کاروباری اداروں پر ایف بی آر کے چھاپے نہ مارنے کے بیان کا خیر مقدم: اسلام آباد چیمبر 

  کاروباری اداروں پر ایف بی آر کے چھاپے نہ مارنے کے بیان کا خیر مقدم: اسلام ...

  



اسلام آباد (کامرس ڈیسک)اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر طاہر عباسی اور نائب صدر سیف الرحمٰن خان نے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ایف بی آر انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس جمع کرنے کیلئے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی جگہوں پر چھاپے نہیں مارے گا۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر کا یہ بیان بہت حوصلہ افزاء ہے کیونکہ اس طرح کی یقین دہانیاں تاجر برادری کے خدشات کو دور کرنے میں مثبت کردار ادا کریں گی جس سے تاجروصنعتکار زیادہ اعتماد کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی طرف توجہ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ہمیشہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی بات کی ہے کیونکہ جب تک ٹیکس ریونیو بہتر نہیں ہو گا معیشت بہتر ترقی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ چیمبرز آف کامرس دستاویزی معیشت کو فروغ دے کر پہلے ہی ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ایف بی آر چیمبروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کیلئے ایک طریقہ کار تشکیل دے تا کہ نجی شعبے کی مشاورت سے ٹیکس مسائل کو حل کیا جائے اور ٹیکس ریونیو کو مزید بہتر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر وصنعتکار کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے کر معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں لیکن جب محکمہ ٹیکس کے اہلکاراچانک کاروباری اداروں اور دکانوں پر چھاپے مارتے ہیں تو اس سے تاجر برادری کی عزت نفس بہت مجروح ہوتی ہے اور معاشرے میں ان کا امیج بھی متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سمگلنگ روکنے کیلئے سرحدوں اور بندرگاہوں پر تعینات عملہ کی کارکردگی کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کسٹم حکام کی ملی بھگت سے سمگلنگ ہوتی ہے اور چھاپے پرچون کی سطح پر مارے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹیلرز صرف مال فروخت کرتے ہیں اور ان کو سیلز ٹیکس کی انوائسز دی جاتی ہیں جبکہ ادائیگیاں بھی کراس چیک کے ذریعے ہوتی ہیں لہذا امپورٹرز کو چیک کیا جا سکتا ہے۔آئی سی سی آئی کے عہدیداران نے کہا کہ وفاقی دارالخلافہ میں اگرچہ صورتحال بہتر ہے لیکن ملک کے کسی حصے میں جب  اچانک چھاپوں کی خبریں شائع ہوتی ہیں تو اس سے تاجر برادری میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔

  انہوں نے کہا ایف بی آر کو اگر کسی تاجر کے خلاف ٹیکس کی شکایت ہو تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ اچانک چھاپہ مارنے کی بجائے محکمہ پہلے متعلقہ علاقے کے چیمبر آف کامرس یا مارکیٹ یونین کو اعتماد میں لے تا کہ مشترکہ کوششوں سے ایسے مسائل کو حل کیا جا سکے اور ملک میں ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ٹیکس اور ٹیکس دہندگان کے درمیان پراعتماد اور سازگار تعلقات قائم کر کے معیشت کیلئے زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایف بی آر تاجر برادری میں خوف و ہراس کا عنصر ختم کرنے اور ان کے ساتھ ایک پارٹنرشپ کا رشتہ قائم کرنے کیلئے مزید بہتر اقدامات اٹھائے گا تا کہ مشترکہ کوششوں سے ٹیکس ریونیو بہتر کر کے پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔    

مزید : کامرس