"چیف جسٹس بھی قانون سے بالا تر نہیں" سپریم کورٹ نے واضح کردیا

"چیف جسٹس بھی قانون سے بالا تر نہیں" سپریم کورٹ نے واضح کردیا

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )  سپریم کورٹ نے  سندھ ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ چیف جسٹس بھی قانون سے بالا تر نہیں ۔

سپریم کورٹ میں  سندھ ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سمات ہوئی،  عدالت نے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو سندھ کے تمام اضلاع میں بھرتیوں کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کراچی کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں دوسرے اضلاع سے بھرتیاں کیوں کرنا پڑیں؟ ، کیا ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں ٹائپنگ کیلئے کوئی کراچی میں نہیں؟، یہ تاثر ہے کہ سندھ کی ماتحت عدلیہ میں کچھ بھرتیاں رشتہ داریوں کی بنیاد پر ہوئیں۔

رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ نے جواب دیا کہ بھرتیوں کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی منظوری چاہیے ہوتی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ میں بھرتیوں کا طریقہ کار شفاف اور میرٹ پر ہونا چاہیے، چیف جسٹس بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوتے،چیف جسٹس کو بھی قوانین کی پیروی کرنا ہوتی ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ سندھ کے بعض اضلاع میں سول ججز کی بھرتیوں کے ٹیسٹ کے پیپر لیک ہوئے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نےریمارکس دیے کہ ججز کی بھرتیوں کا طریقہ کار شفاف ہے، ایسی بات نہ کریں۔سپریم کورٹ نے کیس کی مزید  سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔

مزید :

قومی -جرم و انصاف -