وزیراعظم نے طلبہ یونینوں کی بحالی کا عندیہ دیدیا 

  وزیراعظم نے طلبہ یونینوں کی بحالی کا عندیہ دیدیا 

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے سرکاری کالجوں اورجامعات میں طلبہ یونین کی بحالی کا عندیہ دیدیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا یونیورسٹیاں مستقبل کے لیڈرز کو پروان چڑھاتی ہیں اور طلبہ یونینز مستقبل کے لیڈرز بنانے میں اہم ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا بدقسمتی سے پاکستان کی جامعات میں طلبہ یونینز پرتشدد بن چکی ہیں اور جامعات میں علم و دانش کا ماحول مکمل طور پر تباہ ہوکر رہ گیاہے۔ان کا کہنا ہے ہم دنیا کی صف اول کی جامعات میں رائج بہترین نظام سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے ایک جامع اور قابل عمل ضابطہ اخلاق مرتب کریں گے تاکہ ہم طلبہ یونینز کی بحالی کی جانب پیش قدمی کریں اور انہیں مستقبل کی قیادت پروان چڑھانے کے عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکیں۔ حکومت جامع اور نافذالعمل ضابطہ اخلاق تشکیل دے گی اور ہم دنیا کی معروف یونیورسٹیوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ضابطہ اخلاق سے طلبہ تنظیمیں مثبت طور پر کام کر سکیں گی اور طلبہ تنظیموں سے حقیقی معنوں میں مستقبل کے لیڈرز نکلیں گے۔یادرہے طلبہ یونین کی بحالی کیلئے ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ نے 29 نومبر کو احتجاج کیا تھا، دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی ناصر باغ مال روڈ پر مختلف طلبہ تنظیموں کے زیراہتمام ریلی نکالی گئی تھی جس میں طالبات نے بھی شرکت کی تھی۔خیال رہے کہ پاکستان میں 35 سال سے طلبہ یونینز پر پابندی عائد ہے اور یہ 80 کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں لگائی گئی۔سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار کے بعد 2008 میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پہلے خطاب میں طلبہ یونینز کی بحالی کا اعلان کیا لیکن اس پر کوئی عمل نہ کیا گیا۔23 اگست 2017 کو سینیٹ نے متفقہ قرار داد پاس کی کہ یونینز کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں لیکن قومی اسمبلی میں مسلم لیگ  کی اکثریت ہونے کے باعث اسے اسمبلی سے پاس نہیں کرواسکی تاہم 35 برس سے طلبہ تنظمیں یونینز بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں 

عمران عندیہ

مزید : صفحہ اول