چینی والدین بچوں کی ناکافی نیند پر پریشان ہیں،سروے

چینی والدین بچوں کی ناکافی نیند پر پریشان ہیں،سروے

  



بیجنگ(آئی این پی/شِنہوا)چائنہ یوتھ ڈیلی کے ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ 82.4فیصد چینی والدین اپنے بچوں کی ناکافی نیند کی وجہ سے پریشان ہیں۔چائنہ یوتھ اینڈ چلڈرن ریسرچ سنٹرکے چائلڈ ہڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر سن ہونگ یان نے اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبا کی نیند کی عادات خراب ہوتی جارہی ہیں اور نیند کی کمی کا تناسب بڑھتا جارہا ہے۔چائنیز سلیپ ریسرچ سوسائٹی کی جانب سے مارچ میں جاری ہونے والے وائٹ پیپر کے مطابق تقریبا63فیصد چینی بچے اورنوجوان جن کی عمریں 6سے17سال کے درمیان ہیں روزانہ 8گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں اور کچھ81.2فیصد بچے جن کی عمر 13سے17سال تک ہے وہ 8گھنٹے سے کم سوتے ہیں۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ کرم اسکولوں کے کام کی زیادتی اور دباؤ کو نیند کی کمی کی دو بڑی وجوہات سمجھا جاتا ہے۔ جو بالترتیب 61.1 فیصد اور 54.5 فیصد ہیں۔سن نے بتایا کہ ہوم ورک کے دباؤ نے بچوں کی نیند پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے۔

جبکہ الیکٹرانک آلات اور انٹرنیٹ کے استعمال نے صورتحال کو اور بڑھادیا ہے۔سروے کے جواب دہندگان نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کے بچوں کو تین عمومی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں نیند کا کم وقت،نیند آنے میں مشکلات اور نیند کے دوران پریشانی شامل ہے۔ یہ سروے 1876ایسے والدین پر مشتمل تھا جن کے بچوں کی عمریں 6سے 17سال تھیں اور ان میں سے 17اور 77 فیصد چین کے پہلے اور دوسرے درجے شہروں میں رہتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر /رائے