زرعی ترقی کا معاشی ترقی میں کلیدی کردار ہے‘ احمد جواد

      زرعی ترقی کا معاشی ترقی میں کلیدی کردار ہے‘ احمد جواد

  



لاہور(کامرس ڈیسک)ایف پی سی سی آئی کے سابق چیئرمین برائے ہارٹی کلچر و سیکرٹری جنرل (فیڈرل) بزنس مین پینل احمد جواد نے کہا کہ زراعت کی بہتری کے لیے حکومت کو ایک دیرپا پالیسی دینا ہو گی۔احمد جواد نے کہا کہ گندم‘ مکئی اور چاول کی پیداواری لاگت میں اس دفعہ تیس فیصد تک کی کمی ہوئی جب کہ پیداوار کی کمی میں 45فیصد تک کمی واقع ہوئی۔ دوسری طرف زرعی شعبے کے لیے بجلی کا ٹیرف ریٹ 5.35روپے مقرر کیا گیا اس کو اس وقت بجلی کے بلوں میں تقریباً پندرہ روپے فی یونٹ ڈالا جا رہا۔ انہوں نے کہا جب تک زراعت کا شعبہ ترقی نہیں کرے گا‘ ملک کی معیشت پروان نہیں چڑھ سکتی۔ اگر ہم نے ملک کے GDPگروتھ کو 8فیصد پر لے کر جانا ہے تو زراعت کے لیے ہمیں ایک ایسا جامع پلان دینا ہو گا جس سے جی ڈی پی گروتھ میں بہتری آ سکے۔ خالی انڈسٹری کو فروغ دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کھاد کی قیمتوں میں جوا ضافہ ہو رہا ہے اسے فی الفور واپس لیا جائے اور وفاقی اور صوبائی مینجمنٹ پرائس کنٹرول کمیٹیاں نہ صرف کھاد اصل قیمت پر کسانوں کو پہنچائیں بلکہ اس میں کمی بھی لائیں۔ملکی معیشت کواٹھانے کے لیے زراعت کے شعبے کو اٹھانا پڑے گا۔احمد جواد نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے مگر اسکے باوجود فوڈ سیکورٹی کا سنگین مسئلہ موجود ہے کیونکہ اشیائے خورد و نوش کی کوئی کمی نہیں مگر انکی قیمت زیادہ ہے۔

جسکی وجہ سے غریب غذائیت حاصل نہیں کر پاتے۔انھوں نے کہا کہ یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں سے نصف بھوک کا شکار ہیں۔مغربی ممالک میں جہاں بچوں کی بڑی تعداد موٹاپے کا شکار ہو رہی ہے وہیں ترقی پذیر ممالک میں انھیں مناسب خوراک میسر نہیں ہے جس سے انکی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔پاکستان ان 7 ممالک میں شامل ہے جہاں غذائیت کے مسائل کا شکار ہونیوالے بچوں کی اکثریت ہے۔یہاں بچوں کی اموات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ اور زچگی میں اموات کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھوک مٹانے کے لئے اقتصادی مواقع کی فراہمی،دولت کی مساوی تقسیم، زرعی اجناس کی قیمتوں میں کمی اور سرپلس پیداوار کو ضائع کرنے کے بجائے غریبوں تک پہنچانا ضروری ہے تاکہ ملک میں صحت عامہ کے مسائل حل کئے جا سکیں۔اس وقت پاکستان 119 ممالک کی درجہ بندی میں 106 نمبر پر ہے جبکہ بھارت سے اس تین درجہ بہتر ہے۔دنیا کے درجنوں ممالک میں بھوک پر تحقیق کے دوران یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ لنگر بھوک مٹانے کا کارآمد نسخہ نہیں ہے۔یہ بھوک کا عارضی حل ہے جس سے سفید پوش ضرورت کے باوجود توہین کے خوف سے ان سے دور رہتے ہیں اور صرف آخری درجہ کے غریب ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اسی وجہ سے بہت سے ممالک جو بھوک ختم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں انھوں نے لنگروں کے بجائے ہنر کی تربیت، روزگار کی فراہمی اور دیگر اقتصا دی اقدامات کئے جو نتیجہ خیز رہے ہیں۔احمد جواد نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اکنامک کوارڈی نیشن کمیٹی (ECC) فوری طور پر کھادوں کی قیمت میں کمی کا اعلان کرے اور اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کے بجلی کے پرانے ٹیرف کو بحال کیا جائے تاکہ ملک کے کسان اور زمیندار کی حوصلہ افزائی ہوئی اور وہ اپنی فصل کی پیداوار کو بہتر بنا سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہر ضلع کی ہر یونین کونسل میں پیداواری مراکز بنائے جائیں جو زرعی شعبے کے اندر چھوٹے اور درمیانی سطح کے کسانوں کو تکنیکی سہولیات فراہم کریں اور اس طرغ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکیں۔

مزید : کامرس