یہ اعلیٰ سطح کی لا قانونیت ہے کہ زندہ شخص کومردہ لکھ دیاگیا، چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ ڈی جی ایف آئی اے پر برہم 

یہ اعلیٰ سطح کی لا قانونیت ہے کہ زندہ شخص کومردہ لکھ دیاگیا، چیف جسٹس ...
یہ اعلیٰ سطح کی لا قانونیت ہے کہ زندہ شخص کومردہ لکھ دیاگیا، چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ ڈی جی ایف آئی اے پر برہم 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آ ن لائن)لاہورہائیکورٹ نے ملزم کوگرفتارنہ کرنے سے متعلق کیس میں ڈی جی ایف آئی اے کی طرف سے غیرمشروط معافی کی استدعا منظور کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی،چیف جسٹس قاسم خان نے ڈی جی ایف آئی اے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اس ملک سے کرائم کیسے ختم ہوگا؟،افسرشاہی مکھیاں مارنے پربیٹھی ہے،افسرشاہی کے باعث عدالتوں میں کیسزکی تعدادبڑھ رہی ہے،یہ اعلیٰ سطح کی لا قانونیت ہے کہ زندہ شخص کومردہ لکھ دیاگیا۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں ملزم کوگرفتارنہ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،وکیل درخواست گزار نے کہاکہ میری شکایت کاازالہ ہوگیا،عدالت کے حکم پرڈی جی ایف آئی اے واجدضیاپیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ڈی جی ایف آئی اے کی طرف سے غیرمشروط معافی مانگ لی۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ قاسم خان نے کہاکہ اس ملک سے کرائم کیسے ختم ہوگا؟،افسرشاہی مکھیاں مارنے پربیٹھی ہے،افسرشاہی کے باعث عدالتوں میں کیسزکی تعدادبڑھ رہی ہے،یہ اعلیٰ سطح کی لا قانونیت ہے کہ زندہ شخص کومردہ لکھ دیاگیا،ڈائریکٹر نے کہاکہ غلطی فہمی کے باعث ڈی جی ایف آئی اے کواطلاع نہ دے سکا،عدالت کاڈائریکٹرایف آئی اے پرناراضی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اپنی کارگزاریوں کو چھپانے کیلئے اعلیٰ افسران کوآگاہ نہیں کیاجاتا،عدالت نے درخواست مو¿ثرقراردے کرنمٹادی ۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -