جنیوا میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے والے روسو کو ہمیشہ فرانسیسی سمجھا گیا

جنیوا میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے والے روسو کو ہمیشہ فرانسیسی سمجھا گیا
جنیوا میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے والے روسو کو ہمیشہ فرانسیسی سمجھا گیا

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:50

روسو

 وہ جو تادم آخر اپنی ہر کتاب پر یہ لکھ کر دستخط کرتا رہا،”ڑاں ڑاک روسو… جنیوا کا شہری“ وہ فرانسیسی انقلاب کے دوران انقلاب کا سب سے زیادہ پاپولر فلسفی بن کر ابھرا اور اپنی موت کے سولہ سال بعد اسے فرانس کے نیشنل ہیرو کا رتبہ عطا کیا گیا۔ وہ28 جون1716ءمیں جنیوا(Geneva) میں پیدا ہوا، جو اس وقت ایک سٹی اسٹیٹ (City State) تھا۔

 عجیب بات یہ ہے کہ جنیوا میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے والے روسو کو ہمیشہ فرانسیسی سمجھا گیا اور اس کے ہم عصر فرانسیسی فلسفی والٹیئر کے ساتھ بریکٹ کیا گیا۔ والٹیئر کے ساتھ اس کے تعلق کا ماجرا تو ذرا دیر بعد میں بیان ہوگا، مگر جہاں تک اس کی شہریت کا معاملہ ہے، اس کا بیک وقت جنیون(Genevan) اور فرانسیسی ہونا غلط بھی ہے اور درست بھی۔

 صورت حال یہ ہے کہ وہ ایک فرانسیسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے جو 1569ءمیں فرانس سے جنیوا ہجرت کر جانے پر مجبور ہوگیا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب اس کے خاندان نے نیا نیا انقلابی اور پرجوش پروٹسٹنٹ مذہبی عقیدہ اختیار کیا تھا۔ فرانس کا سرکاری مذہب کیتھولک تھا۔ قوانین بھی اسی عقیدے کے تحت تھے۔ یہ سولہویں صدی کا قصہ ہے، آج کے فرانس کی بات نہیں۔ فرقہ وارانہ نفرتیں اپنے عروج پر تھیں۔ رواداری کا کوئی تصور موجود نہیں تھا اور نیا عقیدہ رکھنے والوں کو بدعتی قرار دے کر ہر طرح کا جبر روا رکھا جاتا تھا۔ سو، روسو کے خاندان نے جنیوا کا رخ کیا، جو اس وقت مسیحیت کی نئی تاویل کا مرکز بنا ہوا تھا اور مذہبی پناہ گزینوں کی جنت سمجھا جاتا تھا۔

 اس کے باپ کا نام ایزک روسو(Isacc Rousseau) ہے، جس کا پیشہ روایتی طور پر اپنے باپ دادا کی طرح گھڑی سازی تھا۔ ماں کا نام سوزین بنارڈ(Suzanne Bernard) ہے۔ وہ بالائی طبقے سے تعلق رکھتی تھی اور اس کا باپ پادری بتایا جاتا ہے۔ شادی کے وقت اس کی عمر31سال تھی۔ روسو سے پہلے اس نے ایک بیٹے فرانکوئیس(Francois) کو جنم دیا تھا، مگر روسو کی پیدائش نے اس کی جان لے لی۔ وہ روسو کی پیدائش کے چند دن بعد انتقال کر گئی۔ روسو نے اپنی کتاب”اعترافات“ میں لکھا،”میں اپنی ماں کی موت کا پیغام لایا۔ میرا جنم میری پہلی بدقسمتی ہے۔“

اپنی ماں کی وفات کے8 سال بعد تک وہ اپنے باپ کے کافی قریب رہا۔ آئزک سیر و سیاحت کا شوقین، بے چین روح رکھنے والا، جذبات پرست، آزادی پسند، متلون مزاج اور کسی قدر جھگڑالو قسم کا آدمی تھا۔ فطری طور پر روسو نے بھی اپنے والد سے یہ اثرات اخذ کیے۔ اس کی ماں مرتے وقت کافی کتابیں چھوڑ گئی تھی، جو اسے اپنے پادری باپ سے ملی تھیں۔ روسو کے نانا کے انتقال کے بعد اس کی باقی کتابیں بھی روسو کو مل گئیں۔8 سال کی عمر تک روسو کی باقاعدہ تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں ہوا، مگر اس کا مداوا اس کے باپ نے اس طرح کیا کہ ایک عرصہ تک دونوں باپ بیٹا باقاعدگی کے ساتھ رات کے کھانے کے بعد مشترکہ مطالعے سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ روسو”اعترافات“ میں لکھتا ہے:

”ہر رات کھانے کے بعد ہم میں اور میرا والد“ رومانوی کہانیوں کی وہ کتابیں پڑھتے تھے جو میری ماں کے زیر مطالعہ رہتی تھیں۔ میرے والد کا ارادہ صرف مجھے پڑھنے میں رواں کرنا تھا… ہم باری باری تمام رات پڑھتے رہتے۔ کبھی کبھار تو صبح چڑیوں کے چہچہانے پر میرے والد شرمندہ ہو کر کہتے، چلو اب سو جائیں، میں بھی تمہارے ساتھ بالکل بچہ بن گیا ہوں۔“

وہ مزید لکھتا ہے:

”مطالعے کی اس عادت کی وجہ سے میں جلد ہی دوسری چیزیں باآسانی پڑھنے اور سمجھے لگا۔ اور ایسے جذبات سے آگاہ ہوگیا جو میری عمر کے حساب سے غیر موزوں تھے۔“

اگرچہ دونوں باپ بیٹا بعد میں سوانح عمریوں میں بھی دلچسپی لینے لگے، خاص طور پر پلوٹارک نے تو روسو کا دل جیت لیا، مگر اوپر بیان کیے گئے فقرے میں روسو قبل از وقت پیدا ہونے والے شہوانی خیالات کاذکر کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے:

”میرے بچپن کسی بچے جیسا نہ تھا۔ میرے احساسات اور خیالات ہمیشہ بالغ مرد جیسے رہے۔“(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -