سی ٹی ڈی  کی بدولت دہشتگردی کے واقعات میں کمی آ ئی،شعیب دستگیر

سی ٹی ڈی  کی بدولت دہشتگردی کے واقعات میں کمی آ ئی،شعیب دستگیر

  



لاہور(کرائم رپورٹر)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گرد و شدت پسند عناصر اور تخریب کاروں کے خاتمے میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سپیشل برانچ کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور ان اداروں کی بروقت کاروائیوں کی بدولت صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں گذشتہ برسوں کی نسبت نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی ٹی ڈی ہیڈ کوارٹرز پنجاب اور سپیشل برانچ ہیڈ کوارٹرزرابرٹس کلب کے دورے کے دوران افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ انکے سہولت کاروں بالخصوص فنانسرز کے قلع قمع کرنے کے عمل کو جاری رکھا جائے اور شدت پسندی اورفرقہ واریت کوفروغ دینے والے گروہوں یا تنظیموں کی سرگرمیوں کی بطور خاص نگرانی کی جائے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ شہریوں کے سیکیورٹی کلئیرنس کیسز میں تاخیر ہرگز برداشت نہیں، ایسے کیسز کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے جبکہ سپیشل برانش جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں بارے ضلعی پولیس کو بروقت معلومات کی فراہمی کا سلسلہ مزید تیز کرے۔ سی ٹی ڈی ہیڈ کوارٹرز دورے کے دوران ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد طاہررائے نے آئی جی پنجاب کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں 2019میں دہشت گردی کے واقعات میں 90فیصدکمی واقعہ ہوئی ہے جبکہ پنجاب میں پچھلے تین برسو ں میں فرقہ ورانہ دہشت گردی کا ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا، دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کا پنجاب سے مکمل خاتمہ کردیا گیا ہے جبکہ القاعدہ اور داعش کے خلاف بھی موثر کاروائیاں کی گئی ہیں،رواں برس کے گیارہ مہینوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف 281مقدمات درج کرکے310دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا 267ملزمان کے چالان عدالت میں پیش کئے گئے جن میں سے136دہشت گردوں کو عدالتوں نے سزا سنادی ہے جبکہ باقی ملزمان کے مقدمات ابھی زیر سماعت ہیں۔ دہشت گردوں کے قبضے سے5خودکش جیکٹیں، 100کلو بارود، 125ہینڈ گرنیڈ، 200ڈیٹونیٹر، 15کلاشنکوف، متعدد پستول اور گولیاں برآمد کی گئیں۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے جرم میں 173ملزموں کو گرفتار کیا گیا ان کے قبضے سے 12ملین روپے کے دہشت گردانہ فنڈز برآمد کئے گئے 61مالی معاونت کاروں کو عدالت سے سزا سنا دی گئی ہے اقوام متحدہ کی طرف سے پابندی یافتہ تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف ٹیررزم فنانسنگ کے مقدمات قائم کئے گئے ہیں جو کہ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے مزیدبتایا کہ مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مذہبی منافرت پر مبنی تحریروں والی درجنوں کتابیں اور 300سی ڈیز ضبط کرکے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں جبکہ منافرت پر مبنی تقریریں کرنے والے50ملزمان کو سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ انہوں نے آئی جی پنجاب کو یقین دلایا کہ دہشت گردوں اور انکے مالی معاونت کاروں اور سہولت کاروں کے خلاف قانونی کاروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور کسی تنظیم کو صوبے کا امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزیدبتایا کہ داتا دربار بم دھماکہ کیس کے سہولت کار کو گرفتار کرلیا گیاتھا اور دو دن پہلے اس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزائے موت کی سزا سنائی گئی ہے۔آئی جی پنجاب نے سی ٹی ڈی کے اقدامات کی تعریف کی اورسی ٹی ڈی آپریشنز جاری رکھنے واور اس حوالے سے درکارہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔سپیشل برانچ ہیڈ کوارٹرز رابرٹس کلب دورے کے دوران ایڈیشنل آئی جی زعیم اقبال شیخ نے آئی جی پنجاب کو تنظیمی ڈھانچے اور کارکردگی کے متعلق آگا ہ کیا جس پر آئی جی پنجاب نے ہدایات دیتے ہوئے کہاکہ صوبے میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے میں سپیشل برانچ کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے چنانچہ بروقت معلومات کی فراہمی کو یقینی کیلئے انٹیلی جنس ونگ کومضبوط سے مضبوط کیا جائے اور کسی بھی ممکنہ بحران یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے قبل از وقت رپورٹنگ کیلئے سپیشل برانچ کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر کیا جائے۔  انہوں نے مزیدکہاکہ اہلکاروں کی کپیسٹی بلڈنگ کیلئے ریفریشر کورسز اور تربیتی ورکشاپس کے سلسلے کو جاری رکھا جائے تاکہ دوران ڈیوٹی افسران واہلکار اپنی ذمہ داریوں سے بہتر سے بہتر انداز میں نبرد آزما ہوسکیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ حساس اضلاع میں روزانہ کی بنیاد پر سرچ، سویپ، کومبنگ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھے جائیں اورکومبنگ آپریشنز کے دوران جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈ ایڈمن راؤ عبدالکریم، ڈی آئی جی وی وی آئی پی سیکیورٹی مرزا فاران بیگ، ایس ایس پی ایڈمن ندا عمر چھٹہ، ایس ایس پی سروے، عرفان عامر، ایس ایس پی سیکیورٹی ہیڈ کوارٹرز،حسن افضال،ایس ایس پی انٹیلی جنس شاکر حسین داوڑسمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

مزید : علاقائی