حکومت مستعفی ہونیوالے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن پر کیا کام کرنے کے لئے دباﺅ ڈال رہی تھی ؟ صحافی شازیب خانزادہ نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

حکومت مستعفی ہونیوالے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن پر کیا کام کرنے کے لئے دباﺅ ...
حکومت مستعفی ہونیوالے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن پر کیا کام کرنے کے لئے دباﺅ ڈال رہی تھی ؟ صحافی شازیب خانزادہ نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)شازیب خانزادہ نے کہاہے کہ حکومت پر نیب پر دباﺅ کے الزامات لگتے رہے ہیں اور اب ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے مستعفی ہونے پر ایف آئی اے کے حوالے سے بھی ایسے الزامات سامنے آرہے ہیں۔

جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“میں شاہ زیب خانزادہ کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق حکومت نے بشیر میمن کو ریٹائرمنٹ سے 2ہفتے قبل عہدے سے استعفیٰ ہٹا دیا تھا جس پر بشیر میمن نے احتجاجاً استعفیٰ دیدیاہے، رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیاہے کہ بشیر میمن کے کام میں اس وقت مداخلت شروع کردی گئی تھی جب وہ جج ارشد ملک کے کیس کی تحقیقات کررہے تھے ، اس میں ایک خاص بات یہ تھی کہ جب یہ کیس چل رہا تھا تواس کی دن بدن رپورٹ لینا اورجب اس حوالے سے خبریں شائع ہوئی تھیں تو حکومت کی جانب سے اس پر ناراضی کا اظہار کیاگیا تھا اور کہا گیا تھا کہ جج ارشد ملک کی تفتیشی ٹیم کوتبدیل کیاجائے ۔

رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی بشیر میمن کے ساتھ ون آن ون میٹنگ ہوئی تھی جس میں جج ارشد ملک کی کیس کے تفتیشی افسربھی شامل تھے ۔ بشیر میمن کوپیغامات بھی بھیجے جاتے تھے جن میں اپوزیشن کے مقدمات پر بات کی جاتی تھی اور اپ ڈیٹ دینے کاکہا جاتا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومتی ذرائع نے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن پر دباﺅ کی خبر کوغلط قرارد یاہے۔

مزید : قومی