ملزم ”را“ کی فنڈنگ سے کشمیر میں ٹریننگ کیمپ بنانا چاہتا تھا: انکشاف

  ملزم ”را“ کی فنڈنگ سے کشمیر میں ٹریننگ کیمپ بنانا چاہتا تھا: انکشاف

  



لندن،نئی دہلی (آئی این پی)  لندن برج پر چاقو حملے کی ذمہ داری عالمی دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کر تے ہوئے کہا ہے کہ لندن میں دو افراد کو قتل کرنے والا ہمارا جنگجو تھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق داعش کی جانب سے اس حوالے سے کسی قسم کے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔دوسری جانب برطانوی میڈیا کا بتانا ہے کہ لندن برج پر چاقو سے حملہ کرنے والے ملزم کے لندن آنے پر پابندی عائد تھی، ہلاک ملزم عثمان خان کو ایک دن کیلئے لندن آنے کا استثنیٰ دیا گیا تھا۔مقامی میڈیا کا یہ بھی بتانا ہے کہ عثمان خان کو گزشتہ سال دسمبر میں 20شرائط پر رہا کیا گیا تھا، شرائط میں رہائی کے بعد لندن نہ جانا بھی شامل تھا۔دوسری طرف لندن برج پر حملے میں ملوث حملہ آور، عثمان خان نے بھارتی ایجنسیوں کی فنڈنگ سے کشمیر میں فوجی ٹریننگ کیمپ قائم کرنے کا منصوبہ بنارکھا تھا۔  عثمان خان کو سٹاک ایکسچینج دہشت گردی کے منصوبے میں سزا سنائی گئی تھی۔ اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔انہوں نے بورس جانسن کے گھر پر بھی حملے کا منصوبہ بنایا تھا، جو 2012 ء میں لندن کے میئر تھے۔ سا ؤتھ ایشین وائر کے مطابق حملے کے بعد ان کے کشمیرمیں روابط کاانکشاف ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سکول چھوڑ دیا تھا اور نو عمری میں برطانیہ میں انٹرنیٹ پر بنیاد پرست اسلام کی تبلیغ شروع کردی تھی جہاں ان کی کافی فالورشپ تھی۔لندن میں سرگرم بھارت کے حق میں لابنگ کرنیوالے چند سرگرم کارکنوں سے خان کی میٹنگز کا بھی انکشاف ہوا ہے جن کی طرف سے خان کو کشمیر میں اپنے اہل خانہ کی زمین پر ٹریننگ کیمپ قائم کرنے کے لئے فنڈنگ کی یقین دہانی کروائی گئی۔خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ لائن آف کنٹرول کے قریب آزاد کشمیر کے کچھ علاقوں میں اپنا کنٹرول حاصل کرکے شرعی قانون قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جس کے لئے انہیں وسائل بھی دستیاب تھے انہیں پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں بھی بھیجا گیا تھا جہاں ان کا فوجی ٹریننگ کیمپ مدرسہ کی صورت میں قائم کرنے کا منصوبہ تھا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیاتھا کہ وہ برطانیہ لیٹر بم بھیجیں گے اور برطانوی نسل پرست گروہوں کو نشانہ بنائیں گے۔

لندن برج حملہ،انکشافات

لندن،دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)لندن برج کے قریب حملہ کرنے والے عثمان خان کا پاکستان سے کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکا اور بھارتی میڈیا کے تمام دعوے جھوٹے اور من گھڑت ثابت ہوگئے۔ برطانوی پولیس کے مطابق عثمان خان کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں اور ملزم برطانیہ میں پیدا ہوا، وہیں پرورش ہوئی۔مزید رپورٹ کے مطابق عثمان کے والدین آزاد کشمیر سے سے برطانیہ منتقل ہوئے تھے اور وہ برطانیہ کے شہر ”سٹاک آن ٹرینٹ“ میں پیدا ہوا جہاں اس نے ”پرسیا واک“نامی علاقے میں پسماندہ حالات پرورش پائی اور محرومیوں کا شکار رہا۔عثمان نے چھوٹی عمر میں ہی انتہا پسندوں سے متاثر ہوکر اسکول چھوڑ دیا تھا اور المہاجرون نامی تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ عثمان خان القاعدہ کے نظریات سے متاثر تھا۔مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ عثمان خان کو گزشتہ سال دسمبر میں 20 شرائط پر رہا کیا گیا تھا، ان شرائط میں رہائی کے بعد لندن نا جانا بھی شامل تھا۔بھارتی میڈیا ہمیشہ کی طرح حقائق کو مسخ کرکے پاکستان پر الزام تراشی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور  پاکستان کے خلاف جھوٹے اور من گھڑت پروپیگنڈے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ تاہم اب اس واقعے میں پاکستان کو ملوث کرنے کی بھارتی میڈیا کی کوششیں ایک بار پھر ناکام ہوئی ہیں اور اسے منہ کی کھانی پڑی ہے۔

بھارتی سازش ناکام

مزید : صفحہ اول