گراونڈ میں آتے ہوئے نسیم شاہ اور محمد موسیٰ سے کیا کہہ کر آئے تھے ؟یاسر شاہ نے سینچری کے پیچھے چھپے راز سے پردہ ہٹا دیا

گراونڈ میں آتے ہوئے نسیم شاہ اور محمد موسیٰ سے کیا کہہ کر آئے تھے ؟یاسر شاہ نے ...
گراونڈ میں آتے ہوئے نسیم شاہ اور محمد موسیٰ سے کیا کہہ کر آئے تھے ؟یاسر شاہ نے سینچری کے پیچھے چھپے راز سے پردہ ہٹا دیا

  



ایڈیلیڈ (ڈیلی پاکستان آن لائن )آسٹریلیا کیخلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں آٹھویں نمبر پر آ کر سینچری بنانے والے یاسر شاہ نے راز سے پردہ ہٹاتے ہوئے کہاہے کہ کوشش یہی تھی کہ وکٹ پر زیادہ وقت گزاروں جس میں کامیاب رہا ، آسٹریلیا کے باولرز بہت مشکل ہیں ان کے خلاف اننگ کھیلنا مشکل رہا۔

تفصیلات کے مطابق یاسر شاہ نے جب بلا تھامے ہوئے میدان میں قدم رکھا تو پاکستان کی چھ وکٹیں گر چکی تھیں اور بابراعظم وکٹ پر موجود تھے تاہم دونوں کے درمیان بھی اچھی شراکت قائم ہوئی ۔ یاسر شاہ نے 213 گیندوں پر 13 چوکوں کی مدد سے 113 رنز کی اننگ کھیلی لیکن وہ بھی پاکستان کو فالو آن کا شکار ہونے سے نہ بچا سکے ۔

یاسر شاہ کا کہنا تھا کہ بابر اعظم دوسری طرف پر بیٹنگ کر رہے تھے، ان کا ساتھ ہونے کی وجہ سے مجھے بھی بیٹنگ بھی آسان لگنا شروع ہوگئی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ وکٹ پر رکنے سے ہی زیادہ رنز بنتے ہیں جب میں تیسرے روز کھیل سے قبل نیٹ پر بیٹنگ کررہا تھا تو یہ خیال ذہن میں تھا کہ سارا دن بیٹنگ کروں، گراو¿نڈ آتے ہو ئے نسیم شاہ اور محمد موسٰی سے بھی یہی بات کر رہا تھا کہ سارا دن بیٹنگ کرنا ہے جس میں کامیاب رہا اور سنچری بھی ہوئی۔

یاسر شاہ نے اپنے ساتھی بلے بازوں کے ان کی طرح بیٹنگ نہ کرنے کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال پر کہا کہ آسٹریلوی بولرز بڑے تجربہ کار ہیں لیکن بیٹسمینوں کو وکٹ پر ٹھہرنا چاہیئے تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں کنڈیشنز ایسی ہیں کہ پہلی اننگز میں اسپنرز کو مدد نہیں ملتی، انہوں نے لائن پر بولنگ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے اور زیادہ رنز دے دیے۔

مزید : کھیل