خوراک کی پیداوار اور شہری زندگی کا آغاز وسط ایشیاءمیں مسیح سے 7 اور 8 ہزار سال قبل کے درمیانی عرصے میں ہوا

خوراک کی پیداوار اور شہری زندگی کا آغاز وسط ایشیاءمیں مسیح سے 7 اور 8 ہزار سال ...
خوراک کی پیداوار اور شہری زندگی کا آغاز وسط ایشیاءمیں مسیح سے 7 اور 8 ہزار سال قبل کے درمیانی عرصے میں ہوا

  

مصنف: سرمور ٹیمر وھیلر

ترجمہ:زبیر رضوی

قسط:1

تہذیب کا محدود ترین مفہوم شہروں میں رہنے کا قرینہ اور اس سے وابستہ سماجی اسالیت‘ ہنر اور تنظیم ہے۔ اس سے ملتی جلتی صورتحال کا ایک نمونہ وہ کھلے دیہات ہیں جو 4سے 5 ہزار سال قبل مسیح‘ شمالی عراق کی تلہٹیوں میں آباد تھے اور وہ خاصا بڑا قصبہ جو مغربی ترکی میں کوئنہ کے پاس‘ چتال ہیوک میں7 ہزار سال قبل مسیح یا اس سے پہلے موجود تھا‘ لیکن یہ مقالہ تحریر کیے جانے کے وقت تک جریکو ہی وہ قدیم ترین شہر (Town) ہے جو دفاعی انتظامات کے لیے سنگین دیوار مینار اور چٹان کو کاٹ کر بنائی گئی خندق کے لحاظ سے امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔

کاربن چودہ کے طریقے سے معین کردہ عہد کے مطابق یہ شہر لگ بھگ 8 ہزار سال قبل مسیح آباد تھا۔ جریکو‘ اردن کی خشک وادی میں واقع ایک دل پسند چشمے کے گرد دس بارہ ایکڑ رقبے میں پھیلا ہوا تھا‘ یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ وہاں بسے ہوئے لوگوں نے شروع ہی سے پانی کے اپنے قیمتی وسیلے اور اپنی محدود معیشت کے بچاﺅ کے لیے مضبوط حفاظتی انتظام کرنے کی ضرورت محسوس کی ہوگی۔ آئندہ جو تحقیق سے صورتحال کچھ اور نمایاں ہوگی۔

بہرحال جریکو پر‘ اس شہری حالت سے قبل کے اس گاﺅں کی حیثیت سے غور کیا جائے جو وسطی عہدِ سنگ آباد تھا‘ تو بھی امکان ہے کہ سماجی ارتقا کی کہانی میں اس شہر کی انتہائی اہمیت برقرار رہے گی۔

وسیع تر پہلو سے بھی جریکو سے ملنے والی معلومات کافی معقول ہیں۔ قدیم دنیا میں عام ترین قسم کے اناج (سوائے چاول کے) جس کا 1700 سال قبل مسیح سے زیادہ پہلے علم نہیں تھا گلّے والے‘ عام مویشی‘ جنگلی حالت میں مغربی ایشیا ءمیں‘ ہمالیہ اور بحرئہ روم کے درمیان پائے جاتے تھے۔

اس بات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر اناج کی کاشت سب سے پہلے اسی خطّے میں کی گئی اور یہ قدرتی امر ہے کہ اوّلین شہر‘ جن کا وجود بنیادی طور پر (فاضل) خوراک کی پیداوار پر منحصر تھا‘ وہیں آباد ہوئے‘ دوسرے لفظوں میں خوراک کی پیداوار اور شہری زندگی کا آغاز وسط ایشیاءمیں مسیح سے 7 اور 8 ہزار سال قبل کے درمیانی عرصے میں ہوا۔ (اس سلسلے میں امریکہ میں یا کسی اور جگہ میں بعد کے کسی زمانے میں علیٰحدہ طور پر خوراک کی پیداوار کا طریقہ ایجاد ہونے کا امکان زیرِبحث نہیں)۔

میں نے ابتدائی جریکو کے لیے شہر (Town) کا لفظ استعمال کیا ہے اور سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ جو آثار ملے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقام پر گھنی آبادی اور مضبوط تحفظاتی انتظامات تھے‘ اس سے یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ ایک ترقی یافتہ انتظامیہ کی تشکیل ہوچکی تھی لیکن اس وقت جریکو میں جس درجے کے طریق زندگی کا ہونا تسلیم کیا جاتا ہے‘ لفظ تہذیب کا عام مفہوم اس سے کچھ زیادہ کا حامل ہے۔ خاص طور سے اس میں حساب و کتاب کا ایک منظم طریقہ شامل ہے جس کے تحت آمدنی اور اجرتوں کا مناسب طور پر حساب رکھا جاسکے اور نظم و ضبط کے ساتھ حکومت چل سکے۔ اس لحاظ سے کسی نہ کسی طرح کے طرز تحریر کی موجودگی ایک ضروری شرط ہے۔ شاید جدید ذہن خواندگی کی اہمیت پر زیادہ سے زیادہ زور دینے پر مائل رہتا ہے (لیکن) یہ بات بھی یقینی ہے کہ وہ ذہن جو لکھ پڑھ نہیں سکتا‘ وہ حساب دانی اور یادداشت کے قابلِ ذکر اعجاز دکھا سکتا ہے۔ خیر اس بحث کو چھوڑیئے تحریر کو شہریت کی اہلیتوں میں من مانے طور پر شامل کر دینے سے کم از کم ایک سہل معیار ضرور قائم ہوجاتا ہے اور ہمارے طرزِفکر میں باقاعدگی آجاتی ہے۔

اس بنیاد پر اب بھی یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ تہذیب کا طلوع میسو پوٹیمیا (Mesopotimia) میں ہوا۔ جہاں مسیح سے3سے لے کر ساڑھے تین ہزار سال قبل قرن میں (ارک عہد میں) (Uruk period) مندروں کا حساب کتاب سب سے پہلے مٹی کی تختیوں پر کندہ تصویروں یا دیگر علامتوں کی صورت میں رکھا جاتا تھا۔ مقام اور وقت دونوں کے لحاظ سے یہ مناسب ہے کہ ہمالیہ کے جنوب میں تہذیب کے آغاز کا ایک جائزہ لینے میں میسو پوٹیمیا کو بنیادی حوالے کے طور پر استعمال کیا جائے۔

( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -