طلبہ یونیننز بحالی کیلئے قرار دادوں کی نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے:حافظ نعیم الرحمٰن

طلبہ یونیننز بحالی کیلئے قرار دادوں کی نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے:حافظ ...

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سندھ حکومت سے تعلیمی اداروں میں فوری طور پر طلبہ یونینز کے انتخابات کرانے کے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ یونینز کی بحالی اور انتخابات کے لئے قراردادوں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ معاملہ صوبائی حکومت کے اختیار میں ہے اس لئے پیپلزپارٹی کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ کو ان کا یہ حق دینے کے لئے بلاتاخیر انتخابات کا اعلان کرے۔طلبہ یونین جمہوریت کی نرسری ہیں،طلبہ اور ملک کے تمام طبقوں کو ان کا جمہوری حق دیے بغیر ملک میں جمہوریت کا نعرہ محض ایک فریب ہی کہلائے گا،ملک کے طلبہ سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں اور حکومت سے اپنا جمہوری حق طلب کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تمام تعلیمی اداروں اور ہر صنعت میں یونین سازی کا حق طلبہ اور مزدوروں کا بنیادی حق ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ طلبہ یونین کی بحالی کے لیے محض زبانی جمع خرچ،سیاسی بیانات اور نمائشی اقدامات سے کام نہیں چلے گا۔وقت آگیا ہے کہ طلبہ کو ان کا یہ حق دیا جائے۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ملک بھر میں اس عمل کو یقینی بنائیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کے انتخابات کا اعلان کیا تھا مگر افسوس کہ ان کا یہ اعلان محض اعلان ہی رہا اور اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وفاق سمیت پنجاب،کے پی کے اور بلوچستان میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔وزیراعظم عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ طلبہ یونینز کے انتخابات کا اعلان کریں اور پورے ملک میں اس عمل کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ یونینز نہ صر ف طلبہ کا جمہوری حق ہے بلکہ یہ مستقبل کے سیاستدانوں کی تیاری کے لیے ایک نرسری کے طور پر کام کرتی ہیں اور طالب علمی کے دور میں ان یونینز سے وابستہ رہنے والے طلبہ ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں یہ تربیت ہی ان کو ملک کی سیاست اور قومی قیادت میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ آج قومی سیاست میں بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو ماضی میں طلبہ یونینز کے انتخابات اور سرگرمیوں میں فعال اور مثبت کردار ادا کرتے رہے ہیں اور اسی تربیت کے باعث آج وہ قومی سیاست میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر