طنز کا مقصد تلقین حقیقت ہوتا ہے اور حقیقت بلاشبہ ہمیشہ تلخ ہوتی ہے

طنز کا مقصد تلقین حقیقت ہوتا ہے اور حقیقت بلاشبہ ہمیشہ تلخ ہوتی ہے
طنز کا مقصد تلقین حقیقت ہوتا ہے اور حقیقت بلاشبہ ہمیشہ تلخ ہوتی ہے

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:67

اس جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ سالک نے اپنے تجربات و خیالات کو یقینا ایک مؤرخ کی واقعیت پسندی کے ساتھ سپرد قلم کیا ہے۔لیکن ادیب سالک مکمل طور پر غائب نہیں۔ تاریخ کی کتاب ہوتے ہوئے اس میں واحد متکلم کی قلبی کیفیت خوب صورتی سے بیان ہوئی ہے جو موضوع کو مؤثر بناتی ہے۔

بحیثیت مجموعی اس کتاب میں صدیق سالک کا انداز مورخانہ ہی ہے انہوں نے اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لیے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا بہت سے اہم مواقع پر سالک وہاں موجود تھے لیکن انہوں نے اپنی موجودگی کو ڈرامائی انداز سے پیش نہیں کیا۔

کتاب کے اسلوب میں درد مندی کا احساس ملتا ہے ایک ایسے درد مند شخص کی بے بسی کا احساس جس کے سامنے اس کی متاع حیات رفتہ رفتہ چھین رہی ہو۔یہ درد مندی ایک محب وطن پاکستانی کی آواز ہے جو وطن عزیز کے دولخت ہونے کا شاہد اور نوحہ خواں ہے۔ اس کتاب کے ذریعے سالک نے قوم کے سامنے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے المیے کے پس پردہ عوامل کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے۔

مزاح نگاری 

صدیق سالک کا شمار اُردوکے وسیع الجہات نثر نگاروں میں ہوتا ہے۔انہوں نے مزاح نگاری ‘ ناول نگاری‘ آپ بیتی اور تاریخ کے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔لیکن ان کی غالب شہرت مزاح نگار کے طور پر ہی سامنے آئی ہے۔ مزاح کے عناصر اگرچہ ان کی دوسری تحریروں میں بھی ملتے ہیں پر موضوع کے اعتبار سے انکی مکمل مزاحیہ کتاب فقط ”تادِم تحریر“ ہے۔

تصور مزاح:

صدیق سالک کے تصورمزاح پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ بیشتر ان کا مزاح مثبت تعمیری اور صحت مند سوچ کا حامل ہے۔ وہ مزاح برائے مزاح کے قائل نہیں۔ان کے مزاح اور طنز کے پیچھے فرد اور معاشرے کی اصلاح کا جذبہ کارفرما نظر آتا ہے۔ وہ معاشرے کی منفی اقدار کی نشاندہی بہت دوستانہ انداز میں کرتے ہیں اس معاملے میں ان کارویہ نفرت کا نہیں بلکہ ہمدردی کا ہے۔

وہ مزاح نگاری میں شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے بیشتر ان کا مزاح عریانیت‘ لذتیت ‘ پھکڑ پن‘ رکاکت اور ابتذال سے پاک ہے۔

مزاح کے ساتھ طنز کی اہمیت سے بھی وہ بخوبی آگاہ ہیں۔صدیق سالک کے ہاں طنز اور مزاح کا تناسب مختلف مواقع پر مختلف ہے۔ بحیثیت مجموعی ان کی مزاح نگاری کا انداز مثبت طرز فکر کا حامل ہے۔

طنز و مزاح کی آمیزش:

صدیق سالک کے ہاں طنز اور مزاح کا تحزیہ کرنے سے قبل طنز و مزاح کی تعریف اور فرق کی وضاحت کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ صدیق سالک کے ہاں ان دونوں عناصر کی کارفرمائی کا صحیح طور پر اندازہ کیا جا سکے۔

مزاح اور طنز کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مزاح کسی مضحک صورتحال پر یا کسی عام سی بات سے مضحک پہلو نکالنے کا نام ہے۔ طنز فردیا معاشرے کی منفی اقدار کی نشاندہی برائے اصلاح کا نام ہے۔اس لیے طنز کاکام مزاح کی نسبت زیادہ مشکل ہے مختلف نقادوں نے طنز کی تعریف یوں کی ہے۔

ڈاکٹر وزیر آغا کے مطابق:

 ”دراصل طنز کی تخریبی کارروائی صرف ناسور پر نشتر چلانے کی حد تک ہے اس کے بعد زخم کا مندمل ہوجانا اور فردیاسوسائٹی کا اپنے فرض سے نجات حاصل کر لینا یقیناً اس کا بڑا کارنامہ ہے۔ لیکن طنز کے لیے ضروری ہے کہ یہ مزاح سے بیگانہ نہ ہو بلکہ کونین کو شکر میں لپیٹ کر پیش کرے۔

رشید احمد صدیقی کے بقول:

”طنز کا مقصد تلقین حقیقت ہوتا ہے اور حقیقت بلاشبہ ہمیشہ تلخ ہوتی ہے۔اس تلخی کو ایسے الفاظ میں بیان کرنا کہ اس سے شخص اور سماج کو تو کم نقصان پہنچے لیکن غیر شعوری طور پراس کی اصلاح ہو جائے کہ جس پروار کیا گیا ہے حقیقی طنز ہے“۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -