سی ڈی اے کی گاڑیوں کا سرکاری خرچ پر نجی استعمال، خزانے کو بھاری نقصان 

سی ڈی اے کی گاڑیوں کا سرکاری خرچ پر نجی استعمال، خزانے کو بھاری نقصان 

  



اسلام آباد(آن لائن)سی ڈی اے کے شعبہ ٹرانسپورٹ کی کرپشن کا پردہ چاک،شعبہ انفورسمنٹ کا عملہ سرکاری  لوڈر گاڑیوں کونجی امور کے لئے بے دریغ استعمال کرتے ہیں جس وجہ سے قومی خزانے کو ہر ماہ  پیٹرول،ڈیزل،گاڑیوں کی ڈینٹنگ پینٹنگ اور مکینکل کاموں کی مد میں مبینہ طور پرکروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے انفورسمنٹ کا عمل ہفتہ اتوار سرکاری گاڑیوں کو اپنے ذاتی استعمال میں رکھ کر ان گاڑیوں کے ذریعے بجری ریت اور گھریلیو ساز و سامان کی لوڈ کرکے روزانہ ہزاروں روپے کی دیہاڑیاں لگاتے ہیں ذرائع نے بتایا کہ پرائیویٹ سامان کی لوڈنگ کے لئے شعبہ انفورسمنٹ کے روزانہ تین ٹرک اور ہفتہ اتوار 6ٹرک استعمال کئے جاتے ہیں افسران سے ملی بھگت کرتے ہوئے ڈرائیور چھٹی کے روز ہیڈ آفس سے گاڑیاں لے جاتے ہیں اور ان گاڑیوں کو اسلام آباد کے دیہی علاقوں ترلائی، علی پور، ترامڑی اور اس کے قریب و جوار علاقوں میں پرائیویٹ لوگوں کے گھریلیو سامان کے علاوہ ریت بجری اینٹیں بھی ان ہی ٹرکوں پر لوڈ کر کے گھروں تک پہنچائی جاتی ہیں اور اگر کوئی شکایت ہو جائے تو افسران یہ کہ کر خانہ پری ڈال دیتے ہیں کہ یہ ہمارے افسران کا سامان ہوتا ہے اور انہیں سرکاری طور پر ادارے کے ٹرک کرائے پر استعمال کرنے کی اجازت ہے اس غیرقانونی ٹرانسپورٹ کواپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے سی ڈی اے کے شعبہ ٹرانسپورٹ افسران و ملازمین ہر ماہ کروڑوں روپے کا سرکاری پیٹرول،گاڑیوں کے مکینکل پارٹس و فٹنگ کی مد میں غبن کیا جاتا ہے۔“آن لائن“کی خصوصی انسپیکشن کے مطابق سی ڈی اے کے شعبہ انفورسمنٹ کی گاڑی نمبرGE 685ICT aslamabadجو ترلائی کے علاقے سے ایک پرائیویٹ دکان سے گھریلواستعمال کا سامان لوڈ کر رہی تھی اس ڈرائیور کے ساتھ عملے کے تین افراد مزید لوڈنگ کا کام کر رہے تھے انہوں نے ایک ٹرک بھر کر صبح کے تقریبا 11بجے پھیرا لگایا اور پھر 1بجے دوسرا ٹرک بھر اور 3بجے تیسرا اس طرح ان سرکاری ٹرکوں کو روزانہ استعمال میں لاے جاتا ہے ٹرک ڈرائیور سے نام پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی نام نہیں جو کچھ کہنا ہے ہمارے ڈائریکٹر اظہر خورشید سے کہو۔ مظہرحسین ڈائریکٹر ایڈمن سے متعدد بار فون ملایا لیکن موصوف نے اپنا نمبر اٹینڈ نہیں کیا اس کے بعد آن لائن نے ڈائریکٹرپی آر و ترجمان سی ڈی اے صفدرشاہ سے  موقف پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ کس بے دردی سے سرکاری گاڑیاں استعمال میں لائی جا رہی ہیں اگرکسی سی ڈی اے کے آفیسر کو اپنے ذاتی کام کیلئے گاڑی چاہئے ہوتی ہے تو وہ بھی ادارے کو قانونی طور پر درخواست دیتا ہے اور ادارہ اس آفیسر سے کلومیٹر کے حساب سے رقم وصول کرتا ہے انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ذریعے استعمال کرنے والے افسران و ڈرائیوروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری طرف چیئرمین سی ڈی اے نے ادارے کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ڈائریکٹوریٹ کے افسران اور عملے کی خراب کارکردگی،پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی میں غفلت اور کام میں عدم دلچسپی پر افسران اور عملے سے جواب طلب کر لیا۔ اس ضمن میں سی ڈی اے کے ممبر ایڈمنسٹریشن نے مراسلہ جاری کر دیا ہے جس میں آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ کے افسران اور ملازمین کی خراب کارکردگی پر چیئرمین سی ڈی اے کی طرف سے نا پسندیدگی کے اظہار کی روشنی میں ان کو تین دن کے اندر جواب جمع کرانیکی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید : علاقائی