"قبول ہے" ڈرامہ دیکھ کر والدین کی خود کشی کے ذمہ داروں سے بدلہ لینے کیلئے خاتون کا اپنی ہی موت کا جھوٹا ڈرامہ،  دل  دہلا دینے والی تفصیلات سامنے آگئیں

"قبول ہے" ڈرامہ دیکھ کر والدین کی خود کشی کے ذمہ داروں سے بدلہ لینے کیلئے ...

  

لکھنؤ (ڈیلی پاکستان آن لائن)  نوئیڈا کی ایک 22 سالہ خاتون نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو قتل کرنے اور گرم تیل کا استعمال کرکے اس کا چہرہ بگاڑ کر اپنی موت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ پولیس نے بتایا کہ خاتون  جس کی شناخت پائل کے نام سے ہوئی ہے   کو 'قبول ہے' نام کا ٹی وی سیریل دیکھنے کے بعد جرم کو انجام دینے کا خیال آیا۔ اس جرم میں مبینہ طور پر اس کا شوہر اجے بھی اس کے  ساتھ تھا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 15 نومبر کو ہیملتا نامی خاتون کے لیے بسراکھ پولیس سٹیشن میں لاپتہ  کی رپورٹ درج کروائی گئی تھی۔ پولیس نے ہیملتا کا نمبر ٹریس کیا اور اس کے کال ریکارڈ میں اجے نامی شخص کا نمبر دریافت کیا۔ اس کے بعد پولیس نے اس کا نمبر ٹریس کر کے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس سے پوچھ گچھ کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ اجے اور اس کی بیوی پائل نے ہیملتا کا قتل کیا۔ اس جوڑے نے ہیملتا کو مار ڈالا اور اس کے چہرے پر ابلتا تیل ڈالا تاکہ اسے بگاڑ دیا جائے اور اسے ناقابل شناخت بنایا جا سکے۔ پائل نے پھر ہیملتا کو اپنے کپڑے پہنائے اور اسے اپنے   گھر میں پھینک دیا۔

پائل نے ہیملتا کی لاش کے پاس ایک نوٹ بھی چھوڑا جس میں اس نے لکھا کہ کھانا پکاتے ہوئے اس کا چہرہ جل گیا تھا اور اس نے اپنی جان لے لی کیونکہ اس کے چہرے کے بگڑنے کے بعد وہ زندہ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ اس کا منصوبہ اپنی موت کو جعلی بنانا تھا تاکہ وہ ان لوگوں سے بدلہ لے سکے جن کے بارے میں اس نے کہا کہ وہ اپنے والدین کی موت کے ذمہ دار ہیں۔

انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے، پائل نے کہا کہ اس کی بھابھی اور اس کی خالہ کا بیٹا 'اس کے والد کو ہراساں' کرتے تھے اور ان کے خلاف کیس دائر کرنے کی دھمکی دیتے تھے۔ اس نے بتایا کہ اس کے والدین نے اسی دباؤ سے اس سال مئی میں خودکشی کرلی تھی۔ پائل اور اس کے اہل خانہ نے خودکشی کے سلسلے میں چار لوگوں کے خلاف مقدمات درج کروائے تھے لیکن تین  لاکھ روپے خرچ کرنے کے بعد بھی انہیں سزا نہیں دی گئی۔ اس نے کہا کہ اس نے ہیملتا کے قتل کا ارتکاب کیا کیونکہ وہ اپنی خالہ کے بیٹے اور ان تمام لوگوں کو مارنا چاہتی تھی جن کو وہ  اپنے والدین کی موت کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔ پائل  نے کہا کہ اسے  اب قانون پر کوئی بھروسہ نہیں رہا۔ پائل نے  بتایا کہ اسے صرف اس بات کا افسوس ہے کہ اس کے والدین کے قاتل ابھی تک زندہ ہیں اور ان کی وجہ سے اس نے ایک بے گناہ کو مار ڈالا۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) شاد علی خان نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ پائل کو اس جرم کا خیال 'قبول ہے' نام کا ٹی وی سیریل دیکھنے کے بعد آیا۔ پائل اور اجے نے کئی مجرمانہ دستاویزی فلمیں بھی دیکھی تھیں۔ اپنے پلاٹ کے حصے کے طور پر، جوڑے نے کم از کم  ایسی 50 خواتین کے آن لائن پروفائلز کو دیکھا جو پائل کے قد سے مطابقت رکھتی  تھیں۔ اگر وہ دوسروں کو یہ باور کرانا چاہتی تھی  کہ اس  کی موت خودکشی سے ہوئی ہے تو دونوں خواتین کا قد ایک جتنا ہونا ضروری تھا۔

اجے کو ایک دوست کے ذریعے ہیملتا کے بارے میں معلوم ہوا اور جوڑے نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے منصوبے کے لیے سب سے موزوں ہے۔ 12 نومبر کو وہ ہیملتا سے ملا اور اسے پائل کے گھر لے گیا، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر اسے مار ڈالا۔ جرم کو انجام دینے کے بعد پائل اور اجے  نے 27 نومبر کو ایک دوسرے سے شادی کی۔

پولیس نے ہیملتا کے  ذاتی  سامان کے ساتھ پائل کے گھر سے قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار برآمد کرلیا ہے۔ پائل اور اجے کو پولیس نے جمعرات (یکم  دسمبر) کو گرفتار کرلیا تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -