عدالت کا فیصلہ اور فوج کا مورال

عدالت کا فیصلہ اور فوج کا مورال
عدالت کا فیصلہ اور فوج کا مورال

  



سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل کر کے اور پھر ان کی توسیع کو تین سال سے کم کر کے6ماہ کر دینے کا جو حکم صادر کیا ہے، اس کو مختلف طبقہ ئ ہائے فکر مختلف معانی پہنا رہے ہیں …… اس فیصلے کے چند منٹ بعد ہی وزیراعظم کی ٹویٹ آئی کہ اس فیصلے نے دشمن کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔وزیراعظم کے نزدیک اس دشمن کے دو حصے ہیں۔ ایک ملک سے باہر بیٹھا ہے اور دوسرا ملک کے اندر موجود ہے۔ باہر کے دشمنوں میں بیرونی ممالک کی ایجنسیاں بھی ہو سکتی ہیں اور وہ پاکستانی بھی جو باہر کے ممالک میں جا کر بیٹھ گئے ہیں اور وہاں سے حکومت گرانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔اندر کے دشمنوں کو اندرونی مافیاز کہا گیا ہے۔ اس ٹویٹ میں نہ باہر کے دشمنوں کی کوئی تشریح کی گئی ہے اور نہ اندرونی مافیاز کو کھل کر بیان کیا گیاہے۔ اس اہم ترین مقدمے کے فیصلے پر اس تبصرے میں اس طرح کا ابہام ناقابل ِ فہم ہے۔عوام، عمران خان کی اس ٹویٹ کا مطلب کیا نکالیں گے اور فوج جو براہِ راست اس مقدمے کا ایک فریق ہے وہ کیا سمجھے گی،اس بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ میرے خیال میں فوج کے آفیسرز اور جوان اپنے وزیراعظم کی اس تحریر سے جو بھی مطلب اخذ کریں گے وہ مبہم، غیر واضح اور غیر شفاف ہو گا۔ فوج اس قسم کی مبہم اور غیر واضح تحریروں اور تبصروں کی عادی نہیں ہوتی۔وہ واضح احکامات اور پیغامات سننے کی خوگر ہے کہ یہ اس کا پروفیشنل تقاضا ہے۔ فوج کا ہر حکمDo اور Die کا حکم ہوتا ہے۔یہ زندگی اور موت کا کھیل ہے۔ جب سامنے دشمن موجود ہو تو فوج کا آفیسر جب اپنے ماتحت کو کوئی حکم دیتا ہے تو اس میں حیص بیص کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔سپاہی کو اپنے سامنے کی صورتِ حال کی سنگینی کا مآل اپنے آفیسر کو بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ آفیسر خوب سمجھتا ہے کہ صورتِ حال کتنی سنگین ہے اور پھر بھی Do اورDie کا حکم دیتا ہے:

There is not to reason why

There is but to do and die

پی ٹی آئی کی حکومت کو اقتدار سنبھالے15ماہ ہو چکے اور اس مدت میں 15سے زیادہ بار حکومت اور فوج نے واشگاف انداز میں یہ ڈھنڈورا پیٹا کہ فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہیں۔اب اگر سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے دوران یہ ثابت ہو چکا ہے کہ حکومت کے کارندے نااہل ہیں،انہوں نے وہ قانونی اور آئینی تقاضے پورے نہیں کئے جو آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع کا قانونی جواز بن سکتے تھے تو اس کا مطلب یہ بھی تو نکالا جا سکتا ہے کہ فوج بھی نااہل ہے، کیونکہ یہ دونوں ادارے آج کل ایک ہی صفحے پر جو گردانے جاتے ہیں۔ اس فیصلے کا ایک اور ناگفتہ نتیجہ یا اثر یہ بھی ہو گا کہ اب فوج یا حکومت یہ نہیں کہہ سکے گی کہ وہ دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر فوج کو حکومت اور ہر حکومت کو فوج کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ماضی ئ قریب یا ماضی ئ بعید کی حکومتوں کو اگر فوج سے یہ شکایت تھی کہ ان کو فوج کی مکمل حمایت حاصل نہیں تو اس کا پول اس مقدمے میں کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ حکومت اور فوج اگر یک جان دو قالب کہے جا رہے تھے تو یا تو ”جان“ بے جان تھی یا قالب ایک نہیں دو تھے۔ ”جان و قالب“ کی یہ جدائی اور فاصلہ جس شدت اور جس وضاحت سے اس کیس میں سامنے آیا ہے وہ کسی مزید وضاحت کا محتاج نہیں۔

حکومتی مشتری کو اب ہوشیار رہنا ہو گا کہ اگر یہ سلسلہ چل نکلا ہے تو اس کا تسلسل جاری رہے گا۔ آرمی ایکٹ اور MPML (مینوئل آف پاکستان ملٹری لاء) کو از سرِ نو دیکھنا پڑے گا۔ JAG(جج ایڈووکیٹ جنرل) برانچ کا کام بڑھ جائے گا۔ اس میں ایسے قانون دان لانے پڑیں گے جو ملٹری اور سویلین قوانین، احکامات، ہدایات، روایات اور اقدار کے شناسا ہوں۔ پاکستان آرمی نے 14 اگست1947ء کو جو عسکری قانونی مینویل ورثے میں پائی، اُس میں لفظ ”پاکستان“ کا اضافہ / تبدیلی کر کے اس کو من و عن اپنا لیا۔ماضی میں سپریم کورٹ یا کسی اور عدالت نے اس مینویل اور ایکٹ پر کوئی زیادہ دھیان نہ دیا۔ فاضل جج صاحبان اسے فوج کا اندرونی معاملہ سمجھتے رہے۔فوجی قوانین اور اس کی اصطلاحیں،سویلین قوانین و اصطلاحات کے مقابلے میں چونکہ اجنبی اور جداگانہ تھیں اس لئے ان پر کوئی زیادہ مغز کھپائی نہ کی گئی۔لیکن یہ قوانین و ضوابط کوئی مر مر کی سلیں نہیں ہوتیں کہ غیر متبدل یا غیر متغیر رہتی ہیں۔معاشرتی اقدار کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ یہ قانونی اقدار بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

ہم کہ دستور کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں۔ …… اور شاید ایسا ہی ہو…… لیکن گاہے بگاہے اس میں ترمیم بھی کرتے رہتے ہیں۔ان ترامیم یا تبدیلیوں کو مرورِ ایام کے ساتھ دستور کا حصہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں ہر دس بیس برس کے بعد آئین میں ان ترامیم کو شامل کر کے اس کا ایک ”جدید ایڈیشن“ شائع کر دینا چاہئے۔ یہ نہیں کہنا چاہئے کہ آئین کی18ویں ترمیم میں یہ کہا گیا ہے اور 16ویں ترمیم میں یہ بتایا گیا تھا! قانونی باریکیوں کی مجھے کچھ زیادہ خبر نہیں، لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ وقت آ گیا ہے کہ جنرل ہیڈ کوارٹر، نیول ہیڈ کوارٹر، ائر ہیڈ کوارٹر، وزارتِ قانون، وزارت دفاع اور دوسرے متعلقہ سول / عسکری ادارے ایسے قوانین و ضوابط وضع کریں جو جامع ہوں،اپنی تشریح خود کرتے ہوں اوران میں کوئی ابہام یا سقم نہ ہو (یا اگر ہو بھی تو اس کو عدالتوں میں گھسیٹ لے جانے کی بجائے پہلے متعلقہ اداروں میں گھسیٹ لے جانا چاہئے)۔آئے روز ملک کے بڑے بڑے عالی دماغ وکلا، قانون دان اور ریٹائرڈ جج حضرات ٹی وی سکرینوں پر جلوہ فرما دیکھے جاتے ہیں۔ان سے درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ ان قانونی (اور آئینی) اسقام کو دور کرنے میں فوج اور عدالتوں کی مدد کریں۔

آج اگر آرمی چیف کی مدتِ ملازمت، سپریم کورٹ میں زیر بحث لائی جا سکتی ہے تو کل کلاں فوج کے دوسرے موضوعات بھی اسی زد میں آ سکتے ہیں۔ مثلاً کور کمانڈروں کی تقرریوں کے پس ِ پشت کار فرما پروفیشنل محرکات اور ان کا میرٹ، فوجیوں کو بہادری کے انعامات (Gallantry Awards) دیئے جانے کا جواز، ریٹائرڈ سینئر فوجیوں کو زمینوں کی الاٹ منٹ کا جواز، ملک بھر کی DHAs(ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیز) کے قیام کا جواز اور نشاناتِ حیدر اور ستارہ ہائے جرأت و بسالت وغیرہ کی عطائیگی کا میرٹ وغیرہ۔ان موضوعات میں آج تو فوجی کمانڈروں کے احکامات کو حرفِ آخر سمجھا جاتا ہے لیکن شائد آنے والے کل میں ان کو بھی چیلنج کر دیا جائے!

لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں توسیع کے اس کیس میں سب سے بڑی کیژلٹی فوج کا مورال ہے۔اس موضوع پر ایک طول طویل کالم لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن مختصراً یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ کوئی مانے یا نہ مانے ان دو چار دِنوں میں فوج کے مورال کا جو ”حشر“ اور نقصان ہوا ہے،وہ ناقابل ِ تلافی ہے۔ اس جراحت کے آثار آج نہیں تو کل ساری قوم کو دیکھنے اور بھگتنے پڑیں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آرمی چیف کے اپنے اختیارات پر فی الحال کوئی بحث نہیں کی گئی، فی الحال صرف حکومتی کارندوں (برسر اقتدار پارٹی کے وزیروں، سیاست دانوں اور بیورو کریٹوں) کی نااہلی کو طشت از بام کیا گیا ہے،فی الحال ان ہی کو آئینہ دکھایا گیا ہے اور فی الحال حکومتی کار گزاری کی تقدیم و تاخیر کی خبر لی گئی ہے۔ یعنی یہ پوچھا گیا ہے کہ اگر صدرِ مملکت مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں تو سفارش کنندہ وزیراعظم، آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع کا نوٹیفکیشن سپریم کمانڈر کے دستخطوں / منظوری سے ایک روز پہلے کیسے جاری کر سکتا ہے، تین سال(یا تین دن) کی توسیع کا قانون کہاں ہے، آرمی ایکٹ کی فلاں فلاں دفعات اور آئین کی فلاں فلاں شقوں کے مفاہیم کا خیال کہاں رکھا گیا ہے اور اگر نہیں رکھا گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہے، وزیر قانون ایک دن مستعفی ہوتا ہے اور دو دن بعد پھر سابق عہدہ سنبھال لیتا ہے تو اس کایا در کایا پلٹ سے حکومتی کارکردگی کی اہلیت یا نااہلی کا بھانڈا کس چوراہے میں پھوٹتا ہے اور اپوزیشن 15ماہ سے اسمبلی کے اندر اور باہر جو یہ ”صدائیں“ بلند کر رہی ہے کہ وزیراعظم نالائق، نااہل اور ناسزا ہے تو ان الزامات کی تردید کیسے کی جا سکتی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

فاضل عدالتِ عظمیٰ نے یہ تو اچھا کیا کہ حکومت کی نااہلی کے ثبوت فراہم کر دیئے،لیکن میرا اندیشہ یہ ہے کہ وجوہات بظاہر کتنی بھی صائب ہوں لیکن جس ملک کی فوج کمزور ہو جائے اس کا زوال نوشتہ ئ دیوار ہوتا ہے۔ یہ زوال فوراً تو نظر نہیں آتا لیکن زیادہ انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا۔ حکومتی کارندوں کی اس نااہلی کی وجہ سے قطع نظر اس کے کہ یہ دانستہ تھی یا نادانستہ، فوجیوں کا عمومی مورال ضرور متاثر ہوا ہے۔متاثر ہونے کے حجم پر بحث کی جا سکتی ہے۔لیکن میری نظر میں اس سے یکسر انکار نہیں کیا جا سکتا۔ افسروں، جونیئر کمیشنڈ افسروں، نان کمیشنڈ افسروں اور سولجرز کو تو چھوڑیں، موجودہ فوج کا تو ہر ریکروٹ کم از کم میٹرک سیکنڈ ڈویژن پاس ہے۔آج کی فوج نیم خواندہ یا ناخواندہ نہیں۔سوشل میڈیا، موبائل فون اور الیکٹرانک میڈیا وغیرہ نے چھوٹے سے چھوٹے رینک کے مبلغِ علم و معلومات میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔ مَیں کل رات ایک فوجی تقریب میں مدعو تھا۔ میرا ڈرائیور ایک ضروری کام کے لئے چھٹی پر تھا اس لئے واپسی پر مجھے ایک فوجی ڈرائیور کے ہمراہ گھر آنا پڑا۔ راستے میں،مَیں نے ڈرائیور سے ”حالاتِ حاضرہ“ پر اس کا ردعمل پوچھا تو وہ پھٹ پڑا۔…… مَیں اس کے جذبات کو تحریر میں نہیں لا سکتا کہ اس سے بہتوں کا ”بھلا“ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس نے مجھے یہ کہہ کر حیران کر دیا:”سر!نپولین بوٹا پارٹ کا قول ہے کہ ایک انفنٹری ڈویژن جس کی سپاہ کا مورال اگر بلند ہو تو وہ دشمن کے تین ایسے انفنٹری ڈویژنوں کو شکست دے سکتا ہے جن کا مورال ڈاؤن ہو…… اس کیس نے ہمارے مورال کو متاثر کیا ہے۔ کسی سویلین محکمے نے اگر قانون و ضوابط کو فالو نہ کرنے کا ارتکاب کیا ہے تو اس کی پاداش میں آرمی چیف تک کو موردِ الزام ٹھہرا کر اور ان کی مدتِ توسیع کو گھٹا کر 6ماہ کر دینا میرے خیال میں کوئی مورال بوسٹر نہیں۔“ یہ سن کر میں نے اسے سمجھایا کہ عدالت نے تو بہت فیاضی دکھائی ہے کہ حکومتی نااہلی کے باوجود 6ماہ دے دیئے ہیں۔پھرمَیں نے حیران ہو کر پوچھا:”آپ کی تعلیم کیا ہے؟“، ”سر! میں نے پولیٹیکل سائنس اور اسلامیات میں ایم اے کیا ہوا ہے!!“……

مزید : رائے /کالم