کپڑوں کے پاکستانی برانڈ نے خواتین کے لباس پر آیات لکھ دیں، سوشل میڈیا پر احتجاج شروع

کپڑوں کے پاکستانی برانڈ نے خواتین کے لباس پر آیات لکھ دیں، سوشل میڈیا پر ...
کپڑوں کے پاکستانی برانڈ نے خواتین کے لباس پر آیات لکھ دیں، سوشل میڈیا پر احتجاج شروع

  



فیصل آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)کپڑوں کے معروف پاکستانی برانڈز نے خواتین کی نئی کلیکشن میں لباس پر مختلف جگہوں پرمبینہ طورپر قرآنی آیات لکھ دیں جس کے بعد معاملہ پولیس کے پاس پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی بائیکاٹ کرنے کی مہم شروع ہوگئی ۔ 

سوشل میڈیا پر وائرل ایک تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فیصل آباد کے جہانزیب خان نامی شخص نے ایس پی کمپلینٹ سیل کو درخواست دی جس میں موقف اپنایا کہ "اپنا کاروبار کرتا ہوں  اور ستائیس نومبر کو خرید فروخت کے سلسلے سٹی امپوریم چین ون روڈ فیصل آباد گیا تو سائل نے وہاں سے لیڈیز سوٹ خرید ا جو  اتحاد ٹیکسٹائل کا بنا ہوا تھا گھر پہنچ کر دیکھا  تو متذکرہ بالا سوٹ کے ڈیزائن میں بسم اللہ شریف اور کلمہ شریف کنندہ  پایا گیا ، واپس سٹی امپوریم مال میں آیا اور وہاں پر موجود عملہ سے بات کی تو  انہوں نے کہا کہ ہم اتحاد ٹیکسٹائل کا مال کمیشن پر سیل کرتے ہیں، آپ اتحاد ٹیکسٹائل سے بات کریں ، اتحاد ٹیکسٹائل کی مین شاپ واقع سنٹر پوائنٹ گوجرانوالہ روڈ پر گیا اور وہاں پر موجود منیجر سے بات کی اور بتایا کہ آپ کا ایک سوٹ جو کہ ITTEHAD DIGITAL LINEN FALL 19 جس پر کلمہ شریف اور بسم اللہ شریف تحریر ہیں جو کہ سراسر غلط خلاف شریعت اور خلاف قانون ہے جس پر منیجر سیخ پا ہوگیا اور سائل نے بدتمیزی اور زدوکوب کرنا شروع کردیا اور دھمکیاں دیں۔

وائرل درخواست کے مطابق درخواست گزار نے اس کے بعدایس پی مدینہ ڈویژن نے سائل کے ساتھ بات کی اور انہوں نے سائل کو مطمئن کیا کہ آپ الزام علیہ کے خلاف ایک تحریری درخواست دیں ،ان کے خلاف کارروائی کرتا ہوں جس پر سائل نے ایک تحریری درخواست ایس پی مدینہ ڈویژن گزاری جس کی کوئی رسید سائل کو نہ دی گئی جس پر سائل اگلے دن ایس پی مدینہ ڈویژن کے دفتر گیا تو ایس پی مدینہ ڈویژن نے سائل سے ملنے سے انکار کردیا اور سائل نے سوٹ متذکرہ بالا کی واپسی کا تقاضا کیا تو سائل کو ایس پی کے عملہ نے کہا کہ آپ کو سوٹ متذکرہ بالا بھی واپس نہیں کیا جائے گا، الزام علیہ کے خلاف مقدمہ درج رجسٹرڈ کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے اور ایس پی مدینہ ڈویژن میاں طاہر محمود چھینہ کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی جائے۔

 تصاویر وائرل ہونے پر ایک صارف نے لکھا کہ "افسوس کلمے کی بنیاد پر بننے والے ملک میں اتحاد ٹیکسٹائیل نے بے ادبی اور گستاخی کی مگر پولیس کو درخواست دینے کے باجود حرکت میں نہیں آئی اور پولیس بلکل تعاون نہیں کر رہی کیونکہ اتحاد ٹیکسٹائیل والے طاقتور ہیں"۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ " اتحادٹیکسٹائل سمندری روڈ فیصل آباد، پاکستان میں موجود ہے ، اس کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا   حکومت کے پاس کوئی بہانہ نہیں"

ایک اور ہینڈل نے اتحاد ٹیکسٹائل کے بائیکاٹ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے  اتحاد کو شرمسار کیا۔ 

ایک صارف نے زبانی نہیں، عملی طور پر کچھ کرنے کا موقف اپنایا اور کچھ یوں لکھا کہ ۔ ۔ ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /فیصل آباد