آئی پی ایل میں غیر معروف کھلاڑی کتنے پیسے لے رہے ہیں؟ اعدادو شمار جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا

آئی پی ایل میں غیر معروف کھلاڑی کتنے پیسے لے رہے ہیں؟ اعدادو شمار جان کر آپ ...
آئی پی ایل میں غیر معروف کھلاڑی کتنے پیسے لے رہے ہیں؟ اعدادو شمار جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا

  

نئی دہلی (ویب ڈیسک) انڈین پریمیئر لیگ( آئی پی ایل ) کے اگلے سیزن کے کیلئے  'ریٹنشن پالیسی' کےتحت  فرنچائزز  نے 27 کھلاڑیوں کوبرقرار رکھا جس کے بعد کئی کھلاڑیوں کے معاوضے میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ 

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق فرنچائزز بھارتی کرکٹ ٹیم کے  نامور  کھلاڑیوں  جیسے کوہلی ، دھونی ، روہت کو  اپنی ٹیم میں برقرار رکھنے کیلئے کروڑوں روپے دیتی ہی ہیں۔تاہم اس سال کچھ ایسے  غیر معروف کھلاڑیوں کو بھی آئی پی فرنچائزز نے اپنی ٹیم میں برقرار رکھنے کیلئے ان کی تنخواہوں میں حیران کن اضافہ کردیا ہے۔

وین کٹیش(کولکتہ نائٹ رائیڈرز)

 حال ہی میں بھارتی کرکٹ ٹیم میں ڈیبیو کرنے والے آل راؤنڈر وین کٹیش راجاسیکرن ائیر کو 2021 میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے 20 لاکھ بھارتی روپے میں اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا ۔

تاہم  آئی پی ایل کے اگلے سیزن 2022 کے لیے کولکتہ نائٹ رائیڈرز  نے وین کٹیش کو حیران کن طور پر 8 کروڑ بھارتی روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

 روتو راج گیکواڈ (چنئی سپر کنگز)

اسی طرح 2021 میں چنئی سپر کنگز  نے بیٹر روتو راج گیکواڈ کو 20 لاکھ بھارتی روپے میں خریدا تھا تاہم اگلے سیزن کیلئے چنئی سپر کنگز  روتو راج کو 6 کروڑ بھارتی روپے دے گی۔

 اُمران ملک اور عبدالصمد(سن رائزز حیدرآباد)

اس کے علاوہ جموں و کشمیر کے فاسٹ بولر اُمران ملک اور بیٹر عبدالصمد جنھیں 2021 میں سن رائزز حیدرآباد نے 20،20 لاکھ بھارتی روپے میں اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا ،دونوں کو آئی پی ایل 2022 میں  سن رائزز حیدرآباد نے ٹیم میں برقرار رکھتے ہوئے  4،4 کروڑ بھارتی روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

عرش دیپ سنگھ(پنجاب کنگز)

اس کے علاوہ نوجوان بولر عرش دیپ سنگھ جنھیں 2021 میں پنجاب کنگز نے 20 لاکھ بھارتی روپے میں خریدا تھا وہی ٹیم اب انہیں 2022 میں 4 کروڑ روپے دے گی۔

واضح رہے کہ  اُمران ،عبدالصمد  اور  عرش دیپ  نے  اب تک بھارت کی طرف سے انٹرنیشنل ڈیبیو نہیں کیا ہے اور ان کا آئی پی ایل کا کیر یئر بھی مختصر ہے لیکن پھر بھی فرنچائزز نے ان کھلاڑیوں کو برقرار رکھتے ہوئے  ان کو کروڑوں روپے کا معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ جو کھلاڑی ریٹنشن پالیسی کے تحت اپنی فرنچائزز میں برقرار رہتے ہیں ان کا نام آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کی بولی میں شامل نہیں کیا جاتا۔

مزید :

کھیل -