اقلیتوں سمیت تمام شہریوں کے حقوق برابر، زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کو بااختیار بنانا ہوگا: چیف جسٹس

  اقلیتوں سمیت تمام شہریوں کے حقوق برابر، زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کو ...

  



لاہور(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) چیف جسٹس پاکستان آصف سعید خان کھوسہ کا کہنا ہے کہ آئین میں اقلیتوں سمیت ہرشہری کو برابر حقوق حاصل ہیں۔معاشرے میں خواتین کا کردار بڑھتا جارہا ہے جب کہ نوکریوں کے لیے خواتین کا خصوصی کوٹہ مختص ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں 50 برس سے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کررہی ہیں تاہم زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کو با اختیار بنانا ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا ہے کہ مقدمات میں خواتین کی ضمانت میں نرمی کی ضرورت ہے، ضلعی عدلیہ میں 300خواتین ججز فرائض سر انجام دے رہی ہیں، سپریم کورٹ میں بھی خواتین ججز کی جلد تعیناتی ہوگی، خواتین ججز مردوں کے غالب معاشرے میں کام کررہی ہیں، زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کو بااختیار بنانا ہوگا کیونکہ معاشرے میں خواتین کاکرداربڑھتا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تیسری ویمن ججز کانفرنس کے آخری روز خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار شمیم احمد خان، جسٹس عائشہ اے ملک سمیت دیگر بھی موجود تھے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مذکورہ کانفرنس کے انعقاد سے خواتین ججز کی حوصلہ افزائی اورخواتین کی قانون کے شعبے میں حوصلہ افزائی ہوگی۔خواتین ججزکانفرنس کا انعقاد ہم سب کیلئے باعث فخرہے،خواتین کے لئے ہر سال ہونے والی یہ کانفرنس لاہور ہائی کورٹ اور جوڈیشل اکیڈمی کا اہم اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پاک میں بار بار انصاف کی فراہمی کی تلقین کی گئی،اللہ تبارک و تعالی ہمیں انصاف کرنے اور امانتوں کو خیانت کے بغیر لوٹانے کا حکم دیتا ہے،اللہ تعالی فرماتے ہیں میں انصاف کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتا ہوں،یہ اللہ تعالی ہم سے کہہ رہا ہے کیونکہ ہم اللہ کی صفت کے امین ہیں،دنیا میں انصاف کرنا، جنت حاصل کرنے کا بہت ہی سستا سودا ہے،انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے افراد اللہ کے برگزیدہ بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔معاشرے کے مظلوم افراد کو بہترین انصاف کی فراہمی بہت بڑی عبادت ہے،ہم عدالتوں میں انصاف کرنے کیلئے بیٹھتے ہیں،ہمیں مقدمات کی ایک کاز لسٹ دی جاتی ہے جو ہمارے پاس امانت ہوتی ہے،اگر ہم پوری کاز لسٹ میں موجود مقدمات نہیں سن لیتے تو لوگوں کی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ جینڈر بیسڈ کورٹس بڑا اقدام ہے،پاکستان میں صنفی امتیاز شروع سے ہی چلتا آرہا ہے،ملازمتوں سے لے کر تعلیمی اداروں میں کوٹہ تک ہر جگہ صنفی امتیاز موجود ہوتا ہے،خواتین کو معاشرے میں مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے،وراثت میں حق کا معاملہ ہو یا روزمرہ گھریلو تشدد کا سلسلہ خواتین کی اکثریت ایسے مظالم کا شکار ہے،ہمارا آئین اور مختلف قوانین خواتین کو خاص حقوق دیتے ہیں،ضابطہ فوجداری کے تحت خاتون ملزم کو ضمانت ملنے آسانی موجود ہے،ہمیں خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔۔خواتین ججز بہت سارے مقدمات میں بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں،عدالتوں میں مردوں کی مانند سخت بننے کی کوشش نہ کریں، بطور خواتین ججز فریقین آپ کے رویے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں،ہمارے معاشرے میں ابھی بھی منفی سوچ موجود ہے،خواتین ججز کی عدالتوں سے مقدمات ٹرانسفر کرنے کی درخواستیں دی جاتی ہیں،خواتین ججز اپنے رویے، کوڈ آف کنڈکٹ اور فیصلوں سے منفی لوگوں کی سوچ کو بدلیں،عدالتوں میں ججز کا سخت رویہ وکلا ء اور فریقین پر برا اثر ڈالتا ہے،عدالتوں کو شائستہ انداز میں میرٹ اور قانون کے مطابق چلائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ضلعی عدالتوں میں 300سے زائد خواتین ججز خدمات انجام دے رہی ہیں،سپریم کور ٹ میں بھی خواتین ججز کی تعیناتی جلد ہوگی،خواتین ججز مردوں کے غالب معاشرے میں کام کررہی ہیں،خواتین ججز ذہنی تناؤ سے آزاد ہو کراپنا کام کریں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار محمد شمیم خان نے کہا کہ تین روزہ ویمن ججز کانفرنس بہت کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی ہمیں حکم دیتا ہے کہ مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے محافظ ہیں،قانون کی نظر میں کوئی بھی حقیر یا بالاتر نہیں ہے،صرف صنف کی بنیاد پر کسی کو بھی اس کے حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آج خواتین ہر میدان میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں،ہماری عدلیہ میں خواتین کا بہت بڑا حصہ ہے،پنجاب کی خواتین ججز بہترین فیصلے کررہی ہیں،خواتین ججز کو ہر ممکن سہولیات فراہم کررہے ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ججز آئین اور قوانین کے محافظ ہوتے ہیں،ہمیں معاشرے کے مظلوم طبقے کو حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے،ہماری جینڈر بیسڈ اور جووینائل کورٹس بہترین کام کررہی ہیں۔جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد خواتین ججز کی عدالتوں میں نظر آئے گا۔ایک جج کو مکمل طور پر عمر، رنگ، نسل اور صنف سے بالاتر ہوکر انصاف کرنا ہوتا ہے،ہماری عدالتوں میں آنے والا ہر شخص فیئر ٹرائل کا طلبگار ہوتا ہے۔جج کی نظر میں کوئی بچہ، بوڑھا، مرد، عورت یا ٹرانس جینڈر نہیں ہوتا وہ صرف انصاف کا طلبگار ہوتا ہے،بچے چاہے کسی ظلم کا شکار ہوں یا کسی مقدمے میں ملزم ہوں، انہیں عدالتوں میں بہترین ماحول مہیا کیا جانا ضروری ہے۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول