میر ظفراللہ جمالی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے واحد وزیر اعظم ، ان کے حالات زندگی پر ایک نظر

میر ظفراللہ جمالی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے واحد وزیر اعظم ، ان کے حالات ...
میر ظفراللہ جمالی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے واحد وزیر اعظم ، ان کے حالات زندگی پر ایک نظر

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے واحد وزیر اعظم تھے، انہوں نے 2002 سے 2004 تک بطور وزیر اعظم خدمات سرانجام دیں۔

میر ظفراللہ خان جمالی یکم جنوری 1944 کو بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی۔ بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچیسن کالج لاہور اورگورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔

صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وہ پاکستان کے واحد وزیراعظم تھے۔ ظفر اللہ جمالی کے تایا جعفر خان جمالی قائداعظم کے قریبی ساتھی تھے جنہیں ذوالفقار علی بھٹو اپنا سیاسی مرشد مانا کرتے تھے۔ ان کے چچا زاد بھائی میر تاج محمد جمالی (مرحوم) ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وفاقی وزیر رہے۔

پہلی دفعہ وہ 1970 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار کھڑے ہوئے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ 1977میں بلا مقابلہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔1982 اور 1985 میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1986 میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں پانی اور بجلی کے وزیر رہے۔ صدر جنرل محمد ضیاءالحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کیا تو میر ظفراللہ جمالی کو وزیر ریلوے لگا دیا۔ وہ دوبار بلوچستان کے نگران وزیر اعلی بنے۔

1999 میں نواز شریف کی جلاوطنی کے بعد جب مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تو جمالی مسلم لیگ (ق) کے جنرل سیکرٹری بنے۔ 21 نومبر 2002 کو وہ وزیراعظم منتخب ہوئے تاہم 5 سال پورے ہونے سے پہلے ہی 26 جون 2004 کووزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

میر ظفراللہ جمالی خود والی بال کے اچھے کھلاڑی اور کرکٹ اور ہاکی کے شوقین تھے۔ 2006سے 2008 تک وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اور مختلف ادوار میں انتخابی بورڈ کے رکن بھی رہے۔

2013 میں وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، انہوں نے ناموس رسالت کے معاملہ پر ن لیگ سے استعفی دیدیا تھا۔ 2018 میں انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔

گزشتہ کچھ عرصہ سے میر ظفراللہ جمالی دل اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، تین روز سے ان کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ صدراور وزیراعظم پاکستان سمیت اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -