اس کے پاس ضائع کرنے کےلئے وقت کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں

 اس کے پاس ضائع کرنے کےلئے وقت کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں
 اس کے پاس ضائع کرنے کےلئے وقت کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:93

یورگس نے یہ سب گھر والوں کے سامنے رکھ دیا۔ اس علاقے میں جہاں، کہنے ہی کو سہی، اس کا گھر تھا، دوست تھے، اب کام کا ہر امکان اس پر بند ہو چکا تھا۔ یہ اس کے لیے گھر سے بے دخل کیے جانے کے برابر ہی تھا۔

وہ اور دونوں عورتیں سارا دن اور آدھی رات تک اس پر بات کرتے رہے۔مناسب تو یہ تھا کہ وہ بھی شہر میں رہنے لگیں جہاں ان کے بچے کام کرتے تھے لیکن ماریا کی حالت بہتر ہونے لگی تھی اور امید تھی کہ اسے یارڈز میں کام مل جائے گا۔ اگرچہ ان کے برے حال کی وجہ سے اس کا پرانا محبوب اب مہینے میں ایک بار بھی ملنے نہیں آتا تھا لیکن پھر بھی وہ اسے مستقل کھونا نہیں چاہتی تھی۔ الزبیٹا نے بھی کسی سے ڈرہم کے دفاتر میں فرش صاف کرنے کی ملازمت کے متعلق سنا تھا اور اب ہر روز نوکری ملنے کا انتظار کرتی تھی۔ ایسا تو کوئی رہا نہیں تھا جس سے یورگس ادھار لے سکتا۔ بھیک مانگنے میں پولیس کی گرفتاری کا ڈر تھا چنانچہ طے یہ ہوا کہ وہ روز بچوں سے مل کر ان سے گزارے کے لیے 15سینٹ لے لیا کرے اور سارا دن در در پھر کر دوسرے ہزاروں لوگوں کی طرح کام ڈھونڈتا رہے۔رات کو وہ کسی کی دہلیز پر یا کسی ٹرک کے نیچے لیٹ جاتا۔ آدھی رات گزرنے پر وہ کسی اسٹیشن ہاؤس میں جاتا اور فرش پر اخبار بچھا کر شراب اور تمباکو کی بدبو کے بھبکے چھوڑتے، جوؤں اور بیماریوں سے بھرے بھکاریوں اور اُچکّوں میں جا کر لیٹ جاتا۔

وہ مزید2ہفتے مایوسی کے عفریت سے لڑتا رہا۔ ایک روز اسے آدھے دن تک ایک ٹرک پر سامان لادنے کا کام مل گیا، ایک بار اس نے ایک عورت کا سامان ڈھویا اور اسے چوتھائی ڈالر مل گیا جس کی وجہ سے وہ کئی دن تک کرائے کی قیام گاہ میں سو سکا ورنہ ڈر تھا کہ باہر وہ ٹھنڈ میں جم کر مر جائے گا۔کبھی کبھی وہ اخبار خرید کر اس میں نوکری کے اشتہار پڑھتا لیکن اس کام میں صرف وقت کا زیاں ہی ہوتا تھا۔ ان میں سے آدھے اشتہار جھوٹ ہوتے تھے جو بے بس اور جاہل بے روزگاروں کو پھانسنے کے لیے چھاپے جاتے تھے۔ یورگس کا وقت ضائع ہوتا کیوں کہ اس کے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں۔ اگر کوئی ایجنٹ اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اسے یقین دلانے کی کوشش کرتا کہ اس کے ہاتھ میںایک بہترین نوکری ہے تو یورگس افسوس کے ساتھ سر ہلا کر اسے بتاتا کہ اس کے پاس ایجنٹ کو دینے کے لیے 1 ڈالر نہیں ہے۔ ایجنٹ اسے بتاتے کہ وہ اور اس کا خاندان تصویروں میں رنگ بھر کر اچھی رقم کما سکتے ہیں لیکن اس کے لیے پہلے2 ڈالر ادا کرنے پڑیں گے۔

آخر یورگس کو پرانے یونئین کے زمانے کے ایک واقف کے ذریعے ایک موقع ہاتھ آگیا۔ وہ ہارویسٹر ٹرسٹ کی بڑی فیکٹری میں کام ڈھونڈنے جا رہا تھا کہ یہ واقف مل گیا اور اس نے کہا کہ یورگس اس کے ساتھ آجائے وہ اپنے باس سے اس کی سفارش کر دے گا۔ یورگس چار پانچ میل چل کر وہاں پہنچا اور اپنے دوست کی ہمراہی میں بے روز گاروں کی لمبی قطار میں کھڑا ہو گیا۔ جب اس کی ٹانگیں جواب دینے کو تھیں تو فور مین نے اس کا جائزہ لے کر کہا کہ وہ اسے کام دے سکتا ہے۔

اس بات کی یورگس کو رفتہ رفتہ سمجھ آئی کہ ہارویسٹر ورکس وہ جگہ تھی جس کی مثال مصلحین اور انسان دوست گروہ دوسروں کو فخر سے دیتے تھے۔ یہاں ساری ورک شاپس بڑی اور کھلی تھیں، وہاں ایک بڑا ہوٹل تھا جہاں ملازم اچھا کھانا سستے داموں خرید سکتے تھے، حتیٰ کہ اس میں مطالعے کے لیے بھی ایک کمرا تھا۔ عورتوں کے آرام کے لیے الگ صاف ستھری جگہ تھی۔ سٹاک یارڈز کے برعکس یہاں گندگی اور غلاظت بھی نہیں تھی۔ یورگس ان سہولتوں کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اسے یہ جگہ جنت لگنے لگی۔

یہ کارخانہ160 ایکڑ پر قائم تھا جس میں 5ہزار ملازم کام کرتے تھے۔ یہاں1 سال میں3 لاکھ مشینیں بنتی تھیں جو پورے ملک میں فصل کی کٹائی میں استعمال ہوتی تھیں۔ یورگس کو سارا کارخانہ دیکھنے کا موقع نہیں ملا کیوں کہ یہاں بھی سٹاک یارڈز کی طرح ہر آدمی اپنے مخصوص شعبے میں کام کرتا تھا۔ مشین کا ہر پرزہ الگ شعبے میں بنایا جاتا تھا۔ یورگس جس شعبے میں کام کرتا تھا وہاں ایک مشین سٹیل کے ٹکڑوں کو 2 مربع انچ کے سائز میں کاٹتی تھی۔ یہ کٹے ہوئے ٹکڑے ایک ٹرے میں باہر آتے جہاں انھیں اٹھا کر ترتیب سے قطاروں میں رکھنا ہوتا تھا اور وقتاً فوقتاً یہ ٹرے تبدیل کرنی ہوتی تھیں۔ اس کام پر صرف ایک لڑکا مقرر تھا جسے اپنے کام کا دھیان رکھنا ہوتا تھا۔ سٹیل کٹنے اور گرنے کی آواز سے یوں لگتا تھا جیسے کوئی ٹرین چل رہی ہو۔ اس مشین کو ممکنہ تیز ترین رفتار پر سیٹ کیا جاتا تھا تاکہ ملازم کے ہاتھ فارغ یا کاہل نہ رہ سکیں۔ اس ملازم کو روزانہ کے30 ہزار اور سالانہ نو دس ملین ٹکڑے سنبھالنے ہوتے تھے۔ اس کے قریب ہی مزدور سان کے پتھروں پر جھکے ان ٹکروں کو کٹائی کے لیے حتمی شکل دینے میں جٹے ہوتے۔ وہ دائیں ہاتھ سے ایک ٹکڑا اٹھاتے اسے سان پر پہلے ایک طرف سے پھر دوسری طرف سے رگڑ کر تیز کرتے پھر بائیں ہاتھ سے دوسری ٹوکری میں ڈال دیتے۔ ان میں سے ایک آدمی نے یورگس کو بتایا کہ وہ 13سال سے روزانہ سٹیل کے 3 ہزار ٹکڑے تیز کر تا ہے۔ اگلے کمرے میں جو مشین تھی وہ اسٹیل کی لمبی سلاخیں آہستہ آہستہ نگلتی جاتی تھی۔ ان کی کٹائی، سائز، سِروں کی بنائی، پسائی اور پالش وہیں ہوتی تھی۔ ان سے ہارویسٹروں کو کسنے کا کام لیا جاتا تھا۔ ایک مشین پر ان بولٹوں کو باندھنے کی پتلی تاریں بنائی جاتی تھیں۔ ایک حصے میں تمام پرزوں کو رنگنے کا کام ہوتا تھا۔ رنگ سوکھنے پر انھیں دوسرے کمرے میں لے جایا جاتا جہاں مزدور ان پر سرخ اور پیلی لکیریں لگاتے تاکہ یہ مشینیں کھیتوں میں کٹائی کے دوران خوب صورت دکھائی دیں۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -