آسٹریلیاں کیخلاف قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر سابق کرکٹرز برس پڑے

آسٹریلیاں کیخلاف قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر سابق کرکٹرز برس پڑے

  



لاہور(سپورٹس رپورٹر) پاکستان اور آسٹریلیا ٹیسٹ سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی پر  سابق کرکٹرز برس پڑے۔قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی رمیز راجا نے اپنے ٹوئٹر اکانٹ پر لکھا کہ کیا کرکٹ مینجمنٹ ماڈل کو فٹبال مینجمنٹماڈل کی طرز پر نہیں ہونا چاہیے؟رمیز راجا نے پی سی بی کے کوچنگ اسٹاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پے در پے شکستیں یا پھر ایک سے دو ماہ کی بری کارکردگی کوچنگ اسٹاف کو تبدیل کرنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔رمیز راجہ نے  آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن پر مستقبل میں کینگروز کے دیس نہ جانے کا مشورے دے دیا اورکہ اگر آپ کے پاس ایسے پلیئرز نہیں جو ٹیسٹ میچز جیت سکیں تو پھرآسٹریلیا کا سفر نہیں کرنا چاہیے، ای ین چیپل کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور بڑے بے جوڑ مقابلے رہے، آسٹریلوی شائقین نے وارنر کی ٹرپل سنچری پر زیادہ خوشی کا اظہار نہیں کیا اور الزام لگایا کہ پاکستان نے مقابلہ نہیں کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ بابراعظم کے سوا کسی اور کا فٹ ورک درست نہیں رہا، انھوں نے اپنی وکٹیں حریف بولرز کو تحفے میں پیش کیں۔دوسری جانب  سابق کپتان معین خان نے کوچ کو تبدیل کرنے کے حوالے سے نعیم الحق کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ  انہوں نے جو بات کہی وہ درست کہی ہے۔ پاکستانی بلے بازوں نے غلط شاٹ کھیل کر خود وکٹیں گنوائیں، اگر نوجوان بولرز کو موقع دے رہے ہیں تو مکمل موقع دیں۔ پہلے ٹیسٹ کے بعد تین تبدیلیاں کر کے ٹیم میں بے یقینی خود پھیلائی جا رہی ہے۔عبدالرزاق کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے لحاظ سے آسڑیلیا ایک مشکل ملک ہے اور مشکل حالات میں ہی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ  محض نیٹ کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو میچ کھلانا شروع کردیں تو یہی نتائج ملیں گے، آسٹریلوی ٹیم نچلی رینکنگ کے باعث ہمارے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار نہیں تھی، اسے اچھا موقع سمجھیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو موقع اور اعتماد دیا جانا چاہیئے، دوسرے ٹیسٹ میں تین تبدیلیوں کا مطلب ہے کہ پہلے ٹیسٹ میں سلیکشن غلط تھی۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی