تلور کے شکار کے مخالف عمران خان کی حکومت نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو شکار کھیلنے کی اجازت دیدی 

تلور کے شکار کے مخالف عمران خان کی حکومت نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ...
تلور کے شکار کے مخالف عمران خان کی حکومت نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو شکار کھیلنے کی اجازت دیدی 

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن ) وفاقی حکومت نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی حکمران خاندان کے دیگر 2 اراکین کو سال 21-2020 کے شکار سیزن میں بین الاقوامی تحفظ کے حامل پرندے تلور کے شکار کا اجازت نامہ جاری کر دیاہے ۔

مقامی اخبار ”ڈان “ کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیاہے کہ دیگر دو شکاری گورنرز ہیں جن میں سے ایک نادہندہ ہیں کیوں کہ انہوں نے گزشتہ برس شکار کی فیس ادا نہیں کی تھی۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ شکاریوں کو بلوچستان اور پنجاب کے مخصوص علاقوں میں شکار کی اجازت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حالانکہ وزارت خارجہ کی جانب سے پروٹوکول اور سرکاری درجہ بندی کا خیال رکھنے کی توقع تھی تاہم اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے کو بھیجی گئی شکاریوں کی فہرست میں سب سے طاقتور شخص اور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا نام سب سے نیچے درج تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم عمران خان اپوزیشن میں تھے تو وہ تلور کے شکار کے اجازت نامے دینے پر اس وقت کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا میں اس کے شکار کی اجازت نہیں دی تھی لیکن اب سعودی عرب کے شکاریوں کو اجازت دے دی گئی۔ذرائع کے مطابق 16 اکتوبر 2020 کو جاری کیے گئے اجازت ناموں کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، وزیر دفاع اور نائب وزیراعظم کو پنجاب کے ضلع لیہ اور بھکر میں شکار کی اجازت دی گئی۔اسی طرح تبوک کے گورنر فہد بن سلطان بن عبدالعزیز السعود کو ضلع آوران، ضلع نوشکی اور ضلعی چاغی میں شکار کی اجازت دی گئی جبکہ حفر الباطن کے گورنر منصور بن محمد کے شکار کے لیے ڈیرہ غازی خان ضلع کو مختص کیا گیا۔

مزید :

قومی -