پاکستانی حکومت نے کشمیریوں کی صرف تقاریب کی حد تک ساتھ دیا،رانا بشارت

پاکستانی حکومت نے کشمیریوں کی صرف تقاریب کی حد تک ساتھ دیا،رانا بشارت

  



لاہور(سٹی رپورٹر)انسانی حقوق کے ممتاز علمبردار اور ہیومن رائٹس سوسائٹی کے سربراہ رانا بشارت علی خان حکومت پاکستان کی دعوت پر پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد برطانیہ پہنچ چکے گئے۔وہ برطانیہ سے وہ سوئزرلینڈ جنیوا اقوام متحدہ کی طرف سے کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہوجائیں گے رانا بشارت علی خان نے اپنے دورہ پاکستان کے متعلق یہ باتیں صحافیوں سے ایئرپورٹ پر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آج نوجوان ایک نئی روح کی طرف روانہ ہونے کے لئے تیار ہے بدقسمتی کے ساتھ پاکستان میں تعلیمی اداروں اور حکومتی سطح پر طالب علموں کی کوئی کونسلنگ نہیں کی جارہی اور پاکستان کشمیر کے بارے میں کوئی واضح موقف نہیں رکھتا افسوس ہے کہ پاکستانی حکومت نے کشمیریوں کی صرف تقاریب کی حد تک ساتھ دیا نہ ہی ان کے پاس کوئی واضح پلان ہے اور نہ ہی کشمیر کے بارے میں کوئی سیریس اقدام کرنے کے اہل ہیں۔

بدقسمتی کے ساتھ دوست احباب کو سرکاری اور اہم وزارتوں پر فائز کر کے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو ماضی کی سیاست دانوں کی طرح ضائع کردیا گیا ہے ایسے نالائق اور نااہل لوگ حکمران اور اہم وزارتوں پر ہی دن کی قابلیت صرف یہی ہے کہ وہ موجودہ حکمرانوں کے ذاتی دوست یا ساتھیوں میں سے ہیں اگر کشمیر پر کوئی واضح پولیسی ہوتی تو پاکستان کشمیر کے مسئلے کو لے کر دنیا بھر میں اہم اور واضح پوزیشن حاصل کر چکا ہوتا بدقسمتی کے ساتھ ہماری انٹرنیشنل پالیسی نہ ہونے کے مطابق ہے پاکستان کے زیادہ تر وزراء خارجہ اور ایسی بہت سی وزارتیں کشمیر کے مسئلے سے نااہل اور ناواقف ہیں, حکومت کے وقتی اقدامات کے مدنظر یہی واضح ہو رہا ہے کہ حکومت پاکستان اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں مبذول کر رہی وگرنہ یہ چاہیں تو کشمیر کی آزادی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ عوام کو تسلیوں دلاسوں اور اپنے تقریری فلسفوں کی حد تک ہی محدود رکھا جا رہا ہے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر باتوں کی حد تک اجاگر کیا جا رہا ہے, میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر موجودہ حکومت مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے لے اور کشمیر کی بے چاری و بے کس عوام کے ساتھ کھڑے ہونے ان کی آزادی کے لیے اپنے وسائل اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھے تو دنوں میں بھارتی مظالم ان کی بے جا مداخلت سے آزاد کرایا جا سکتا ہے. اس کے ساتھ ہی رانا بشارت علی خان کا کہنا تھا کہ یہ وہ وقت ہے جب الفاظ کے بجائے عملی اقدامات کی سخت ضرورت ہے

مزید : میٹروپولیٹن 1