حکومت کو درخواست دینے کی ضرورت کیوں پڑی ؟عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں عدالت کااستفسار

حکومت کو درخواست دینے کی ضرورت کیوں پڑی ؟عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس ...
حکومت کو درخواست دینے کی ضرورت کیوں پڑی ؟عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں عدالت کااستفسار

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سپریم کورٹ  میں سماعت ہوئی ،  عدالت نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ توہین عدالت کا معاملہ ملزم اور عدالت کے درمیان ہوتا ہے، حکومت کو  توہین عدالت کی درخواست دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟۔

تفصیلات کے مطابق  چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے عمران خان کے خلاف  توہین عدالت کی درخواست  پر سماعت کی ،  عمران خان کی جانب سے سلمان اکرم راجہ اور حکومت کی جانب سے  سلمان بٹ  عدالت میں پیش ہوئے، سماعت میں  عدالت نے کہا کہ ایجنسیوں کی رپورٹس موجود ہیں تو عدالت ان پر خود کارروائی کر سکتی ہے، اگر عدالت ضروری سمجھے گی تو توہین عدالت کی کارروائی کر لے گی جب کہ حکومت کو توہین عدالت کی درخواست دینے کی ضرورت کیوں پڑی؟

عدالت نے کہا کہ ایجنسیوں کی رپورٹس موجود ہیں تو عدالت ان پر خود کارروائی کر سکتی ہے، اگر عدالت ضروری سمجھے گی تو توہین عدالت کی کارروائی کر لے گی، حکومت کو توہین عدالت کی درخواست دینے کی ضرورت کیوں پڑی؟ عدالت نے سوال کیا کہ حکومت کیسے متاثرہ فریق ہے جو توہین عدالت کی کارروائی شروع کرائے؟  حکومت صرف معاونت کرسکتی ہے، فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ کن حالات میں کیا ہوا تھا، اس  پر وزار ت داخلہ  کے وکیل  نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی عدالتی فیصلے کا ہی تسلسل ہے۔

عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ڈی چوک ممنوعہ علاقہ ہے ؟ جس پر وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ  ڈی چوک ریڈ زون میں آتا ہے ، احتجاج کی ممانعت ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں انہیں عدالتی حکم کا علم ہی نہیں تھا، 25 مئی کو حالات کشیدہ تھے، 25 مئی کو مظاہرین کسی کے کنٹرول میں نہیں تھے۔

 اس موقع پر وزارت  داخلہ کے وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ ڈی چوک پر پہنچنے کی کال 24 مئی کو دے دی گئی تھی، عدالتی آرڈر عمران خان تک پہنچا اس سے متعلق پورا ریکارڈ موجود ہے، مواد کے ساتھ یو ایس بی بھی پیش کی ہے جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات ہیں ، پی ٹی آئی کی نیت ڈی چوک آنے کی ہی تھی، پی ٹی آئی نے عدالت کو یقین دہانی کرا کے رضامند کیا کہ راستے کھلوائے جائیں اور راستے کھلوانے کے بعد پی ٹی آئی اپنی یقین دہانی سے مکر کر ڈی چوک آ گئی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کو براہ راست کوئی یقین دہانی نہیں کرائی تھی، ثابت کرنا ہوگا کہ عمران خان کی ہدایت پر یقین دہانی کرائی گئی،  اگر کوئی غلط بیانی ہوئی ہے تو یہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری کی جانب سے ہوگی،اس لیے اگر توہین عدالت کی کارروائی ہوئی تو وہ بھی بابر اعوان اور فیصل چوہدری کے خلاف ہی ہوگی۔

 سماعت کے دوران حکومتی وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی دستیاب مواد پر شروع کی جائے، وزارت داخلہ معاونت کرے گی کہ توہین عدالت ہوئی ہے یا نہیں،  جس پر  چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت کے سامنے بہت زیادہ توہین عدالت کا مواد آیا ہے،  عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ  کیا ایسا مواد آیا ہے جس پرشو کاز نوٹس جاری کیا جائے؟۔

سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ عمران خا ن کے بیانات میں درست بات نہیں  کی گئی ، عدالت توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جارے کرے گی تو ٹرائل شروع ہو گا، جس پر جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں  ہے،   سلمان بٹ نے دلائل دیا کہ درخواست گزار بھی توہین عدالت کی کارروائی کا کہہ سکتے ہیں،  چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان نے بھی اپنے جواب داخل کیے ہیں ، عمران خان کہتے ہیں کہ ہدایات اسد عمر نے دی تھیں، سلمان بٹ نے بتایا کہ   عمران خان نے جواب میں جیمرز کی بات کی ہے، جیمرز صرف وفاقی حکومت لگا سکتی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس مظاہر نقوی  نے کہا کہ توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت نے حساس اداروں اور سیکیورٹی اداروں سے رپورٹ طلب کی تھی، جب سپریم کور ٹ نے لارجر بینچ بنایا تو عمران خان نے لانگ مارچ ختم کر دیا  تھا ، یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ جو لوگ ڈی چوک پہنچے ،کیا وہ لوگ لانگ مارچ کا حصہ تھے یا لوکل تھے؟،چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ عمران خان عدالتی حکم سے آگاہ تھے، ثابت کرنا ہے کہ عدالتی آرڈر کا علم ہوتے ہوئے خلاف ورزی کی گئی ، جسٹس مظاہر علی نقوی  نے کہا کہ یہ ایک احتجاج تھا اور حکومت کے خلاف تھاجسٹس یحیٰی آفریدی نے کہہ کہ وزارت داخلہ نے 12اکتوبرکر توہین عدالت کی درخواست کی تھی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -