کاسمیٹکس کی بر آمد ات افریقہ اور روسی ریاستوں تک بڑھائیں گے: لاہورچیمبر 

کاسمیٹکس کی بر آمد ات افریقہ اور روسی ریاستوں تک بڑھائیں گے: لاہورچیمبر 

  



لاہور(کامرس ڈیسک) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہیئر اینڈ کیئر اینڈ سکن کیئر کے کنوینر آغا نعمت اللہ مظہر نے کہا ہے کہ پاکستانی کاسمیٹکس کو افریقہ اور روسی ریاستوں میں لے کر جائیں گے۔،پاکستانی کاسمیٹکس کی پروموشن کے لئے ”بیوٹی ایکسپو جون 2020 کو منعقد کروائی جائے گی۔ مقامی سطح پر تیار ہونے والے کاسمیٹکس بین الاقوامی معیار کی حامل ہیں اور دیگر ممالک میں ان کی کافی طلب پائی جا رہی ہے۔ مقامی سطح پر تیار ہونے والے معیاری کاسمیٹکس کو دیگر ممالک میں ایکسپورٹ کر کے کروڑوں ڈالر زرمبالہ کمایا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کے کنوینرآغا نعمت اللہ مظہر نے مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا تاکہ اپنی مصنوعات کو بین الاقوامی معیار کے عین مطابق تیار کر کے ایکسپورٹ کیا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنی معیاری کاسمیٹکس سمیت دیگر مصنوعات کو دنیا کے دیگر ممالک میں ہونے والے تجارتی نمائشوں میں لے کر جانا چاہیے اور ہمیں ان عالمی منڈیوں کے بارے میں بھی آگاہی ہونا چاہے۔آغانعمت اللہ مظہر نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی مصنوعات کو سارک ممالک سمیت افریقن اور روسی ریاستوں میں لے کر جانا چاہے کیوں ان مارکیٹوں پاکستانی مصنوعات متعارف کروانا چاہیے جہاں کافی زیادہ پوٹینشل موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ جلد لاہور چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری سے کاسمیٹکس انڈسٹری سے منسلک ممبران پر مشتمل وفد روسی اور افریقن ممالک کا دورہ کرے گا۔میٹنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تجویز دی کہ کمیٹی کے ممبران کو SOEKAMO CHEMICALS کا ایک مطالعاتی و معلوماتی دورہ بھی کروایا جائے تاکہ کاسمیٹکس سازی اور ایکسپورٹ کے بین الاقوامی معیار کے بارے میں آگاہی حاصل ہو سکے کمیٹی کے ممبران نے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی ایکپسورٹ ایمرجنسی کو مقامی مصنوعات کی پرموشن کے لئے حوصلہ افزاء قرار دیا ہے۔ ممبران نے اپنی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے مقامی کاسمیٹکس انڈسٹری کے فروغ کیلئے موجودبڑے پوٹینشل اور انڈسٹری کو درپیش مسائل کو بھی اجاگر کیا۔

 میٹنگ میں آغا نعمت اللہ مظہر کنوینر، محمد نعیم حنیف، وقاص اشرف، ناصر جمال، محمد شاہد، رضوقان افضل، سلیم اقبال، علی شوکامو،سائرہ سمد،آسیہ ضیاء۔نگمانہ اکمل، کرن ناز، سائم کھوکھر اور محمد عمران کے علاوہ دیگر بھی شریک تھے۔

مزید : کامرس