آرمی ایکٹ میں ترمیم، اپوزیشن سے مشاورت کے لئے کمیٹی قائم، اتحادیوں جماعتوں سے بھی صلاح، مشورہ شروع شاہ محمود قریشی، گورنر سندھ کی ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات، تحفظات دو ر کرنے کی یقین دہانی 

  آرمی ایکٹ میں ترمیم، اپوزیشن سے مشاورت کے لئے کمیٹی قائم، اتحادیوں ...

  



اسلام آباد،کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)حکومت نے آرمی ایکٹ میں ترمیم اور دوسری آئینی اصلاحات کیلئے اپوزیشن کیساتھ مشاورت اور اتفاق رائے کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک اور اسد عمر  کو شامل کیا گیا ہے وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے آئین میں کچھ کمی موجود ہے جس کی نشاندہی سپریم کورٹ نے کی، سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اپوزیشن کے ساتھ خوش اسلوبی سے معاملات طے کر لئے جائیں گے اور چیف الیکشن کمشنر الیکشن کمیشن کے، ممبران  کی تعیناتی کا معاملہ بھی اپوزیشن کے ساتھ مشاورت سے حل کیاجائے گا۔دریں اثنا حکومت نے آتمی چیف کی مدت ملازت میں توسیع کے حوالے اپنی اتحادی جماعتوں سے مشاورت شروع کر دی ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے  اتوارکوکراچی میں اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے ملاقات کی ہے۔ملاقات کے بعد میڈیا کو شاہ محمود قریشی اور ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے مشترکہ پریس بریفنگ دی۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کا وفد کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکزبہادرآباد پہنچا اورایم کیوایم کے رہنماؤں سے ملاقات کی، پی ٹی آئی وفد میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل سمیت پی ٹی آئی سندھ کے رہنما بھی شریک تھے۔ایم کیو ایم کی جانب سے فروغ نسیم، وسیم اختر، امین الحق اور دیگر نے وفد کا استقبال کیا،  پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم ملاقات میں صوبے کی سیاسی صورتحال، گورننس کے امور، تحریری معاہدے پر عمل درآمد اور بلدیاتی اختیارات سمیت آرٹیکل 140 اے کے نفاذ پر بات چیت ہوئی۔ذرائع نے بتایاکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ ایک وفد چند دنوں بعد ایک  بار پھر ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کرے گا جب کہ شاہ محمود قریشی  نے کہاکہ ایم کیو ایم کے تحفظات کو جلد دور کیا جائے گا۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے سندھ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور لوکل گورنمنٹ کی جو صورتحال تھی، جو نہیں ہونا چاہیے تھی اس کے بارے میں بھی نتیجہ نکالا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مشکل حالات میں متحدہ نے ہماراساتھ دیا  اور اب بھی ہمارے ساتھ ہے۔اور مشکل حالات میں ہی عمران خان نے حکومت سنبھالی، آج ہم معاشی استحکام کی طرف لوٹ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاست و معیشت پر تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کا نکتہ نظر ملتا جلتا ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ آج ایم کیو ایم کی قیادت سے گفتگو ہوئی، اسلام آباد میں اگلی ملاقات سود مند ہوگی۔خالد مقبول نے کہاکہ ایم کیو ایم کی پالیسی واضح ہے،وفاقی حکومت کی غیر مشروط حمایت جاری رکھیں گے، ایم کیو ایم کے مطالبات پر وفاقی حکومت کے کام کی رفتار بہت سست ہے۔انہوں نے کہاکہ سندھ کے شہری علاقے اپنے حصے کی قربانیاں دے چکے ہیں، کراچی چلتا ہے تو ملک بھی چلتا ہے اور یہی معیشت کا انجن ہے، ہم اپنے تعاون کی رفتار کو اور تیز کریں گے، سندھ کے لیے جامع حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھناہے۔انہوں نے کہاکہ جمہوری حکومتیں کراچی کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہوئے کردار ادا کریں۔دوسری طرف  وزیر دفا ع پرویز خان خٹک نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ بالکل صحیح ہے، تما م اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ملکر آرمی چیف کی مدت ملازمت سمیت تمام آئینی اصلاحات  کے معاملات متفقہ طور حل کریں گے، چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمیشن کی تعیناتی کا معاملہ بھی اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کے ساتھ حل کریں گے ملک میں جمہوریت کا تسلسل ملک کے استحکام بقاء اور سلامتی سب کو عزیز ہے  حکومت  اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی،اسمبلیوں کوکوئی خطرہ نہیں،، تمام ادارے بشمول فوج  ایک پیج پر ہے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی حق خودرایت تک ہماری ہر قسم کی مدد کشمیری مسلمانوں کے ساتھ جاری رہیں گی تحریک انصاف کی حکومت غریب عوام کے مسائل حل کرنے تمام وسائل غریب عوام پر خرچ کرنے مہنگائی،بیروز گاری کے خاتمے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں کوشاں ہے وہ کوتر پانڑ،بارہ بانڈ ہ،ادم زئی میں میان حضران بادشاہ کی رہائش گاہ نوشہرہ میں عوامی جلسوں اور تنظیمی عہدایدروں سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے اس موقع پر کوتر پانڑ میں پیپلز پارٹی کے غلام اکبر،عدنان اکبر،علی اکبر،عباس اکبر،بدر منیر،محمد طاہر،محمد ذیشان،عمرزادہ،حضرت حسین،آصف علی کے اپنے خاندانوں اور ساتھیوں سمیت پی پی پی سے مستعفی ہوکر تحریک انصا ف میں شمولیت کی پرویز خان خٹک نے کہا کہ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے اور حکومت نے اپوزیشن کی راہ میں کوئی روکاوٹ نہیں ڈالی لیکن حقیقت یہ ہے کے یہ وقت دھرنو ں اور احتجاجی سیاست کا نہیں ملک انتہائی نازک صورتحال سے گزر ہاہے دشمن پاکستان کی سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے اس لیے یہ وقت قومی یکجہتی کا ہے پاکستان کی بقاء اور سلامتی سب کے لیے مقدم ہونی چاہیے پرویز خان خٹک نے کہاکہ اپوزیشن جمہوریت کا حسن ہے ہم سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہے انہوں نے کہا کہ ائینی اصلاحات سمیت تما م فیصلے اپوزیشن کے ساتھ افہام وتفہیم کے ساتھ حل ہوجائیں گے اس ضمن میں ہم اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مسلسل رابطوں میں ہے کیونکہ یہ ملک ہے تو ہم اپنے اپنے جھنڈوں تلے سیاست کرسکتے ہے انہوں نے کہا کہ ارمی چیف کے حوالے سے ائین میں کچھ کمی تھی جس کی نشاندہی سپریم کورٹ نے کرلی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اپوزیشن کے ساتھ خوش اسلوبی سے معاملات طے ہوجائے گے اپوزیشن جماعتے ذمہ دارانہ سیاست کررہی ہے سب کو اس کاادراک ہے۔

کمیٹی قائم

مزید : صفحہ اول