائزہ لیا جا سکتاہے۔اگر پولیس نے تھارسن کو اسی لمحے روک دیا ہوتا،جب تھارسن نے قرآن مجید کو آگ لگا ئی تھی،تو یقینا نوجوان مداخلت نہ کرتے۔ سیان کے ممبران نے قانون کو روندا اور پولیس مسلمانوں کے رد عمل کی منتظر رہی۔ سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق اس واقعہ کے نتیجے میں پانچ مسلمانوں کو حراست میں لے لیا گیا، جنہیں بعد ازاں رہا کردیا گیا اور ان پر مالی جرمانہ عائد کیا گیا۔ جرمانے کی سزا کے خلاف نوجوانوں نے وکیل کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔پولیس نے لارس تھورسن کو بھی حراست میں لیا اور اس کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

پاکستان نے ناروے کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کر کے اس ناخوش گوار واقعہ کی مذمت کی اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے دُنیا بھر میں ایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ قابل ِ مذمت عمل کو روکنے کے لئے جرأت دکھانے والے الیاس کی بہادری کو سلام ہے۔انہوں نے لکھا کہ اس طرح کی اسلاموفوبیا پر مبنی اشتعال انگیزی صرف نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہے، اسلاموفوبیا عالمی امن و ہم آہنگی کے لئے خطرہ ہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ تمام مذاہب قابل ِ احترام ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ناروے میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ”آپ ہمیں دہشت گرد کہیں یا جو مرضی بولیں،مگر قرآن پاک کی بے حرمتی قابل قبول نہیں، جس نوجوان نے قرآن پاک کا دفاع کیا ہے“ اس کو پوری اُمت مسلمہ کا سلام ہے۔ ترکی کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف مسلمانوں،بلکہ تمام انسانیت کو متاثر کرتے ہیں۔

ناروے میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف سندھ اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد میں منظور کی گئیں۔ناروے میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں مذہبی جماعتوں سمیت عوام نے شرکت کی۔مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مغرب اور یورپ میں قرآن پاک اور خاتم النبین محمدؐ کی اہانت کے واقعات کو روکنے کے لئے احترام مذاہب کے موثر قوانین بنائے جائیں تاکہ عالمی امن کو فروغ دیا جاسکے۔اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر ویڈیوز پھیلنے لگیں۔کہیں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور سڑکوں پر قران پاک کی تلاوت شروع کردی۔کہیں لوگ قطار میں بیٹھے قرآن حکیم کی بلند آواز میں تلاوت کر رہے ہیں اور اس سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے الیاس کو مسلم امہ کا ہیرو قرار دیا اور یہ ٹرینڈ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، جس میں لاکھوں لوگوں نے ٹوئٹس کیں۔پاکستان میں سماجی رابطے کی سائٹس پر صارفین نے عمردابا کے اس اقدام کو بہت سراہا۔ ٹوئٹر پر ”الیاس ہیرو آف مسلم امہ“ اور ”قرآن کا محافظ‘‘نامی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعدناروے حکومت نے پولیس کو احکامات جاری کئے ہیں کہ وہ کسی کو بھی قرآن کی بے حرمتی کرنے کی اجازت نہ دے۔ این آر کے (ناروے براڈکاسٹنگ کارپوریشن) کی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ حکومت کی جانب سے نسل پرستی سے متعلق ایک آئینی پیراگراف (185) کو بنیاد بناتے ہوئے نئی تشریح کی گئی ہے، جس کے تحت پولیس کے لئے مذہبی علامتوں کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی سرگرمی کو روکنا 'لازمی‘ قرار دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ناروے یورپ کے شمال میں عیسائی اکثریتی ملک ہے،جس میں عیسائی 75فیصد کے لگ بھگ ہیں، جبکہ مسلمان 3 فیصد کے قریب ہیں۔ ہرالڈ پنجم ناروے کا بادشاہ ہے۔ سیان کی ویب سائٹ پر موجود تحریروں اور پوسٹوں سے اندازہ ہوتا ہے کی یہ کس قدر انتہا پسند تنظیم ہے۔ کرسٹیان سینڈ کے واقعہ کے بعد ویب سائٹ پر انہوں نے حملہ کرنے والوں نوجوانوں کو متشدد قرار دیا۔ یہ حیرانی کی بات نہیں، کیونکہ سیان کے مطابق قرآن مجید (نعوذ باللہ) پُرتشدد کتاب ہے اور جلانے کے لائق ہے۔ متشددانہ فکر کی حامل اس تنظیم کے کارکن اسلام کے خلاف مختلف فورمز میں ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔ مختلف شہروں میں مظاہرے بھی کرتے ہیں۔ سیان کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو بطور دہشت گرد پیش کرے کہ یہ لوگ (ناروے کے)مغربی معاشرے میں رہنے کے قابل نہیں۔ رواں سال ناروے کے دارالحکومت اوسلو کی ضلعی عدالت نے سیان کے ایک لیڈر لارس تھورسن کو نفرت پر مبنی جرم کا مرتکب ہونے کے سبب سزا سنائی۔

اقلیتوں کے حقوق، انسانی حقوق اورحقوق نسواں پرمسلمانان پاکستان کو بھاشن دینے والے اور اس ضمن میں قانون سازی کے لئے دباؤ ڈالنے والے، کیا ناروے میں مسلمان اقلیت کے مذہبی حقوق کے لئے آج آواز اٹھائیں گے؟وہ لکھاری جو بیچ چوراہے میں گوروں کی تہذیب کی مبالغہ آمیز مدح سرائی کرتے ہیں۔ سیان کے گوروں کی بدتہذیبی پر کیا ان کے قلم کو جنبش ہو گی؟اظہارمیں آزاد ہونا اور اظہارمیں آزار دینا ، دونوں میں فرق ضروری ہے۔عمر داباکی لات بے مہار آزادیئ اظہار کے پجاریوں کے لئے مات ہے۔دلیر عمر کا پیغام ہے کہ اگر تمہارا ہاتھ قرآن مجید تک آئے گا تو پھر لات تمہارے وجود پر آئے گی۔ اس واقعہ میں جرأ ت کا مظاہرہ کرنے والے ہر گمنام اور نام ور دلیر مسلمان کو سلام۔دلیر عمر کو سلام،دلیر قصی کو سلام۔

مزید : رائے /کالم