سعودی عرب جی-20 کی صدارت حاصل کرنیوالا پہلا عرب ملک بن گیا

  سعودی عرب جی-20 کی صدارت حاصل کرنیوالا پہلا عرب ملک بن گیا

  



سعودی عرب نے جاپان سے جی-20 کی صدارت حاصل کرلی اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا جبکہ مستقبل میں عالمی سطح پر ان کے وسیع کردار کی امید بحال ہوگئی ہے۔خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اتوار کو جی -20 کی صدارت سنبھال لی اور جاپان صدارت سے سبکدوش ہو گیا اور سعودی عرب اگلے برس 21 نومبر سے 22 نومبر تک ریاض میں عالمی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق‘سعودی عرب نے آج جی-20 کی صدارت سنبھال لی ہے اور ریاض میں عالمی سربراہی کانفرنس ہوگی، سعودی عرب اپنی صدارت کے دوران جاپان کی جانب سے شروع کیے گئے اقدامات کو جاری رکھنے اور عالمی سطح پر اتفاق رائے کو پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے’۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس پیش رفت کو عالمی اتفاق رائے کو ترتیب دینے کے لیے منفرد موقع قرار دیا۔ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب 100 سے زیادہ پروگراموں اور کانفرنسوں کی میزانی کرے گا جس میں وزرا کے اجلاس بھی شامل ہیں۔گلوبل سلوشنز انشیٹیو نامی تھنک ٹینک کے صدر ڈینس اسنوور نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ‘جب سعودی عرب جی-20 کی صدارت شروع کرے گا تو وہ پہلا عرب ملک ہوگا جو اس تنظیم کی سربراہی کرے گا’۔ان کا کہنا تھا کہ‘یہ صدارت سعودی عرب کے لیے ایک امتحان ہوگا کیونکہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی، کم شرح پیدائش، آبادی کے حوالے سے مسائل سمیت دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی قوم پرستی اور مقبولیت پرستی کثیرالجہتی ترقی کو روک رہی ہے’۔خیال رہے کہ سعودی عرب پر گزشتہ ایک برس سے زائد عرصے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد شدید تنقید کی جاتی رہی ہے اور سعودی مملکت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے اور اسی طرح عالمی سطح پر شدید دباؤ کاسامنا رہا ہے تاہم اب اس تازہ فیصلے سے سعودی عرب کو ایک مرتبہ پھر اپنی ساکھ کو بحال کرنے کا موقع مل گیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظمیں جی-20 رکن ممالک پر زور دیتی رہی ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ وہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھائیں کیونکہ وہاں پر کئی خواتین، صحافی اور سیاسی مخالفین کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ایک تنظیم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں کم ازکم 9 ماہرین تعلیم، ادیب اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جو گزشتہ دو برس سے دانش وروں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔خیال رہے سعودی عرب کے فرمان روا شاہ سلمان کے بیٹے محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے لیے مملکت میں مختلف شعبوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور کئی قوانین میں نرمی لاتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سعودی عرب کی جانب سے خارجہ امور پر جارحانہ پالیسی کا ا?غاز کیا گیا تھا اور پڑوسی ملک قطر سے تعلقات منقطع کردیے گئے تھے تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کی توقع کی جارہی ہے۔

سعودی عرب 

مزید : صفحہ اول