مولانا فضل الرحمن کی دعا

مولانا فضل الرحمن کی دعا
مولانا فضل الرحمن کی دعا

  

پرسوں ملتان شریف میں پی ڈی ایم کا کامیاب اور ’شریفانہ‘جلسہ تھا۔شریفانہ ان معنوں میں کہ آلِ شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے میلہ لوٹ لیا تھا۔ اپوزیشن کے تمام رہنماؤں نے تقریریں کیں۔آلِ ذوالفقار بھٹو کی آصفہ زرداری کی بھی پہلی عوامی تقریر تھی۔ تقریر گو مختصر تھی لیکن ریہرسل خوب تھی۔ گردن گھمانے اور بازو لہرانے کی مشق اگرچہ فی الحال ناپختہ تھی لیکن پختہ کاری کے جراثیم نظر آ رہے تھے۔ لوگ اسفند یارولی، اختر مینگل اور نورانی وغیرہ کو سننے نہیں آئے تھے۔ اسی لڑکی کو سننے اور دیکھنے آئے تھے۔ اور اس کے علاوہ مریم نوازکو بھی……  چونکہ پیپلزپارٹی کا یومِ تاسیس بھی تھا اس لئے جیالوں کی بن آئی تھی۔ کالج کی ٹیچری کے دوران ہم نے ملتان میں ایک سال گزارا تھا اس لئے گھنٹہ گھر اور درگاہ کا جغرافیہ ازبر تھا۔ گھنٹہ گھر کی سپیس گو محدود تھی اور روشنی اور سٹیج وغیرہ کا بھی کوئی انتظام نہ تھا لیکن کنٹینر کو سٹیج بنا کر اندھیرے اجالے میں یہ جلسہ واقعی ایک کامیاب جلسہ تھا۔ سلپیس (Slips)تو آصفہ بھی پڑھ رہی تھیں اور مریم نواز بھی لیکن مریم نوازکی ڈلیوری قابلِ صد تحسین تھی۔ اوپر لکھ آیا ہوں کہ ملتان کے عوام شاید انہی خواتین کو سننے آئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ میاں نوازشریف کو تقریر کا فن فوج نے سکھایا لیکن مریم نواز کو کس نے سکھایا؟ انہوں نے ایک قلیل عرصہ میں اس فن کو نہ صرف سیکھا بلکہ اس میں تاثیر و تاثر پیدا کیا۔ پرچیاں ان کے سامنے ضرور رکھی تھیں لیکن ان کی ادائیگیء حروف و الفاظ اور لہجے کا اتار چڑھاؤ اپنے والد سے بھی سِوا تھا۔ مجھے یقین ہے میاں نوازشریف لندن بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے کہ اگرچہ ملتان کی زمستانی ہواؤں میں شمشیر کی تیزی تھی لیکن ان کی صاحبزادی جس بے ساختگی، برجستگی اور روانی سے خطاب کر رہی تھیں وہ گویا ’حاصلِ مشاعرہ‘ غزل تھی۔ مولانا فضل الرحمن چونکہ صاحبِ صدر تھے اور سب سے بڑے ’شاعر‘ بھی تھے اس لئے سب سے آخر میں سٹیج پر نمودار ہوئے۔ لیکن ان کا رنگ بھی پھیکا پھیکا بلکہ پھسپھسا تھا۔ 

حکومتِ پنجاب اول اول اس جلسے کو ناکام بنانے پر تلی ہوئی تھی…… پورا ہفتہ بلند بانگ دعوے کئے جاتے رہے، پولیس فورس ملتان میں اکٹھی کی جاتی رہی۔ قلعہ کہنہ قاسم باغ کے گیٹوں کو تالے لگائے جاتے رہے، کنٹینروں سے آمد و رفت کے راستے مسدود کئے جاتے رہے، یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے کو حوالات کے حوالے کیا جاتا رہا اور مقامِ جلسہ میں پانی چھوڑنے کی خبریں بھی نشر کی جاتی رہیں لیکن آخر کار جب سب تدبیریں الٹی ہو گئیں اور کسی دوا نے کام نہ کیا تو اچانک آئی جی پنجاب کا بیان آیا کہ مظاہرین کو نہ روکا جائے، تمام کنٹینرزوغیرہ ہٹا دیئے جائیں اور گیٹ کھول دیئے جائیں لیکن  یہ کشادگیء قلب و نظر اور یہ دریا دلی بھی بُری طرح فلاپ ہو گئی۔ لوگ جوق در جوق آئے اور جلسہ گاہ کے اندھیرے اجالے میں چکاچوند کا سماں پیدا کر دیا!……

میرا خیال ہے، حکومت 13دسمبر کے لاہوری جلسے میں اپنی اس ملتانی ناکامی کو دہرانے کا ارتکاب نہیں کرے گی۔ شبلی فراز بار بارکہہ رہے ہیں اور فردوس عاشق اعوان بھی کئی بار فرما چکی ہیں کہ اپوزیشن جتنے مرضی ہے جلسے کر لے…… اگر حکومتی موقف یہ ہے تو پھر ان جلسوں کو روکنے یا ان میں رکاوٹیں کھڑی کرکے دودھ میں مینگنیاں ڈالنے سے کیا حاصل ہوگا؟……میں ان کالموں میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ نوازشریف بالکل ٹھیک کہتے ہیں کہ ان کا مقابلہ عمران خان کی حکومت سے نہیں، حکومت لانے والوں سے ہے…… یعنی اپوزیشن، فوج اور عدلیہ کو للکار رہی ہے۔

کسی بھی ملک کی اپوزیشن اپنی فوج اور عدلیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ عوام تو اپنا فیصلہ 2018ء میں دے چکے ہیں۔ اس لئے جوں جوں یہ جلسے ہوں گے توں توں اپوزیشن بے نقاب ہوتی جائے گی۔ اس کی سٹرٹیجی Faultyہے۔ اس کو اپنی حکمتِ عملی پر از سر نو غور کرنا چاہیے۔ اب بھی اڑھائی برس باقی ہیں، کوئی متبادل نقطہ ء نظر، متبادل ترقیاتی پروگرام اور متبادل فلسفہء حکمرانی سامنے لانا چاہیے۔ صرف مہنگائی پر فوکس کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ عوام فاقوں سے نہیں کورونا سے زیادہ مریں گے۔ اس لئے اب بھی وقت ہے کہ جلسے جلوس ختم کریں اور کوئی نیا ’پنچ سالہ منصوبہ‘ سامنے لائیں۔ لوگوں کا کیا ہے۔ جتنے لوگ ان جلسوں میں اکٹھے ہوتے ہیں اتنے تو میلوں ٹھیلوں میں بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ ’انبوہی کلچر‘ اس امر کا ثبوت کبھی نہیں ہوتا کہ وہ طاقت کے ایوانوں میں جا گھسے گا اور تخت نشینوں کو بے دخل کر دے گا۔ یہ منظر تو 1789ء میں انقلابِ فرانس میں بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ لوئی چہار دہم کے بعد عوام الناس کو نپولین بونا پارٹ جیسا ڈکٹیٹر ملا تھا جو جلد ہی شہنشاہِ فرانس بن گیا تھا اور اسے عوام نے شکست نہ دی بلکہ واٹرلو کے میدان میں جنرل ولنگٹن نے شکست دی…… لیکن بندہ پوچھے پی ڈی ایم کا جنرل ولنگٹن کہاں ہے؟…… اپوزیشن کے رہنماؤں کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمن کو کیا خبر کہ تاریخِ انقلاب کیا ہے!

مولاناؤں کا کام تو تبلیغ و ترویجِ دین ہے، سیاست نہیں۔ علمائے دین، سیاسی اکابرین کے مشیر تو ہو سکتے ہیں، خود سیاسی اکابر نہیں بن سکتے۔ دین اور سیاست دو الگ چیزیں ہیں۔ اقبال نے ”جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“ والا شعر ایک مختلف سیاق و سباق میں کہا تھا۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ لوگ اس کا وہ مطلب نکال لیں گے جو عموماً کوتاہ نظر شارحینِ اقبال نکالتے ہیں۔ ان کے اس شعر پر بھی غور کیجئے اور دیکھئے کہ اقبال نے کس دین اور کس سیاست کی بات کی تھی:

کر سکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی

اے پیرِ حرم! تیری مناجاتِ سحر کیا؟

پیرِ حرم(مولانا) کو زندہ رہنے کے لئے منا جاتیں اور دعائیں نہیں، معرکہ ہائے جنگ و جدال اور کُشت و قتال لڑنے پڑتے ہیں۔ پاکستان میں جیشِ محمدؐ اور سپاہِ صحابہ نے پاکستان کو کیا فائدہ اور کیا نقصان پہنچایا۔ یہ ایک طویل داستان ہے۔ اس لئے میں نے عرض کیا ہے کہ دین اور سیاست کو الگ الگ رہنا چاہیے۔ آنحضورؐ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری 10برس جنگ و جدل میں گزارے۔ اس دوران تبلیغِ دین کی شعوری کاوشیں بیک برنر پر رکھ دی گئی تھیں۔ لیکن انہی 10برسوں میں دینِ مبین کا پھیلاؤ مولاناؤں کا نہیں مجاہدوں کا مرہونِ احسان رہا۔ مولانا اور مجاہد کا ایک شخصیت میں جمع ہو جانا محالات میں سے تو نہیں لیکن از بس مشکل ضرور ہے اور اقبال نے اسی طرف اشارہ کیا تھا: ’ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور‘ والا شعر اور اس قبیل کے دوسرے بہت سے اشعار اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ ملاؤں کا کام اذان دینا اور دین کی تبلیغ کرنا ہے۔ یہ کام اگرچہ جہاد سے بھی کڑا ہے لیکن اس کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔

ملتان کے جلسے کے آخر میں مولانا فضل الرحمن سے دعا کی اپیل کی گئی۔ خدا سے درخواست کی گئی کہ جو کچھ اس جلسے کے مقررین نے اپنی تقاریر میں کہا ہے، اس کو شرفِ قبولیت سے نوازا جائے۔ سٹیج پر موجود تمام خواتین و حضرات نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو مجھے پاک پتن میں درگاہ بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے مولانا عبدالحق یاد آئے جو درگاہ کی جامعِ مسجد کے پیرِ حرم بھی تھے۔ میں جمعہ کی نماز بالعموم اس مسجد میں جا کر ادا کیا کرتا تھا۔ مولانا پنجابی زبان میں دعا مانگا کرتے تھے۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ ابھی نہیں ہوئی تھی لیکن انڈیا کی وزیراعظم اندرا گاندھی بین الاقوامی سپورٹ کے لئے دنیا کے کئی ملکوں کے دورے پر تھیں۔ پاکستان کے خلاف ان کی زہر افشانی زبان زدِ خاص و عام تھی۔ اس پس منظر میں مولانا عبدالحق نے پنجابی میں بعد از نمازِ جمعہ جو دعا مانگی ان کے چند جملے یاد آ رہے ہیں: ”پروردگارا، گاواں دا موتر پین والیاں نوں برباد کر…… انہاں دا خانہ خراب تے بیڑا غرق کر…… ایہہ جہیڑی زنانی اندرا گاندھی غیر ملکاں وچ جا جا کے راتاں گزار دی اے تے امداداں منگدی پھر دی اے ایہندا متّھا ڈَمّ چا“……

اس کے بعد مولانا نے جوشِ خطابت میں More overبھی کہا جس کو نقل نہیں کیا جا سکتا لیکن نتیجہ ہوا کیا…… ہوا یہ کہ اسی ’زنانی‘ نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا…… البتہ یہ سوال قابلِ غور ہے کہ بنگلہ دیش، اندرا گاندھی نے بنایا یا جنرل اجیت سنگھ اروڑہ اور فیلڈ مارشل مانک شا نے؟…… مولانا فضل الرحمن اس سوال کے جواب پر غور کریں!!

مزید :

رائے -کالم -