ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام پائیدار ترقیاتی کانفرنس کل اسلام آبادمیں ہوگی

ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام پائیدار ترقیاتی کانفرنس کل اسلام آبادمیں ہوگی

  



اسلام آباد(اے پی پی) پالیسی ساز ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام 22 ویں تین روزہ پائیدار ترقیاتی کانفرنس کل (منگل کو) اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوگی،اس موقع پر پائیدار ترقی کے افتتاحی،اختتامی اور مختلف ذیلی موضوعات پر35 خصوصی مباحثوں کا اہتمام کیا جائے گا جن میں چوتھے صنعتی انقلاب اور مواصلاتی ہندسہ جات سر فہرست ہوں گے۔ کانفرنس میں دنیا کے22 ممالک سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی حیثیت کے حامل محققین اعلی نوعیت کے تحقیقی مقالہ جات پیش کریں گے۔ کانفرنس میں ماہرین تعلیم، سماجی کارکن، اراکین پارلیمان، ماہرین قانون، طبیب،دانشور، ماہر لسانیات کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی افتتاحی، اختتامی اور خصوصی نشستیں 35 سے زیادہ پینل مباحثوں پر مشتمل ہیں، کانفرنس کا اختتام 5 دسمبرکو ہو گا۔ اس سال کے اہم موضوعات  چوتھا صنعتی انقلاب اور ڈیجیٹلائزیشن ہیں۔کانفرنس میں شریک مندوبین ٹیکنالو جی کے موجودہ دور میں تیز رفتار صنعتی انقلاب اور اس کی اہمیت پر گفتگو کریں گے۔اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی نے ملک کے مختلف شہروں کے علاوہ دنیا کے مختلف حصوں سے سکالرز، محققین، ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں، گیم چینجرز  اور سول سوسائٹی کے ممبران کو مدعو کیا ہے تاکہ چوتھے صنعتی انقلاب کو مصنوعی ذہانت سے چلانے کے بجائے قابل اور ہنر مند افرادی قوت اور بہترین انسانی وسائل سے بروئے کار لا یا جا سکے۔ علاوہ ازیں ماہرین، سکالرز اور محققین ان پیشہ ورانہ نظریات پر غور کریں گے جو معاشرتی اقدار میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا سبب بن رہے ہیں۔

کانفرنس کے دوران ایشیا اور دوسرے خطوں کے مقررین اپنی تحقیق، بہترین طریق کار اور خیالات کا تبادلہ کریں گے  اور تجزیہ کریں گے کہ نئی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت  کام کرنے کے عوامل اور طریقہ کار میں کس طرح رکاوٹ ہیں اور ہم کہاں جارہے ہیں۔ شرکا ء بہترین طریقوں کا اشتراک بھی کریں گے اور ان ابھرتے ہوئے سوالوں کے قابل عمل حل اور خطے کو پرانی سوچ سے دور رکھنے اور آگے بڑھنے کا طریقہ بھی پیش کریں گے۔ کانفرنس میں بطور خاص آنے والے طلبہ اور نئے محققین کو بین الاقوامی ماہرین اور سکالرز سے ملنے اور ایک دوسرے کے اشتراک اورتحقیق کیلئے ساز گار ماحول میں متعلقہ خیالات اور حل تلاش کرنے کے لئے ایک نشست برائے باہمی تبادلہ خیال مہیا کی جائیگی۔ کانفرنس کے سیشنوں میں معیشت، تجارت، ذہنی صحت، تعلیم، فضائی آلودگی، پانی کے انتظام، نوجوانوں اور امن کی عمارت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، خواتین کا کاروبار، نظم و نسق اور احتساب، سائبر سیکورٹی،خواجہ سراوں کے لئے جگہیں، خطرے سے دوچار زبانیں، علاقائی تعاون، انسانی حقوق، مہارتوں کی نشوونما، خواتین اور میڈیاسمیت اہم معاملات پر گفتگو اور مباحثوں کی مدد سے شرکاء کی رہنمائی کی جائے گی۔ ٹیکنالوجی کے اس تیز رفتار دور میں سب سے اہم غربت، بھوک، صحت، تعلیم، آب و ہوا میں تبدیلی، پانی، توانائی، ماحولیات، صنفی مساوات، معاشرتی انصاف برائے تجارت، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری جیسے مسائل سے نمٹنے کی راہ تلاش کرنا ہے۔ ایس ڈی سی کے مکمل اجلاسوں میں ممتاز سکالرز، پالیسی سازوں، ڈویلپمنٹ پریکٹیشنرز اور پالیسی ماہرین کی زیر نگرانی بنیادی فورم مہیاکریں گی۔ 2018ء میں منعقدہ 21 ویں ایس ڈی سی کے دوران پیش کردہ کانفرنس پیپرز کی بنیاد پر ایک ہم مرتبہ نظرثانی کی گئی انشاء اللہ اس موقع پر دیگر اشاعتوں کا آغاز کیا جائے گا۔ ایس ڈی پی آئی میں شریک پینلز کی مشاورت سے پالیسی سفارشات مرتب کی جائیں گی جو متعلقہ وزارتوں اور علاقائی سطح کے اداروں کیلئے رہنمائی کا کام دیں گی۔ سیشن کی تفصیلی رپورٹوں کے ساتھ مرتب کردہ سفارشات ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ اینڈ نیوز بلیٹن کے خصوصی ایڈیشن میں بھی شائع کی جائیں گی۔

مزید : کامرس