ٹائر تبدیل کرنے کے لئے مدد مانگنے والی لڑکی کو گینگ ریپ کر کے زندہ جلا دیا گیا

ٹائر تبدیل کرنے کے لئے مدد مانگنے والی لڑکی کو گینگ ریپ کر کے زندہ جلا دیا گیا
ٹائر تبدیل کرنے کے لئے مدد مانگنے والی لڑکی کو گینگ ریپ کر کے زندہ جلا دیا گیا

  



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں موٹربائیک کا ٹائر پنکچر ہو جانے پر مدد کی درخواست کرنے والی 27سالہ لڑکی کو 4مردوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ جلا دیا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق یہ ہولناک واقعہ بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں پیش آیا جہاں یہ لڑکی اپنے موٹربائیک میں سفر کر رہی تھی کہ اس کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ اسی دوران وہاں سے ایک ٹرک گزرنے لگا جسے اس لڑکی نے روکا اور مدد کی درخواست کی۔

ٹرک میں چار مرد سوار تھے۔ انہوں نے لڑکی کی سکوٹر بھی ٹرک میں رکھ لی اور لڑکی کو بھی سوار کر لیا اور کہا کہ وہ اسے قریب کسی پنکچر کی دکان پر اتار دیں گے تاہم وہ اسے شہر سے باہر ویران علاقے میں لے گئے اور وہاں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے آگ لگا دی جس سے وہ زندہ جل کر مر گئی۔ بعد ازاں لڑکی کی جلی ہوئی لاش شہر کے ایک انڈرپاس سے ملی۔

پولیس کمشنر کے مطابق لڑکی نے اپنے فون سے آخری کال اپنی بہن کو کی جس میں اس نے اسے بتایا کہ اس کی سکوٹر پنکچر ہو گئی ہے۔ پولیس نے چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور انہوں نے لڑکی سے اجتماعی زیادتی اور اسے آگ لگا کر قتل کرنے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ ملزمان نے دوران تفتیش بتایا کہ زیادتی کے دوران لڑکی نیم بے ہوش ہو گئی تھی،بے ہوشی کی حالت میں ہی وہ اسے ٹرک میں ڈال کر شہر میں مختلف جگہوں پر لے کر پھرتے رہے اور بالآخر اسے ایک انڈرپاس میں پھینک دیااور اس پر پٹرول ڈال کر آگ لگا دی۔

واضح رہے کہ بھارت خواتین کے خلاف جنسی جرائم میں دنیا میں سرفہرست ہے۔ وہاں 2016ءمیں 38ہزار 947خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جن میں 2ہزار سے زائد کی عمر 12سال یا اس سے کم تھی۔ خواتین کے حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اعدادوشمار وہ ہیں جو رپورٹ ہوئے۔ بھارت میں زیادہ تر خواتین جنسی زیادتی کی پولیس کو رپورٹ ہی نہیں کرتیں چنانچہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی