سوشل میڈیا جنگل کی طرح ہے

سوشل میڈیا جنگل کی طرح ہے
سوشل میڈیا جنگل کی طرح ہے

  

 اچانک کسی جھاڑ کے نیچے سے کوئی ہرن کا بچہ بھاگتا ہوانکل سکتا ہے تو کوئی جنگلی کتا آپ پر حملہ بھی کر سکتا ہے سو سوشل میڈیا پر یہی سب کچھ ہو رہا ہے مختلف سیاسی جماعتوں کے کارندے ہر وقت ایک دوسرے پر برستے اور جھپٹتے نظر آتے ہیں اب یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ یہ لوگ کسی بھی سیاسی جماعت کے نظریاتی یا سیاسی کارکن ہر گز نہیں ہیں زیادہ تر لوگ پیشہ ور ہیں اور انہیں پیسے دیکر آپ کسی کو بھی غدار کرپٹ اور قادیانی بنا کر پیش کر سکتے ہیں کسی کو گالیاں نکلوانا تو ایک عام سی بات ہے مجھے معاف کیجیے گا حقیقت یہی ہے کہ بہت سے نوجوانوں کو اس کام پر تحریک انصاف نے لگایا بہت سے نوجوانوں کو غیر اعلانیہ نوکری پر رکھا اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا سو ان لوگوں نے بھی بد زبانی اور بدکلامی کو عروج پر پہنچا دیا اور لوگوں کی نجی زندگی کو بھی نشانہ بنانے لگے بے نظیر بھٹو شہید اور آصف علی زرداری کی بیٹی بختاور بھٹو زرداری کی منگنی کے حوالے سے طرح طرح کی الزام تراشی کی گئی اور بختاور کے منگیترکو قادیانی قرار دے دیا گیا اور سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا گیا یہ ایک انتہائی سنگین الزام تھا جو ایک ایسے شخص پر لگا دیا گیا جس کا نہ تو کسی سیاسی جماعت سے تعلق تھا اور نہ اس کی ہونے والی بیوی سیاسی شخصیت ہے مگر انہیں نشانہ اس لیے بنایا گیا کہ بختاور بے نظیر بھٹو شہید آصف علی زرداری کی بیٹی اور بلاول بھٹو زرداری کی بہن ہے اس کے سوا دونوں کا کوئی قصور نہیں تھا حالانکہ سب جانتے ہیں کہ بختاور کے نانا بھٹو نے ہی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا

دوسری طرف محمود چوہدری کے خاندان کے حوالے سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ان کا خاندان سنی مسلمان ہے مگر سوشل میڈیا نے لوگوں کے ایمان پر بھی سوالات اٹھا دیے دوسری طرف شریف برادران کی والدہ محترمہ کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی۔ حکومت پنجاب کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے بھی جملے بازی کی اور مرحومہ کی لندن سے پاکستان بھجوائی جانے والی میت کو پارسل سے تشبیہ دی اور نواز شریف اور ان کے بیٹوں پر ایسی تنقید کی جو سماجی طور پر ہی نہیں سیاسی طور پر بھی ذہنی بانجھ پن کے علاوہ کچھ نہیں مگر انہوں نے نواز شریف خاندان کے اس ذاتی مسئلے کو بھی سیاسی مسلے کے طور پر پیش کیا سوال یہ ہے کہ نواز شریف اپنی والدہ کی میت کے ساتھ واپس آتے ہیں یا نہیں یہ ان کا نجی معاملہ ہے اور پھر اگر کسی بھی وجہ سے نواز شریف واپس نہیں آئے تو اس پر سیاست کرنے کا کیا مطلب……...

وزیراعظم نے کہا ہے کہ پنجاب میں ہمیں فیاض الحسن چوہان اور فردوس عاشق اعوان دونوں ہی کی ضرورت ہے وزیر اعظم کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ  فردوس عاشق اعوان سے فیاض الحسن چوہان کے لب ولہجے کی توقع رکھتے ہیں گزشتہ روز جنہوں نے قومی زبان اردو کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے پنجابی زبان کو جوتی کی نوک پر رکھنے کا بیان داغ دیا جس پر پنجابی دانشوروں شاعروں اور ادیبوں نے ہی نہیں دیگر زبانوں کے دانشوروں نے بھی شدید احتجاج کیا اور ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا جو اب بھی کیا جارہا ہے یہاں سوال یہ ہے سوشل میڈیا ہو یا ان جیسے وزیروں اور مشیروں کے بیانات ہوں ملک میں ایک جنگل کا سماں باندھے ہوئے ہیں جس سے مجموعی طور پر ہمارے سماج میں نفرت بڑھتی جا رہی ہے اور لوگوں کے درمیان شائستگی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے جو ایک خطرناک بات ہے مگر وزیر اعظم کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ وہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں کس طرح کی ریاست مدینہ بنا رہے

جہاں ایک مسلمان کو قادیانی ایک نوے سالہ بزرگ خاتون کی میت پر بھی غیر اخلاقی جملہ بازی ہو رہی ہے مخالف سیاسی رہنماؤں پر ہر طرح کے سوالات اٹھائے جارے ہیں حکومتی وزیر مشیر بشمول وزیر اعظم ہر روز ان کے خلاف بیان دے رہے ہیں مگر اپنی سیاسی و حکومتی کمزوریوں کے ذکر پر کسی سوال کا جواب نہیں دیتے ابھی گزشتہ روز وزیر اعظم سے جب سوال کیا گیا کہ آپ نے چوہدری برادران کو پنجاب کا ڈاکو کہا تھا اب انہیں اپنا بھائی کہہ رہے ہیں تو وزیر اعظم کے چہرے کا رنگ اڑ گیا ہاتھوں میں پکڑی تسبیح کو انہوں نے دونوں ہاتھوں میں دبوچتے ہوئے کہا ہر سوال کا جواب ضروری نہیں ہوتا جہانگیر ترین کے بارے کہا چینی چوری کے ان پر الزام ہیں اب اگر جہانگیر ترین پر محض الزام ہے تو پھر نواز شریف اور دیگر سیاسی قیادت پر بھی ابھی تک الزامات ہی ہیں ثابت تو کچھ بھی نہیں ہوا تو پھر وزیر اعظم انہیں چور، ڈاکو اور کرپٹ کیوں کہتے ہیں اور ان کے وزیر مشیر اپوزیشن کے رہنماؤں کے خلاف سطحی زبان کیوں استعمال کرتے ہیں ……

مزید :

رائے -کالم -