طلبہ مارچ پرمقدمہ اورمیڈیا دفتر کاگھیراؤ ،سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کااَزخود نوٹس،6دسمبر کو رپورٹ طلب

طلبہ مارچ پرمقدمہ اورمیڈیا دفتر کاگھیراؤ ،سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی ...
 طلبہ مارچ پرمقدمہ اورمیڈیا دفتر کاگھیراؤ ،سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کااَزخود نوٹس،6دسمبر کو رپورٹ طلب

  



اسلام آباد (ڈیلی  پاکستان آن لائن)طلبہ مارچ پر مقدمہ اور  نجی اخبار کےدفتر کے گھیراؤ کے واقعات کا سینیٹ کی انسانی حقوق فنکشنل کمیٹی نے اَزخود نوٹس لے لیا، چھ دسمبر کو رپورٹ طلب کرلی گئی ۔

تفصیلات کے  مطابق چیرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نےآئی جی اسلام آباد اور پنجاب پولیس  سے چھ دسمبر کو دونوں معاملات پر رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے  کہا ہے کہ، میڈیا کے دفتر کا  گھیراؤ آزادی صحافت کے خلاف ہے،آئی جی اسلام آباد بتائیں کہ میڈیا کے دفتر کا گھیراؤ کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟دوسری طرف لاہور میں پرامن مارچ پر مقدمہ درج کرنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے،پولیس یا انتظامیہ کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ شہریوں کی آواز دبانے کی کوشش کرے۔ مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ  مقدمے میں مشال خان کے بزرگ والد کو نامزد کرنا گھناؤنی حرکت ہے،فاشسٹ حکمران اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کی دبانے کو کوشش کر رہے ہیں،عمران خان اپنی پارٹی کے لوگوں کی زبانیں تک بند کرنے کیلئے فسطائی ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں،یہ قائد اعظم کا پاکستان نہیں عمران خان کا فاشسٹ نیا پاکستان ہے،ہمیں قائد اعظم، قائد عوام اور بینظیر بھٹو شہید والا جمہوری، روشن خیال، ترقی پسند پاکستان چاہیے،فاشسٹ حکومت کو شکست دے کر قائد کا حقیقی پاکستان واپس لیں گے۔

دوسری طرف ادھر چیئرمن پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی میڈیا ہاؤس کے گھیراؤ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ  احتجاج کے نام پر کسی کو بھی آزادی صحافت پر حملے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے،میڈیا پر دباؤ میں ڈالنا اور ڈکٹیٹ کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے،موجودہ حکومت مسلسل آزادی صحافت پر حملہ آور ہے،یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا،حکومت نے جمہوری، بنیادی انسانی حقوق اور میڈیا کی آزادیاں تک سلب کر رکھی ہیں،وفاقی دارالحکومت میں ایک گروپ نے آ کر میڈیا ہاؤس کا راستہ بند کردیا اور حکومت تماشہ دیکھتی رہی،گھیراؤ میڈیا کی آوازدبانےکاایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔بلاول بھٹو زرداری  نے کہا کہ حکومت میڈیا کا گھیرائو کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرے، پیپلز پارٹی ان فاشسٹ ہھکنڈوں کے خلاف صحافی براداری  کے ساتھ ہے۔

واضح  رہے  کہ لندن برج پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعے میں ملوث شخص کا تعلق پاکستان سے جوڑنے اور اخبار میں شہ سُرخی لگانے پر اسلام آباد میں نجی انگریزی اخبار’’ڈان‘‘ کے دفتر کے باہر چند درجن افراد نے مظاہرہ کیا ہے اور اخبار کے بجلی کے کنکشن کاٹنے کی بھی دھمکی دی اور مذکورہ اخبار کے خلاف نعرے بھی لگائے تاہم پولیس کے آنے پر اخبار کی جانب سے دل آزاری کی تحریری معذرت  پر مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد