مقبوضہ کشمیر اور بھارتی درندگی

مقبوضہ کشمیر اور بھارتی درندگی
مقبوضہ کشمیر اور بھارتی درندگی

  

مقبوضہ کشمیر کو اگر دنیا کی سب سے بڑی اوپن جیل کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کیوں کہ وہاں کے اسی لاکھ باشندے اس وقت قید و بند کی صورت حال سے دوچار ہیں۔ بھارت ایک جانب کہتا ہے کہ اس نے قابض خطے میں آرٹیکل 35 اے ختم کر کے اسے پورے بھارت سے جوڑ دیا ہے، لیکن دوسری جانب وہاں دس لاکھ فوج تعینات کر رکھی ہے۔ اب تو بھارت کے کٹھ پتلی کشمیری رہنما محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ بھی بھارتی اقدامات پر بلبلا اٹھے ہیں۔محبوبہ مفتی نے تو اپنی پریس کانفرنس میں بھارتی ترنگے کو بھی لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ آئے روز کشمیری عوام پر مظالم ڈھانا اور پھر نہتے کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنا بھارت کے چہرے پر بد نما داغ کی مانند ہیں۔ایک جانب مودی کلین انڈیا کا نعرہ لگاتے ہیں اور دوسری جانب مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم خصوصا کشمیریوں کیخلاف خون کی ہولی کھیلنا بھارتی فوج کا من پسند مشغلہ بن چکا ہے۔ حال ہی میں او آئی سی کی وزرائے خارجہ کی کانفرنس افریقی مسلم ملک نائجیر میں ہوئی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی تشدد کی گونج بھی سنائی دی جس پر بھارت اب واویلا مچا رہا ہے۔ نائیجر میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے 47 ویں اجلاس میں پاکستان کی مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔  او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کی قرار داد کے مطابق جموں و کشمیر تنازع 7 دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔قرارداد میں بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات کو مسترد کیا گیا ہے اور اس اقدام کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی براہ راست توہین قرار دیا۔

او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کی قرارداد میں کہا گیا کہ بھارتی اقدامات کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا اوراستصواب رائے سمیت کشمیریوں کے دیگر حقوق چھیننا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق قرارداد میں بھارت پر زور دیا گیا کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کا کردار لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے اطرف بڑھائے۔او آئی سی وزارئے خارجہ کے اجلاس کی قراداد میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں صورت حال کی نگرانی کرے۔قرارداد میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مسلسل نگرانی کرے اور سیکریٹری جنرل یو این کو آگاہ کرے۔اسلامی ممالک کی تنظیم کی جانب سے یہ قرار داد پاس ہونا ایک احسن اقدام ہے اس قرا داد کے پاس ہونے پر بھارت نے واویلا مچانا شروع کر دیا ہے اور کہا ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے، لیکن دوسری جانب کشمیری آئے روز مظالم کے خلاف اٹھتے ہیں شہادتیں دیتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ بھارت ان کی اس تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے اب کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کرنے سے نہیں ہچکچا رہا۔ بھارت نے اب نیا ہتھکنڈہ آزمایا ہے کہ بے گناہ اور نہتے کشمیریوں کو شہید کر کے انہیں در انداز قرار دے کر پھر ان کی لاشیں بھی لواحقین کے حوالے نہیں کرتا۔ باخبر ذرائع کہتے ہیں کہ بھارت کشمیریوں کے خلاف کیمیل ہتھیار استعمال کر رہا ہے اس لئے وہ جن نوجوانوں کو یا کشمیریوں کو شہید کرتے ہیں پھر ان کی لاشیں بھی لواحقین کو نہیں دیتے تا کہ بھارتی بربریت کا بھانڈا نہ پھوٹ سکے۔ اس ضمن میں پاکستانی حکومت اور اداروں کا فرض ہے کہ بھارت کی اس سفاکیت کا پردہ چاک کریں۔

گزشتہ برس جب پانچ اگست کو کشمیر سے آرٹیکل 35 اے کا خاتمہ ہوا تو اس کے بعد پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے کشمیریوں کے حق میں ایک تحریک شروع کی گئی جو اب بتدریج کم ہونا شروع ہو گئی ہے اور حکومتی سطح پر بھی مسئلہ کشمیر کو اس طرح اجاگر نہیں کیا جا رہا جس طرح کئے جانے کی ضرورت ہے۔ او آئی سی میں قرار داد کی منظور احسن اقدام ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کو بھی یاد دہانی کرانی چاہئے کہ کشمیری بھی اس دنیا کے باسی ہیں اور بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے لایا جانا چاہئے۔ اس سلسلے میں ایک مربوط لائحہ عمل تشکیل دینا ہو گا  جس کے اہم اجزا میں بین الاقوامی سطح پر موثر ابلاغ، بیرون ملک کشمیری برادری کو متحرک رکھنا، کشمیری مزاحمت کی سیاسی مدد کرنا اور بھارت پر بین الاقوامی دباؤ ڈالنے کے لئے وہاں پر آر ایس ایس جیسی تنظیموں کو دہشت گرد تنظیم قرار دلوانے کی کوششیں شامل ہونی چاہیں۔ کیوں کہ بھارت بھی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی لسٹ میں ڈلوانے کے لئے سرگرم رہا ہے۔ اب تو بھارت کی متعدد ریاستوں میں لو جہاد نامی مودی کی بے بنیاد اصطلاح پر قانون سازی کی گئی ہے کہ مسلمان ہندو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ان سے شادی کرتے ہیں تا کہ انہیں مسلمان کر سکیں۔اس ضمن میں بھی بین الاقوامی سطح پر بھارت کیخلاف ایک فضا قائم کی جا سکتی ہے کہ جہاں شادی جیسے نجی معاملے تک ریاست دخل اندازی شروع ہو گئی ہے۔ مسئلہ کشمیر کو اگر ہم ہر فورم میں اجاگر کریں گے تو اس سے بھارت میں چلنے والی دیگر علیحدگی پسند تنظیموں کو بھی تقویت حاصل ہو گی اور ایک جانب بھارت اب تاریخ میں پہلی بار معاشی کساد بازاری کا شکار ہے ایسے میں اس طرح کی مہم بھارت کو بیک فٹ پر دھکیلنے پر مجبور کر دے گی۔

مزید :

رائے -کالم -